تازہ تر ین

اے چارہ گرو! کچھ تو سوچو

ثوبیہ خان نیازی
ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں یہاں بے بس کی فریاد کوئی نہیں سنتا، غریب کی مشکل کی گھڑی طویل سے طویل ہوتی چلی جاتی ہے ۔عام بندہ جہاں بھی چلا جائے اسے رسوائی اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوشل سٹیٹس کی بنا پہ ہمدردیاں ہوتی ہیں ،طرفداری کی جاتی ہے ،بات سنی جاتی ہے ،کسی کی مدد امداد کرنی ہو تو وہ بھی دکھاوے کی بنا پہ کی جاتی ہے۔ایک بڑی فیملی کا کسی سیاسی پارٹی میں آجانا اور اقتدار حاصل ہوتے ہی پورے خاندان کو حکومت میں وزیر مشیر بنا لینا معمول اور معمولی بات ہے۔ یوں حکومت میں ہوتے ہوئے ایک دوسرے کا دفاع کرنا، غلطیاں چھپائے رکھنا ،ایک دوسرے کو فائدہ دیتا رہتا ہے۔ معاشرے میں انتشار اور اس کے زوال کا سبب بے انصافی، لوٹ کھسوٹ ،کرپشن ،طرف داری، عصبیت پرستی اور عدل و انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ عام اور غریب بندہ جب دیکھتا ہے کہ معاشرے میں اس کی کہیں نہیں سنی جاتی وہ اپنی بنیادی ضروریات کےلئے کوڑی کوڑی کا محتاج ہوتا ہے اسے اپنے بچوں کے خواب ریزہ ریزہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو اس کے سینے میں انتقام کی آگ بھڑکتی ہے اور وہ بعض اوقات نفس کا شکار ہو کر ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ استحصال زدہ اس شخص کی وجہ سے پھر معاشرے میں برائیاں اور انتشار جنم لیتا ہے۔
آج ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کرنے والے ،اسی طرز پر طرز حکومت کرنے کے خواب اور دعوے کرنےوالے اپنی خواہشات کی تکمیل میں کتنے کامیاب ہیں ؟بس نظر آرہا ہے سہانے خواب حسرتیں بنے آنکھوں میں مر رہے ہیں۔ جس مسیحا کا انتظار تھا اس کے آنے سے کسی کو شفا نہیں ملی، کسی حسیں نظر کی بینائی نے رنگینی کا کوئی دلکش نظارہ نہیں دیکھا، گلستاں میں بہار نہیں آئی ۔عمران خان کے عشق اور جنون میں جینے والے کسی نوجوان نے آئیڈیل زندگی کا خواب سچ ہوتے نہیں دیکھا۔ یہی سچ ہے کہ جتنا بڑا انسان ہوگا اس کی زندگی میں اتنے ہی چیلنجز ہوں گے ،مشکلات ہوں گی۔ عمران خان کی نیک نیتی پہ کسی کو شک نہیں ، یہ بھی سچ ہے کہ اس نے اس ملک سے کچھ نہیں لوٹا بلکہ وہ یہاں لے کے آیا، وہ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہے۔سب کچھ اپنے ملک کےلئے ہی سہی مگر غریب کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئی، احساس پروگرام کے ذریعے بھی جان پہچان کا سہارا لیا جاتا ہے۔ وزیراعظم صاحب لوگوں کی آنکھوں میں خواب مر رہے ہیں آپ سوچ نہیں سکتے کہ لوگوں نے آپ کو کس حد تک سپورٹ کیا ہے آپ کو کچھ بہتر کرنا ہوگا اسی عہد میں کرنا ہوگا نہیں تو کبھی کوئی خواب نہیں دیکھے گا۔
معزز قارئین! شعور اور آگہی بہت بڑی نعمتیں ہیں ہم اپنے اردگرد پھیلی سہولتوں اور آرائشوں سے اس لیے بھی استفادہ نہیں کر پاتے کہ ہمیں ان کے بارے میں معلومات ہی نہیں ہوتی پچھلے دنوں وفاقی محتسب کے ادارے کے بارے جاننے کا موقع ملا ۔ پاکستان کی عام عوام اور غریب بے بس لوگوں کے لیے اس ادارے کی خدمات بلاشبہ سراہنے کے قابل ہیں ۔وفاقی محتسب کو غریبوں کی عدالت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں پیسا خرچ کیے بغیر عام عوام کو فوری انصاف ملتا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے اداروں کے خلاف بد انتظامی کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے وفاقی محتسب کا ادارہ سید طاہر شہباز کی زیر نگرانی کارہائے نمایاں انجام دے رہا ہے اور خاص بات یہ کہ ان کے زیر اثر اس ادارے نے گزشتہ سال سب سے زیادہ فیصلے سنائے اور ان پہ عمل درآمد بھی ہوا۔اس ادارے کا کام صرف عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ اور مختلف شعبوں میں بھی یہ اپنی تجاویز پیش کرتا ہے اور اس کے حل کےلئے عملی اقدامات کرتا ہے۔ تھانوں اور جیلوں کی اصلاح، قیدیوں کی تعلیم کا بندوبست، بچوں اور خواتین کےلئے عید پہ نئے کپڑے فراہم کرنے کا انتظام کرنا، اس کے علاوہ پنشنر کے مسائل کے حل کےلئے ان کے اکاﺅنٹ میں پنشن براہ راست آنے کا انتظام بھی وفاقی محتسب کی تجویز پہ عمل درآمد کی بدولت ہوا ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کےلئے ہوائی اڈوں پر ونڈو ڈیسک کا بنائے جانا بھی اسی ادارے کی نیک نیتی کا ثبوت ہے ۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس ادارے کے میڈیا ایڈوائزر مقرر کیے گئے ہیں وہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ پوری دنیا میں اپنے ادبی قد کاٹھ کی بدولت جانے پہچانے آدمی ہیں اب ان کی وجہ سے بھی عوام کو اس ادارے کے بارے شعور اور آگہی نصیب ہو گی۔ اللہ پاک ہمارے تمام ادارے کو بلاتفریق کارہائے نمایاں انجام دینے کی توفیق عطا فرماے تاکہ عام آدمی کی زندگی آسانیوں میں ڈھل سکے ۔
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved