تازہ تر ین

مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط بنائیں

وزیر احمد جوگیزئی
ملک میں لیڈرشپ کا فقدان ہے اور معاملات صحیح رخ پر نہیں چل رہے ۔پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز جس کا دعویٰ تھا کہ گریٹ پیپل ٹو فلائے ود (Great people to fly with)نے ایک قلیل عرصے میں بے پناہ ترقی کی اور یہ ایک مثالی ائر لائن بن چکی تھی اور پی آئی اے نے ہی سنگا پور ائر لائنز اور مالٹا ائر لائنز سمیت سات سے آٹھ ائر لائنز کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔اور دو ادوار ایسے تھے جب پی آ ئی اے نے کمرشل طور پر بہت زیادہ ترقی کی ۔ایک دور تھا ائر مارشل نور خان کا اور دوسرا دور تھا رفیق سہگل کا ان ادوار میں پی آئی اے نے بے مثال ترقی کی اور پوری طرح پھل پھول گئی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پی آئی اے میں ملازمتوں کا سوال اس دور میں بھی اٹھا تھا۔ عام خیال یہ ہی تھا کہ جب رفیق سہگل صاحب پی آ ئی اے کی سربراہی کریں گے تو پی آئی اے سے ملازمین کی چھانٹی ہو گی اور ملازمتوں کو کم کیا جائے گا ۔لیکن ایسا نہ ہو ا اور پی آئی اے کی اڑان امریکہ اور کینیڈا تک چلی گئی ۔اور اس دور میں بلا شبہ قومی ائر لائنز مشرق سے مغرب تک ہمارے لیے ہماری پوری قوم کے لیے ایک فخر کا نشان بن گئی تھی اور پاکستان کی شان تھی اس دور میں پی آئی اے واقعی ایک شاندار ائر لائنز تھی ۔اس دور میں مقابلہ بھی بہت زیادہ تھا۔ اس دور میں بیشتر دیگر ائر لائنز کراچی کو ٹچ کرتی تھیں لیکن اس کے با وجود پی آ ئی اے نے نہ صرف اپنا بزنس برقرار رکھا بلکہ اور نام بھی کماتی رہی ،اور اگر آج بھی پی آ ئی اے کے حالات کو بدلنا ہے اس ائر لائنز کو صحیح معنوں میں ایک بار پھر قومی ائر لائنز بنانا ہے تو نجی شعبے کی منجھی ہوئی مینجمنٹ کے حوالے قومی ائر لائنز کی بھاگ دوڑ کرنا ہو گی ۔اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔نہ تو پی آئی اے میں مہارت کی کو ئی کمی ہے نہ قومی ائر لا ئنز کے پا ئلٹ کسی سے کم ہیں اور نہ ہی دیگر شعبوں میں کو ئی مسئلہ ہے ۔اگر کسی چیز کا فقدان ہے تو وہ لیڈرشپ کی کمی کا ہے ۔اس کمی کو دور کرنا ہو گا ۔
میں یہاں پر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ وفاقی وزیر ہوا بازی نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر قومی ائر لائن کے پا ئلٹس کے حوالے سے نہایت ہی غیر ذمہ درانہ بیان دیا ہے اور تحقیقات مکمل ہو نے سے پہلے ہی اپنے پا ئلٹس کودنیا بھر کی نظروں میں مشکوک بناڈالا ۔اس بیان کے نتیجے میں یورپی یو نین نے پی آ ئی ائے پر 6ماہ کی پابندی عائد کردی ہے جس سے کے قومی ائر لائن کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔اگر کوئی مسئلہ موجود بھی تھا تو حکومت کو اس سلسلے میں خاموشی سے کارروائی کرنی چاہیے تھی اس حوالے سے حکومت کو کس نے روکا تھا لیکن حساس نو عیت کے معاملے کی کھلے عام تشہیر نے قومی ائر لائن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے اور یہ حکومتی اقدام پی آئی اے کے تا بوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے ۔ بھارت میں بھی اسی نو عیت کا معاملہ اٹھا تھا اور ہزاروں پا ئلٹس کے لا ئسنسز مشکوک قرار دیے گئے تھے لیکن انھوں نے خاموشی سے اس معاملہ کو اندرونی طور پر حل کیا ۔اس حکومت کے اقدامات سمجھ سے با لا تر ہیں ۔
بہر حال لیڈرشپ کی کمی کا مسئلہ صرف اور صرف پی آ ئی اے کو درپیش نہیں ہے ۔پاکستان کا اس وقت بڑا مسئلہ لیڈرشپ کا کمزور ہو نا ہے ۔آج کی لیڈرشپ مینجمنٹ کے ہر اصول میں ناکام ہو گئی ہے ۔آٹے اور چینی کے بحران تو اپنی جگہ پر تھے ہی لیکن تازہ بحران جو کہ پیٹرول کا بحران تھا اس پر میں بات کرنا چاہوں گا ۔پیٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں تا ریخی سطح تک گر گئی بلکہ منفی میں چلی گئیں لیکن ہمارے ذمہ داران کی انتظامی صلاحیتوں کو داد دینا پڑے گی کہ نہ وہ دنیا سے سستا تیل خرید سکے اور نہ ہی وہ عوام کو یہ تیل سستے نرخوں پر بیچ سکے ۔ان دو سے تین مہینوں میں کم از کم دو سال کا پیٹرول کا خسارہ پورا کر سکتے تھے لیکن کچھ بھی نہیں کر سکے ۔یہ حکمران جماعت اور ان کی لیڈرشپ پر بڑا سوال ہے کہ وہ اس خدا کی جانب سے دیئے گئے نادر موقع سے فائدہ اٹھانے میں بھی قطعی طور پر ناکام رہے ۔اب وزیر اعظم کی جانب سے اس معاملہ پر انکوا ئریز کروائی جا رہی ہیں جس سے معاملہ مزید الجھے گا ،میں تو وزیر اعظم عمران خان صاحب کو یہی مشورہ دوں گا کہ مزید الجھنیں پیدا نہ کریں اسمبلی کے سامنے مسائل رکھیں اور اجتماعی سوچ کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کو شش کی جائے ۔120دن کی بجائے 220دن پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے اور اس میں بیٹھ کر عوام کے مسائل حل کیے جا ئیں ۔وزیر اعظم خود بھی ہر اجلاس میں دو گھنٹے کی حاضری یقینی بنا ئیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پارٹی میں بھی جان آ ئے گی اور اپوزیشن سے بھی با معنی رابطے کرنے میں مدد ملے گی ۔ابھی تو صرف پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ایک عجب سا مقابلہ لگا ہوا ہے کہ زیادہ بد زبانی کو ن کرے گا اور اس میں سارا وقت ضائع ہو جاتا ہے ۔اور اس قسم کے رویے کا زیادہ تر نقصان صرف اور صرف حکومت کو ہی ہو تا ہے اور کسی کو نہیں ۔کوئی بھی جمہوری لیڈر مقننہ کو بائی پاس نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس میں کامیاب ہو سکتا ہے لہٰذا وزیر اعظم صاحب مقننہ پر زیادہ سے زیادہ دھیان دیں اسمبلی میں حاضری یقینی بنا ئیں اور پارلیمان کو مضبوط کریں ۔اسی سے عوامی مسا ئل کا حل ہو سکتا ہے ۔اور اسی طرح مقامی حکومتوں کے نظام کے کو رائج کیے بغیر بھی عوام کے مسا ئل حل نہیں ہو سکتے ۔مقامی حکومتیں تو ویسے بھی آئین پاکستان کے تحت لازمی ہیں ۔لیکن کس شکل میں ہوں ان کی نو عیت کیا ہو یہ آ ئین میں درج نہیں ہے ۔اگر ملک میں مقامی حکومتوں کو ترقی دی جائے اور یہ حکومتیں خود اپنے وسائل کا بند وبست کریں تو پھر نہ کسی کو اپنے کام کروانے کے لیے لا ہور جانے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی کسی کو کراچی ،کو ئٹہ یا پشاور کا رخ کرنے پڑے گا ۔
تمام مسائل ہوتے ہی مقامی ہیں چاہے وہ تعلیم کا مسئلہ ہو یا پھر صحت کا یا وہ مسئلہ امن اور امان کی صورتحال کا ہو اور مقامی سطح پر ہی ان مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکتا ہے ۔ایک مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کی موجودگی میں نہ تو نئے اضلاع کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی نئے صوبوں کی ۔اگر خان صاحب ڈیلیور کرنے میں کا میاب ہو نا چاہتے ہیں تو مقامی حکومتوں کے نظام کو رائج کرنے اور ان کی مضبوطی کے لیے ہر قدم اٹھا ئیں ۔اگر مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے اور ان کو وسائل فراہم کیے جاتے ہیں تو پاکستان کے مسائل کوئی آسمان سے اترے ہوئے مسائل نہیں ہیں جوکہ حل نہ کیے جا سکیں ۔ابھی تک پاکستان میں بد قسمتی سے عوام کے نصیب میں حقیقی مقامی حکومتوں کا نظام آیا ہی نہیں ہے اور اس سلسلے میں تمام حکومتیں ناکام رہی ہیں اور اس حوالے سے وہ کام نہیں کر سکیں جو کہ ان سے امید تھی ۔مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر عوام خوشحال نہیں ہو سکتے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved