تازہ تر ین

مافیا میں گھرا ملک

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور مافیاز کی مسلسل سرپرستی کرکے عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ اب یہ غریب عوام کے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کے لئے دی جانے والی وضاحتیں معاشی حالات، وائرس اور تبدیلی بھگتنے والے عوام سے دھوکہ اور انکے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔حکومت بوکھلاہٹ، بد نظمی، بد انتظامی اور افراتفری کا شکا رہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں27 سے 66 فیصد تک ہوشرباءاضافہ کرتے ہوئے اوگرا کو بھی بائی پاس کیا گیا جو غیر آئینی ہے۔ اس اضافہ سے عام آدمی کا تیل نکل جائے گااور وہ حکومت کی تسلیوں کے باوجود گھبرانے پر مجبور ہو جائے گا۔ گزشتہ ستائیس دن سے ملک میں تیل کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والی پٹرولیم مافیا کے خلاف کاروائی بند کرنے اور قیمتیں بڑھنے سے عوام کو انکے اثرورسوخ کا اندازہ ہو گیا ہے اور وہ مستقبل میں اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سے مایوس ہو گئے ہیں۔ مافیا کے خلاف اعلانات تو بہت کئے گئے مگر موثر کاروائی نہیں ہو سکی جس سے شوگر مافیا، گندم مافیا، بجلی مافیا ، فارما مافیا، آئل مافیااور دیگر گروپوں کا حوصلہ بڑھا ہے اور انھیں جلد ہی کلین چٹ مل جائے گی۔عوام ہی پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنا تھی بلکہ ڈرامہ ہی کرنا تھا تو انکے خلاف تحقیقات پربھاری اخراجات کیوں کئے گئے اور عوام کو برباد کرنے والوں کے خلاف قانون مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کیوں ثابت ہوا۔ ۔آئل مافیا کی خواہش پرتیل کی قیمت ڈی ریگولیٹ کی گئی تو یہ بے رحم مافیا عوام کو خود کشی پر مجبور کر دیگا ۔حکومت کے پاس تیل کی قیمت بڑھانے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔ اور عوام، کاروباری برادری اور اپوزیشن کی تنقید درست ہے جس کا موقع حکومت نے خود فراہم کیا۔
کرونا وائرس عوام اور معیشتوں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ خوف اور بے یقینی کی وجہ سے دنیا بھر میں عوام کی عادت میں بنیادی تبدیلی آئی ہے جو مینوفیکچرنگ سمیت معیشت کے مختلف اہم شعبوں کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ اب عوام کی اکثریت میں بچت کا رجحان بڑھ گیا ہے اور صرف بنیادی ضرورت کی اشیاءکے حصول پر اخراجات کئے جا رہے ہیں جو معیشت کی ترقی کے لئے ناکافی ہے۔لوگ اب سخت ضرورت کی وجہ سے باہر نکلتے ہیں اور گاڑیوں، کپڑوں، جوتوں، میک اپ، گھومنے پھرنے، ہوٹلوں اور بیکریوں پرخرچہ نہیں کر رہے ہیں جس سے ایندھن کا استعمال بھی کم ہو گیا ہے جبکہ گھروں میں رہنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے ۔اب بہت سے لوگوں کا رجحان صحت ،خیرات، صدقات ،عبادات کی طرف ہو گیا ہے جبکہ آن لائن فلموں اور ڈراموں کو دیکھنے کا رجحان بھی تقویت پا رہا ہے۔ہوٹلوں میں کھانے کی 66 فیصداور ایندھن کے استعمال میں 35 فیصد کمی آئی ہے۔ پاکستان میںدیگر اہم شعبوں کی طرح سیمنٹ کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں جبکہ بھارت میںسیمنٹ کی پیداوار 86 فیصد چین میں 30 فیصداور برطانیہ میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ان حالات میں غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی توپاکستان کا پیداواری شعبہ مزید کمزور ہو جائے گا۔ دنیا کی تئیس فیصد آبادی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں رہتی ہے اوردنیا کے بدترین فضائی آلودگی والے شہر بھی انہی ممالک میں واقع ہیں۔ فضائی آلودگی موسم سرما میں بڑھ جاتی ہے جس سے کرونا کے کیس بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اب میں کچھ بات کرنا چاہوں گا بجٹ کے حوالے سے حکومت نے بجٹ منظور تو کروالیا ہے لیکن بجٹ کے حوالے سے کاروباری طبقے کے بہت سے خدشات اب بھی موجود ہیں ۔بجٹ کی بنیاد مفروضوں اور ناقابل عمل تخمینوں پر رکھی گئی ہے اور یہ معیشت کو کساد بازاری اور دیگر مسائل سے نہیں نکال سکے گا۔تین کھرب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کرنا معیشت کے لیے ذمہ دارانہ عمل نہیں ہے ۔گھٹتے وسائل اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا نتیجہ قرضوں اور خسارے کی صورت میں نکلے گا۔اس حکومت نے قرض نہ لینے کے وعدے کیے تھے وہ وفا نہیں ہو سکیں گے ۔ اور ملک مزید مشکلات میں گھرتا چلا جائے گا ۔ وفاقی حکومت محاصل کی مد میں 3.9 کھرب روپے کماتی ہے جس میں سے 2.9 کھرب روپے قرضوں اور واجبات میں چلا جاتا ہے اور حکومت کے پاس غربت کے خاتمہ یا عوام کی فلاح کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں ہے۔پبلک سیکٹر کی ترقی کے لئے چھ سو پچاس ارب روپے بہت کم ہیں جبکہ محاصل کا ہدف ایسی صورتحال میں بڑھایا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی سکڑ رہا ہے۔ اخراجات اور وسائل کا تخمینہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتااور نہ ہی حالیہ اقدامات سے حکومت کاروباری برادری کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی ۔ کاروباری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے میں پہلے بھی کئی کالمز میں یہ کہہ چکا ہوں کہ حکومت کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کی ضرورت ہے تاکہ پیدا واری لاگت میں کمی ہو سکے ۔ٹیکسٹائل کی برآمدی مارکیٹ چالیس فیصد تک سکڑ چکی ہے جس سے عہدہ برا ہونا ایک چیلنج ہو گا۔
ا ب میں معیشت کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ پر روشنی ڈالوں گا ایس آر اوز کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے ۔ ایس آر او کلچر ملک کی اقتصادی ترقی اورملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس سے جتنی جلدی ممکن ہو جان چھڑائی جائے۔ ملک میں کارٹیلز کی بنیاد یہی ایس آر اوز ہیں۔نوے کی دہائی میں سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے کے ذریعے ایس آر او کلچر کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد وفاداریاں خریدنا اور پارٹی فنڈ دینے والے سرمایہ داروں کو نوازنا تھا جس نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ملک قرضوں کی دلدل میں پھنستا چلا گیا ہے۔
اس وقت معیشت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں ایس آر اوز کابے دریغ اور اندھا دھند استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اس میںٹیکسٹائل، پلاسٹک، کیمیکل، آٹوموبائل، آئرن اینڈ سٹیل، ٹرانسپورٹ، آئل اینڈ گیس، شوگر اور فلٹر وغیرہ شامل ہیں جس میں ایس آر اوز اور ڈیوٹی ڈرا بیکس کا بازار گرم ہے جس سے مخصوص شخصیات اور گروپس کو فائدہ پہنچا تاہم سرمایہ کاری اور صنعتکاری رک گئی ، روپیہ کی قدر گھٹتی چلی گئی ، کشکول بڑا ہوتا گیا اور معیشت بیٹھ گئی۔ ان اقدامات نے معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ اس گھپلے بازی سے کاروباری برادری مسابقت کے صاف ستھرے ماحول سے محروم ہو گئی ، برآمدات گرتی چلی گئیں، ملکی درآمدات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیںاور پیداوار کم ہو گئی، اہم قومی صنعتیں معیشت پر بوجھ بن گئیں جبکہ بعض افراد راتوں رات ارب پتی بن گئے۔
جب ریفنڈ واپس کرنا ہوتا ہے تو لیا ہی کیوں جاتا ہے اس لئے اس پریکٹس کو ختم کیا جائے اور ساتھ ہی ڈیوٹی ڈرا بیکس کا سلسلہ بھی ختم کیا جائے کیونکہ یہ بھی کارٹیل کی ایک شکل ہے ۔ ایک پراڈکٹ کو برآمد کے مرحلہ تک پہنچنے میں جو جی ایس ٹی لگتا ہے اسے تبدیل نہ کیا جائے اور برآمد کے وقت بل آف لیڈنگ کی روشنی میں چار سے پانچ فیصد ٹیکس وصول کیا جائے تاکہ حکومت کو اضافی ریونیو بھی مل جائے اور برآمد کنندہ کو ریفنڈ کے لئے سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں ۔اس سے کاروباری برادری اور حکومت دونوں کو بہت فائدہ ہو گا ۔حکومت کو اگر واقعی عوام کا بھلا چاہتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ اس غیر معمولی معاشی صورتحال میں عوام کو ریلیف ملے تو حکومت کو درپیش معاشی مسائل کے آﺅٹ آف باکس حل نکالنے ہوں گے ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved