تازہ تر ین

گستاخِ رسول یوسف کذاب‘ تاریخی عدالتی فیصلہ(6)

میاںغفاراحمد
میں یوسف کذاب کے جہنم واصل ہونے کے کئی ماہ بعد حافظ طارق سے لاہور جا کر ملا۔ میں نے اس سے پہلا سوال یہی کیا کہ حافظ صاحب مجھے ایک الجھن سے نکالیں کہ یوسف کذاب کو جہنم واصل کرنے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشی۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ 2افراد کے قتل میں جیل میں بند اور تیسرا قتل یوسف کذاب کا وہ بھی جیل کے اندر اور درجنوں قیدیوں کی موجودگی میں ،آپ نے 2 قتل جو پہلے کیے وہ قتل عمد تھے یعنی باقاعدہ منصوبہ بندی اور ارادے کے تحت دونوں قتل کئے تھے یا پھر یہ اتفاقیہ تھے۔ میرا یقین تھا اور ہے کہ قتل عمد کے ملزم کی معافی کا مرحلہ مشکل ہوتا ہے پھر یہ حافظ طارق کا انتخاب کیسے جس پر حافظ طارق نے جواب دیا میں گوالمنڈی کا رہنے والا ہوں قرآن پاک کا حافظ ہوں بس بری صحبت میں لڑائی جھگڑے اور مارکٹائی کی طرف نکل گیا۔ میں نے دونوں قتل اپنی حفاظت کیلئے کئے تھے۔ مخالفین نے قتل کی نیت سے مجھ پر حملہ کیا ان کی فائرنگ سے بال بال بچ گیا مگر میں نے اوٹ سے جوابی فائرنگ کی اس طرح میرے ہاتھوں اپنی حفاظت میں یہ قتل ہوئے۔ مجھے سمجھ آچکی تھی کہ حافظ طارق کا انتخاب کیوں ہوا۔
پھر حافظ طارق نے ایک اور راز کی بات بتائی کہنے لگا بھائی جان گنہگار ہوں مگر عاشق رسول بھی ہوں۔ اوائل عمری میں گوالمنڈی میں ایک شخص نے اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا تھا تو میں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ اس کو مار مار کر ادھ موا کردیا تھا اور اس جرم میں کئی دن حوالات میں بھی رہا پھر صلح کے نتیجے میں رہا ہوا۔ اس طرح حافظ طارق گوالمنڈی میں لڑائی جھگڑوں میں اُلجھتا گیا، مخالفین نے بظاہر صلح کے باوجود دل میں میل رکھی اور قتل کی نیت سے حافظ طارق پر حملہ کردیا۔ اپنے بچاﺅ میں اوٹ سے جب اس نے جوابی فائرنگ کی تو مخالفین کا بندہ قتل ہوگیا اس طرح یہ دشمنی بڑھتی چلی گئی اور حافظ طارق کوٹ لکھپت جیل چلا گیا۔ گوالمنڈی کا اس کا ایک دوست جس کا نام لکھنا مناسب نہیں فلم انڈسٹری کے ساتھ اس کا تعلق تھا۔ وہ فلمیں وغیرہ پروڈیوس کرتا تھا۔ اس نے حافظ طارق اور ایک قیدی اعجاز عرف ججی جو بعد میں ساہیوال جیل میں پھانسی لگ گیا، کے ساتھ مل کر پلاننگ کی۔ جیل کے ایک وارڈن کو آج سے 20سال قبل 15ہزار دے کر جیل کے اندر پسٹل اور 2میگزین بھجوائے۔ حافظ طارق نے اپنے آٹے والے کنستر کے نیچے اندر کی جانب ایک پلیٹ بنوا کر اس کے نیچے پسٹل چھپا دیا۔ ایک میگزین اپنے پاس رکھ لیا اور دوسرا میگزین اعجاز عرف ججی کے حوالے کر دیا۔ ساری منصوبہ بندی مکمل ہوئی تو جیل کے ملازمین کو اعتماد میں لیا گیا اور انہیں مختلف تحفے تحائف بھی دیئے گئے جبکہ ان دونوں نے پیسے لینے سے انکار کردیا۔ حافظ طارق کا معمول تھا کہ وہ اپنے جیل کے قیدیوں والے لباس کے نیچے ایک ازاربند علیحدہ سے باندھتا اور اس کے ساتھ پسٹل کس کر باندھتا پھر اوپر شلوار پہن کر ازار بند کو مزید کس دیتا۔ دن بھر کسی کو پتہ نہ چلتا کہ وہ جیل میں اسلحہ لیکر پھر رہا ہے اس دوران یوسف کذاب کی شناخت کیلئے وہ بغیر پسٹل 2مرتبہ یوسف کذاب کی بیرک تک پہنچا جسے جیل میں علیحدہ جگہ پر سخت سکیورٹی میں رکھا گیا تھا۔ حافظ طارق نے یوسف کذاب سے گفتگو بھی کی اور تسلی کرلی کہ یہی وہ گستاخ رسول ہے جسے اس نے جہنم رسید کرنا ہے۔ دن اور وقت کا تعین ہوگیا۔
حافظ طارق کا معمول یہ بھی تھا کہ وہ روزانہ 2نفل حاجت پڑھا کرتا تھا اور مصلےٰ پر بیٹھ کر پسٹل سے اس طرح مخاطب ہوتا تھا کہ دیکھو تم لوہے کے بنے ہوئے ہو، لوہا پہاڑوں سے نکلتا ہے اور پہاڑ بھی تو اللہ کو سجدہ کرتے ہیں تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے دھوکہ نہ دینا کیونکہ جیل میں ٹیسٹ فائر نہیں کرسکتا۔ گولی تمہاری نالی میں پھنس نہ جائے خیال کرنا کہ کوئی گولی مس نہ ہو، تجھے اﷲ اور اس کے پیارے رسول کا واسطہ۔ یہ ایک نیم خواندہ مگر پختہ یقین والے حافظ طارق کی پستول سے گفتگو تھی جو روز ہوا کرتی تھی۔
وقوعہ کے روز حسب معمول اس نے حاجت کے نفل پڑھ کر حسب معمول پسٹل ازاربند کے ساتھ باندھا، شلوار پہنی اور جیل وارڈن کا انتظار کرنے لگا کہ وہ کب آئے گا اور اس کو ساتھ لے کر جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد وہ وارڈن حافظ طارق کے پاس آیا اور کہنے لگا مبارک ہو تمہارا کام اللہ نے آسان کر دیا۔ دراصل ایک مذہبی تنظیم کے کچھ خطرناک قیدی اس جیل میں شفٹ ہوئے ہیں لہٰذا یوسف کذاب کو تمہاری بیرک میں شفٹ کیا جا رہا ہے اس کیلئے علیحدہ کمرہ خالی کرالیا گیا ہے۔ حافظ طارق نے تیاری کرلی تھوڑی دیر میں 2وارڈن یوسف کذاب کا سامان اٹھائے اس کے ساتھ چلتے آئے۔ حافظ طارق بھاگ کر سامنے آگیا اور کہا ”یوسف“ اور ناقابل اشاعت قسم کی گالیاں دیں اور پانچوں کی پانچوں گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں۔ پہلی گولی اس کے زیر ناف، دوسری پیٹ میں، تیسری چھاتی میں، چوتھی گلے میں اور پانچواں اس کے منہ میں ریوالور رکھ کر فائر کردی۔ دوپہر کا وقت تھا، سینکڑوں قیدی اس وقت موجود تھے۔ یوسف کذاب ایک ہی منٹ میں تڑپ کر موت کے منہ میں چلا گیا۔ حافظ طارق نے اسے ہلایا اس کا جسم مردہ تھا اسی وقت نعرہ تکبیر بلند کیا اور سجدے میں گر کر رونے لگ گیا، شکر ادا کرکے ریوالور جیل عملہ کے حوالے کیا۔ بقول حافظ طارق یوسف کذاب کے جسم سے جو خون نکلا اس کی رنگت اتنی کالی اور بدبو اتنی زیادہ تھی کہ برداشت سے باہر، سپرنٹنڈنٹ جیل میاں فاروق نذیر جو بعد میں آئی جی جیل خانہ جات بھی رہے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ حافظ طارق کو جائے وقوعہ کے سامنے لاک اپ میں بند کر دیا گیا اور یوسف کذاب کے مردہ جسم پر چادر ڈال دی گئی۔ اچانک ہوا کا جھکڑ چلا اور یوسف کذاب کے جسم پر پڑی چادر اڑ گئی پھر تین کوے آئے اور انہوں نے یوسف کذاب کی آنکھیں نوچنی شروع کردیں جوکہ کھلی ہوئی تھیں۔ جیل میں سناٹا تھا سب لوگ بھاگ چکے تھے اور حافظ طارق نے بتایا کہ اچانک لاک اپ میں مجھے یوں محسوس ہوا کہ اللہ نے درجنوں اے سی لگا دیئے ہیں، مجھے ٹھنڈی ہوا آئی۔ میں نے شکرانے کے نفل پڑھے اور جائے نماز پر مجھے نیند آگئی میں نے اپنی زندگی میں اتنی پرسکون نیند کا مزہ نہیں لیا۔ اس دوران پولیس آگئی اور مجھے جگا کر شامل تفتیش کرلیا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان ملاحظہ ہو، دو قتل جیل سے باہر اور ایک قتل درجنوں قیدیوں کی موجودگی میں جیل کے اندر کرنے والا سال ڈیڑھ کے عرصے میں تینوں مقدمات سے باعزت بری ہو کر گھر چلا گیا۔ آجکل حافظ طارق لاہور میں چھوٹا موٹا بزنس کرتا ہے اس کی دنیا بدل چکی ہے اور اس کا زیادہ تر وقت جنوبی لاہور کے ایک علاقے کی مسجد میں گزرتا ہے، وہ کاروبار بھی کرتا ہے۔ متعدد ایجنسیوں نے تحقیق کی، کسی نے اس کے تانے بانے کسی تنظیم سے جوڑے تو کسی نے اسے بڑے منصوبے کا حصہ قرار دیا مگر کسی تفتیشی و ایجنسی کو کچھ نہ ملا۔ ملتا بھی کیسے ایک عاشق رسول اور مجاہد کی اللہ نے ڈیوٹی لگائی اور وہ غازی علم دین ثانی قرار پاگیا۔
اب مرحلہ تھا کہ یوسف کذاب کی تدفین کا، اللہ نے مرنے کے بعد بھی اس کی رسوائی کا سلسلہ جاری رکھا، کسی نے سچ کہا ہے باخدا دیوانہ باشد….بامحمد ہوشیار ۔ترجمہ(دیوانگی اللہ کے معاملے میں ہوسکتی ہے جذب کی کیفیت میں اللہ سے اٹکھیلیاں ہو سکتی ہیں مگر جہاں معاملہ حضرت محمد مصطفی(خاتم النبیین) کی حرمت، تکریم، مقام، مرتبے، شان اور عزت کا ہو وہاں تو جذب کی بھی اجازت نہیں وہاں تو گستاخی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ نے نبی آخر الزمان کو مقام ہی اتنا بلند دیا ہے اور پھر جس کا مقام اللہ نے طے کیا ہو اس پر کون لب کشائی کرسکتا ہے)۔یوسف کذاب کی تدفین کیسے ہوئی اگلی قسط میں اس کا ذکر ہوگا۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved