تازہ تر ین

دینی علوم کو محفوظ رکھنے کا کام ہمارے علماءنے کیا

پیارے پڑھنے والے اورنگزیب عالمگیر کے بعد مغلوں کی اسلامی سلطنت کے ٹکڑے ہونے لگے اور کچھ عرصہ بعد انگریزوں نے جو تجارت کے بہانے آئے تھے کمپنی قائم کرکے اور مقامی عصبیتوں کو جگاکر ہندوستان کے اہم علاقوں پر قبضہ شروع کیا ،میں سمجھتا ہوں کہ مغل بادشاہوں میں سے بھی اکبر تو خود لادین تھے زیادہ تر بادشاہوں کی رانیاں ہندو تھیں اور رفتہ رفتہ حکومت کے کمزور ہونے سے صوبے اور ریاستیں منہ زور ہوتی چلی گئی ،حتیٰ کہ ہندوستان میں کمپنی حکومت کا آغاز ہوا ، یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ برطانوی تجارتی کمپنی جسے ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام دیا گیا تھا نے ”لڑاو¿ اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر عمل کیا، کہیں کہیں انکا زبردست مقابلہ بھی ہوا ،بنگال میں نواب سراج الدولہ ،میسورمیں سلطان حیدر علی اور ٹیپو سلطان اور پنجاب میں آگے جاکر رنجیت سنگھ نے انہیں روکنے کی کوشش کی ، پٹھانوں نے اپنی روائتی اسلام دوستی اور حریت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے کبھی ہار نہیں مانی، اور کسی نہ کسی شکل میں وہ مسلسل لڑتے رہے، صوبہ سرحد کا آبائی نام انگریز کا ہی دیا ہوا تھا، یعنی شمال مغربی سرحدی صوبہ کمپنی کی حکومت ختم ہوئی اور براہ راست تاج برطانیہ نے ہندوستان کو سنبھالا تو بھی برطانوی ہند کی سرحدیں افغانستان پر ختم ہو جاتی تھیں، انگریزوں کی بڑی خواہش تھی کہ وہ افغانستان پر بھی قبضہ کرلیں لیکن پٹھانوں کی ہمت جرا¾ت اور جاں فروشی کے سامنے انکی ایک نہ چلی۔
اس دور میں سب سے بڑا نقصان انگریزی حکومت کے باعث جس میں ہندو اکثریت کابول بالا تھا دینی اداروں کو پہنچا ، دیوبند ندوہ اور دوسرے بیشمار ادارے ایک طرح سے قلعے تھے جس میں ہمارے عظیم علماءنے دینی علوم کو زندہ رکھا ، اب مرکزی یا صوبائی کوئی حکومت انکی مدد نہیں کرتی تھی اس کے باوجود دینی مدارس میں جو اپنی جگہ یونیورسٹیوں کی شکل رکھتے ہیں اپنی کتب کو سنبھالا ،خداوند کریم نے خود قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پورے ہندوستان اور افغانستان میں یہ عالم دین ہی تھے جو اس دور کے انتہائی تعلیم یافتہ شائستہ مزاج دینی اور اخلاقی سوچ رکھنے والے تھے ، آپ مدارس کا نظام دیکھیں کونسا شہر کونسی تحصیل کونسا قصبہ اور کونسا گاو¿ں ہے جہاں دینی درسگاہ نہ ہو، گاو¿ں کی چھوٹی مسجد سے لیکر بڑے شہروں کی عظیم درسگاہوں میں ایک دنیا آباد ہے، سب سے بڑی خدمت قاری حضرات نے کی ، ابھی چھاپہ خانہ عام نہیں ہواتھا لیکن آپ کو ایک گاو¿ں میں بھی قرآن پاک حفظ کرنےوالے لڑکے،نوجوان اور عورتیں مل جاتی تھیں، اسی طرح حدیث رسول کریم کے ساتھ ساتھ مختلف علماءنے قرآن پاک کی آیات کے ترجمہ کے علاوہ تفسیریں لکھیں، فقہ کی کتابیں لکھیں،ہرمدرسے میں مفتیان کرام اپنا کام کرتے رہے اور آج بھی کررہے ہیں، دینی مسائل کے بارے میں جس کسی کو کچھ پوچھنا ہوتا وہ انکے پاس جاکر سوال کرتا ،آج پرنٹنگ پریس آگیا ، کمپیوٹر انٹرنیٹ اور ٹیپ ریکارڈر آگئے، لیکن جب یہ سب کچھ نہیں تھا تو بھی ہمارے علماءاور انکے ذہین شاگردوں کے حافظے کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے دین بالخصوص قرآن و حدیث تفسیر فقہ اور تمام دوسرے ضروری علوم ہم تک پہنچانے کیلئے سنبھال کررکھے ، میں خود زمانہ طالب علمی میں سکول کے ساتھ ساتھ دینی مدارس میں بھی پڑھتا رہاہوں اور مجھے معلوم ہے کہ بڑی بڑی ضخیم کتابوں کو ہمارے طالب علم ساتھی اتنی توجہ سے اور بار بار پڑھتے تھے کہ انہیں ساری ساری عبارت یاد ہو جاتی تھی، ماشاءاللہ ہماری قوم بالخصوص نوجوانوں کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے جب میں ایم اے عربی کا طالبعلم تھا تو پنجاب یونیورسٹی میں اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ نے مصر کے جامعہ الازہرکے سکالر جو سابقہ متحدہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے کو دعوت دی کہ وہ کچھ عرصہ ہمارے عربی کے طلبہ کو پڑھائیں ، انکا اسم گرامی علامہ عبدالعزیز المینی تھا، وہ عربی شاعری پڑھاتے تھے، بزرگ آدمی تھے، لیکن حافظہ ایسا تھا کہ شاعری کی سب سے بڑی کتاب حماسہ کھول کر ہم کسی نظم پر ہاتھ رکھتے تو وہ کتاب چھوئے بغیر شعرپر شعر سنانے لگتے ، وہ کمپیوٹر تھے ، بعض اوقات کلاس میں آتے ہی پوچھتے آج کیا پڑھنا ہے، ہم کہتے امراءالقیس تو وہ اپنی یادداشت سے امراءالقیس کا کلام سنانے لگتے ، میں نے کچھ وقت کراچی جامعہ بنوریہ میں گذارا ہے ، ملتان میں خیر المدارس میں پڑھا ہوں، جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے چکر لگائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دینی تعلیم حاصل کرنیوالا نوجوان بہت ذہین ہے، میں ساتھ ساتھ سکول میں بھی پڑھتا تھا اس لئے دو کشتیوں پر سوار نہ ہوسکا اور بالآخر تاریخ اور عربی زبان لیکر بی اے آنرز کیا اور پھر ایم اے لیکن میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنیوالے ادارے لوگوں کے عطیات سے گذربسر کرتے ہیں کیونکہ مدارس کا نظام انہی پر چلتا ہے ، آخر مختلف یونیورسٹیوں کی طرح حکومت انہیں کیوں مالی امداد فراہم نہیں کرتی، دوسرے جب وہ فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں تو جب انکی تعلیم کو بی اے ایم اے کے مساوی تسلیم کرلیا گیا ہے تو انہیں معاشرے میں باعزت اور اعلیٰ مقام کیوں نہیں ملتا۔
بعض حکومتوں نے اپنے طور پر کوشش بھی کی جیسے متحدہ ہندوستان کے زمانے میں حیدرآباد ،بھوپال اور سب سے بڑھ کر بہاولپور میں مسلمان نوجوانوں نے دینی تعلیم کی درسگاہوں کی بہت قدر کی لیکن اس دوران انگریز نے جو تعلیمی نظام دیا تھااور جس کے تحت سکول کالج او ریونیورسٹیاں بنی تھیں پاکستان بننے کے بعد بھی اصولاً تو یہ چاہیے تھا کہ مدارس کے نصاب اور انتظام میں کوئی دخل نہ دیاجاتا لیکن ان کیلئے سرکاری فنڈ مہیا کیا جاتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
ایوب خان کے زمانے میں ایک کوشش ہوئی تھی لیکن علماءکی اکثریت نے اسے ناپسند کیا کیونکہ حکومت فنڈز دینے کے بہانے جمعہ کے خطبہ کو قومیانہ چاہتی تھی یعنی سرکاری گرانٹ کی شرط یہ رکھی گئی کہ جمعہ کے دن خطیب حضرات سرکار کا منظور شدہ خطبہ پڑھ کر سنائیں اور اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہ کریں، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ بحث ان دنوں بھی چلی تھی، علماءنے اسے آزادی اظہار پر پابندی سمجھا اور بجا طور پر اس امر سے انکار کیا کہ گرانٹ لینے کی شرائط مثلاًنصاب میں تبدیلی یا جمعہ کو خطاب کا سرکاری طور پر منظور ہونا انہیں قبول نہیں تھا، علماءکی بات میں وزن تھا ، حکومت بنیادی جمہوریت کے ارکان کی طرح انہیں بھی اپنے ساتھ ملانا چاہتی تھی ، با ضمیر حوصلہ مند اور مشکلات کے خوگرمدارس کے منتظمین نے ایسی شرائط کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔
گذشتہ دنوں وزیراعظم نے وزیر تعلیم شفقت محمود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاموشی سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ، عمران خان کا کہناتھا کہ الیکشن سے پہلے کی جانیوالی تقاریر کے مطابق ملک میں تین قسم کے تعلیمی نظام چل رہے یہں، دینی مدارس کا نظام، سرکاری سکولوں اور کالجوں کا سسٹم ، انتہائی مہنگے پرائیویٹ سکول اور کالج جن کا میڈیم انگریزی ہوتا ہے ، وزیر اعظم کا کہناتھاکہ شفقت محمود صاحب سابقہ وزیراعظم ہاو¿س کے احاطہ میںیونیورسٹی کی تعمیر ہی نہیں کررہے بلکہ ان تین نظاموں کو قریب لانے کی کوشش بھی ہورہی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام بہت اہم ہے ، اس کیلئے سب سے پہلے علماءاور منتظمین مدارس کا تعاون چاہیے ، انہیں یقین دلایا جائے کہ ہم آپ کے نظام میں کوئی دخل نہیں دینگے ، صرف کمپیوٹرانٹرنیٹ اور آن لائن خدمات روشناس کروائیں گے ، کچھ جدید علوم ایسے شامل کروائیں گے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ استاد بن سکیں، جج بن سکیں، افسر بن سکیں اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ضروری دنیاوی تعلیم شامل ہو جائے، منتظمین مدارس کا ایک بڑا گروہ شفقت محمود صاحب سے ملتا بھی رہا ہے لیکن اکثر مدارس کے منتظمین کا تعلق دینی سیاسی جماعتوں سے بھی ہے جو عمران خان کی حکومت کیخلاف ہیں، اس لئے اس قدم کو بہت احتیاط سے اٹھانا چاہیے، منتظمین مدارس بالخصوص علماءاور مفتیان کرام کی عزت و احترام آزادی اور عزت نفس کا خاص خیال رکھنا ہوگا ، اگر حکومت کچھ دے رہی ہے تو اسکا احسان نہیں قرض ہے جو اس نے اب تک ادا نہیں کیاتھا،صلاح مشورہ اور تبادلہ خیال سے ہی راستے نکالے جائیں تاکہ ایک اچھا کام جس کی ضرورت ہے خواب نہ ہونے پائے، شفقت محمود صاحب اگر یہ کام کرلیں تو میں انہیں مبارکباد دونگا ، دینی مدارس کے کچھ طالبعلموں کو میں نے دیکھا ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اچھے محنتی ثابت ہوتے ہیں۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved