تازہ تر ین

خبر سے نکلتی خبریں

چوہدری ریاض مسعود
پاکستان کی سیاسی تاریخ سیاسی رسہ کشی، سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، سیاسی دشمنی اور سازشوں ،سیاسی گرما گرمی، سیاسی مفادات اور سیاسی گھٹ جوڑ سے بھری پڑی ہے، یہاں عوام کے ساتھ اسلام، سیاست، انصاف اور جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا ہے اس سے یہاں جمہوری ادارے، اقدار اور جمہوری کلچر فروغ ہی نہیں پاسکا، ہمارے سیاستدانوں کے ذاتی مفادات پر مبنی غیر جمہوری طرز عمل اور رویے نے یہاں آمرانہ قوتوں کو پنپنے کے مواقع فراہم کیے، حضرت قائداعظم کی وفات اور قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ سیاسی ناٹک تیزی سے پروان چڑھا، کرسی کا حصول اور کرسی سے گرانے کا غیر جمہوری کھیل ہماری سیاست میں سرائیت کرگیا جس کی وجہ سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا یا تبدیل کروانا، ووٹوں کی خرید و فروخت ،سیاسی انتقام ،سیاسی مفادات، ہارس ٹریڈنگ ،سیاسی لوٹا ،سیاسی رشوت، عہدوں اور پرموٹوں سے نوازنے ،خلائی مخلوق ،ان دیکھی قوتیں، اسٹیبلشمنٹ، ایمپائر کی انگلی اور اسی طرح کی دوسری اصطلاحات ہماری سیاسی ڈکشنری کی زینت بنیں، پہلے پہل سیاسی او رموسمی پرندے رات کے اندھیرے میں اپنے گھونسلے بدل لیتے تھے لیکن اب انکے انداز بھی بدل چکے ہیں اور وہ دن کی روشنی میں بھی ادھر ادھر اڑتے نظر آتے ہیں، حیراں کن مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے یہ ناٹک کھیلتے ہیں، کسی کو بھی ملکی مفادات، عوام کی مشکلات اور فلاح کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، یقینا سیاست اور جمہوریت کے کچھ اصول، ضابطے اور اقدار ہیں لیکن ہمارے سیاستدان ان کو روندتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کا کھیل بڑے فخر سے کھیلتے ہیں۔
اگر ہم اپنی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ قرضوں میں جکڑے اس ملک میں سیاسی جنگ کا ”طبل“بچ چکا ہے اور سیاسی ”ہا ہاکار“کاشور بلند ہورہاہے، جسکی وجہ سے موسمی پرندے ادھر ادھر اڑ رہے ہیں، یہ وہ پرندے ہیں جو ہمیشہ اقتدار کی گھنی چھاو¿ں کے نیچے پناہ لیتے ہیں، انکی سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا کہ وہ اب کس شاخ پر بیٹھیں، مائنس ون، مائنس پی ٹی آئی، مائنس اپوزیشن، مائنس نوازشریف ، مائنس آصف زرداری کا عدم اعتماد اور نہ جانے کون کون سی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، سیاسی رسہ کشی کے اس ماحول میں بھی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، ابھی گذشتہ دنوں ان پرپٹرول بم گرایا گیا ہے جس سے یہ اب تک سنبھلنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے، حکومت کرونا وائرس کی آڑ میں اپنے اداروں میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کے چکروں میں پڑی ہوئی ہے، پاکستان سٹیل ملز جیسے اہم قومی دفاعی ادارے کو بحال کرنے کی بجائے اسکی نجکاری کا ڈول ڈالا جاچکا ہے، جس سے تقریباً دس ہزار کے لگ بھگ ملازمین بیروزگار ہوچکے ہیں، جبکہ سیاحت کے فروغ کا دعویٰ کرنیوالی حکومت نے اچانک پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے 30ہوٹلز بند کرکے 4سو سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا، جبکہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کا روز ویلٹ ہوٹل نیویارک نجکاری کے طوفان سے بمشکل بچا ہے، کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے اپنی حالیہ میٹنگ میں اس ہوٹل کو اب ”جائنٹ ونچر“ کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بات افسوسناک ہے کہ پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونےوالے پائلٹوں کی وجہ سے جہاں یہ ادارہ مزید بحران کا شکار ہوگیا ہے وہاں ایوی ایشن کی دنیا میں پاکستان کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، حکومت نے اب تک جعلی ڈگریوں کے حامل 236پائیلٹس کو برطرف کردیا ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک کی ایئرلائنز نے بھی پاکستانی پائیلٹس کی چھٹی کروادی ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے شہری ہوابازی کے وزیر پر جعلی ڈگری کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے، یعنی یہاں ”آوے کا آوا“ ہی بگڑا ہوا ہے، ہمارے درجنوں سیاستدانوں پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات بھی مختلف سطح کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رسہ کشی اور کرپشن کرپشن کی جنگ زوروں پر ہے، ہمارے سیاستدانوں کے وعدوں دعوو¿ں اور قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوچکا ہے، ابھی حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں ماحول کے تحفظ کے بارے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے بہت سے اقدامات کررہی ہے، عین اسی وقت ہی حکومت نے ایک اہم قومی سیاحتی ادارے (پی ٹی ڈی سی) کے تمام موٹلز بند کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا، قارئین کی معلومات کیلئے عرض ہے کہ اس ادارے کے یہ موٹلز پاکستان کے اہم سیاحتی مقامات پر قائم تھے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح قیام کرتے تھے، حکومت کے اس ”شاہی حکم نامے“ سے سیاحتی دنیا اور سیاحوں کو کیا پیغام ملے گا؟اپنی انتظامی اور مالیاتی کوتاہیوں اور غلطیوں کی اصلاح کرنے اور اپنے معاملات کو درست کرنے کی بجائے سینکڑوں ملازموں کو نوکریوں سے برطرف کرکے موٹلز کو ہی بند کردینا کہاں کی دانشمندی ہے؟
حالانکہ پاکستان کی باشعور اور بیدار قوم حکومت کی ہر چال اور ہتھکنڈوں سے پوری طرح آگاہ ہے، شاید اسی لئے حکومت انہیں مہنگائی کی چکی میں پیس کر حساب برابر کررہی ہے، حکومت کی کمزوریوں اور ناقص انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے آٹا سکینڈل، چینی سکینڈل، پٹرول سکینڈل، مہنگائی اور پھر بیروزگاری جیسے بحران جنم لیتے ہیں، سیاسی اور مالی مفادات کے حصول کا یہ ناجائز دھندا ہمیشہ جمہوریت کی آڑ میں ہی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا نرم و نازک پودا نشونما پانے کی بجائے مرجھایا سا نظر آتا ہے، ہمارے سیاستدانوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہاں کئی بار جمہوریت کو مارشل لاءکی چھڑی سے بھی چلایاگیاہے، اور کئی معروف سیاستدانوں پر مارشل لاءکی پیدوار کے ٹیگ بھی لگ چکے ہیں۔
حکومت کے اپنے اقتصادی سروے 2019-20 اور ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹس ملک کی معیشت کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہیں، عوام کا دل خود ساختہ اعداد و شمار اور ترقی و خوشحالی کے خالی خولی نعروں سے نہیں بہلایاجاسکتا، ماحول کے تحفظ ، 15نیشنل پارک کے قیام کے منصوبے ،سیاحت کی ترقی او ر بڑے شہروں کے ماسٹر پلان کی باتیں کی جارہی ہیں، اچھی بات ہے کہ ملک میں براہ راست ریکارڈ سرمایہ کاری کا دعویٰ بھی خوش کن ہے ، شرح سود میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ یقینا خوش آئند اقدام ہیں ، سی پیک کے تحت نئے منصوبوں کا آغاز ، دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر، احساس پروگرام کے تحت اربوں روپے کی رقوم کی تقسیم ، جنوبی سیکرٹریٹ کا قیام، 5سو بلین قرضے کی واپسی ، وزیراعظم ہاو¿س کے اخراجات میں 30فیصد کمی یقینا حکومت وقت کی کارکردگی کی جھلک پیش کرتے ہیں، لیکن اس ملک کی عوام کو کیا ملا؟ کیا ملک سے مہنگائی اور بیروزگاری ختم ہوگئی؟ کیا لوڈشیڈنگ اور توانائی کا بحران حل ہوگیا، کیا کنسٹریکشن انڈسٹری کو مراعات در مراعات دینے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے، کیا کنسٹریکشن انڈسری سے متعلقہ 40شعبوں نے مثبت انداز میں ترقی کی، کیا زراعت اور کسانوں کے مسائل حل ہوئے، کیا سندھ اور بلوچستان کے تحفظات دور ہوئے، کیا ملک میں سیاسی استحکام آرہاہے، کیا عوام خاص کر دیہی علاقوں کی عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر آگئی ہیں؟ یہ بات یقینی ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن صدق دل سے اکٹھے ہوکر ملک کے مسائل کو حل کرنے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے قدم بڑھائے تو ہر سطح پر تبدیلی اور ترقی ممکن تھی لیکن افسوس صد افسوس ایسا نہیں ہوا اور موجودہ سیاسی حالات کو دیکھ کر سیاسی اتحاد و اتفاق دور دور تک نظر نہیں آتا جو یقینا جمہوریت کیلئے نیگ شگون نہیں ہے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved