تازہ تر ین

چٹھی میرے خان کے نام!

سلمیٰ اعوان
وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیںپر اب بہت ماےوس تھیں۔سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔اظہاریہ کا طریقہ کیا ہوگا؟اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے مےںکہا۔”ٹویٹر ،فیس بُک بہتر رہیں گے“۔”ارے نہیں برقی خط بھیجو“۔ایک اور بولی۔ ”چٹھی لکھو لمبی چوڑی سی کچھ تو ہمارے احساسات کی ترجمانی ہو۔“ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑی دلکش خاتون نے قلم ہاتھ میں پکڑا۔تھوڑی دیر خلاﺅں میں گھورتے ہوئے کا پی پر جھکی اور اُونچے سے بولتے ہوئے لکھا ”میرے پیارے مانے“۔ ” وٹ اے نائیسنس“ نیلی جینز پر سرخ ٹاپ اور ہم رنگ سکارف والی چلائی تھی۔
”دیکھو آزادیِ اظہارِرائے سے محروم مت کرو مجھے ۔یہ ’ لفظ‘ تو بس یونہی ایک ےاد کے طور پر دماغ کے کسی کونے کھدرے سے پُھڑک کر باہر آگیا ہے۔ پھر فاختائی سوٹ والی نے کہا اس بحث کو چھوڑو اور لکھنا شروع کرو۔ اور وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اپنے ماسک کو ٹھیک کرتے ہوئے اس کے قریب آکھڑی ہوئی۔ ”دراصل ہم گلیمر پر مرنے والی عورتیں پرچی والے حادثے کوبُھلا ہی نہیں پاتی تھیں۔ہائے کتنی سُبکی کی بات تھی کہ جب سری پائے کھانے والا ہمارا گلو بادشاہ دُنیا کے تھانیدار کے سامنے اس کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر دو لفظ نہیں بول سکتا تھا۔ دیکھ لینا ہمارا خان سرپٹ بھاگتے گھوڑے کی طرح بولے گا اور سب کو پٹا کر رکھ دے گا۔ ہائے ہمیں کیا پتہ تھاکہ جلسے جلوسوں میںتقریریں کرتے کرتے اُسے بولنے کا ایسا فوبیا ہوجائے گا کہ جو منہ میں آئے گا بولتا چلا جائے گا“۔
گروپ کی سب سے زیادہ گوری چٹی نے بات اُچکی۔” ارے میاں اب تم کوئی غیر ذمہ دار شخص تو ہو نہیں۔جس کی یاوہ گوئیوں کا کوئی نوٹس نہ لے۔ جس جگہ اللہ سائیں نے تمہیں بٹھایا ہے اس کو تو دیکھو۔اس کی نزاکت اور عظمت کا تو خیال کرو ۔اب وہ زمانہ تو نہیں ہے ناجب تم سٹیج پر چڑھ کر سیاستدانوں کے گڑھے مردے اکھاڑتے،احتساب کے نعرے لگاتے،باہر کے بینکوں سے اُن کے اثاثے لانے کی دبنگ باتیں کرتے ،تالیاں پٹواتے اور بیچارے لوگوںکو اُمیدوں کے سنہرے خواب دکھاتے تھے۔اب دو سال ہونے کو ہیں کہاں گئے وہ بلند و بانگ دعوے۔چلو چھوڑواِس کو بھی۔ پر یہ تو خیال کرو کہ تمہاری ہر بات کو پکڑا جاتا ہے۔اس کے اندر چھپے معنی یا حماقتوں پر رائے زنی ہوتی ہے۔ اب اسامہ بن لادن کے ذکرِخیر کی کوئی تُک تھی کہ وہ شہید ہے یا دہشت گرد۔اِس قصہ کو چھیڑنے کی ضرورت اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب ملک اور قوم اتنے گھمبیر مسائل میں گھرے ہوئے ہوں ۔دُنیا میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئی مگر یہاںپہلے ملنا بند پھر 70 روپے پھر 100 روپے۔مہنگائی اور باربرداری کا چولی دامن کا ساتھ۔تیل سستا تو چیزیں بھی سستی۔مگر یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔آٹا مہنگا، چینی مہنگی، بس انسان سستا۔کرونا کا عذاب جسے سنجیدگی سے لیا ہی نہیںجا رہا۔ہر سمت موت کا خوف اور دہشت بکھری ہوئی۔اور تمہیں اُسامہ بن لادن سوجھ رہا ہے۔اس کی شہادت پر تم اپنا ٹھپہ لگا کر کسے خوش کرنا چاہتے تھے۔ ےوں اگر تمہیں خارجہ اُمور پر بولنے کا اتنا ہی شوق ہے تواس پر رائے دیتے کہ امریکہ اور پاکستان کیسے مل کر افغانستان میں امن قائم کر سکتے ہیں؟سرمایہ کاری اور تجارت کو کےسے فروغ دیا جاسکتا ہے؟کہیں مودی کو سمجھانے بابت بات کرتے ہو۔ہمسائےوں کے گھاگ اور شاطر سیاست دان تمہاری ایسی بچگانہ باتوں پر ٹھٹھے ہی لگاتے ہوں گے۔ہمارے پیارے اتنی سی بات نہیں سمجھتے ہو کہ غریب کی بات کی کوئی اہمےت نہیں ہوتی ۔کمزور معیشت کا حامل ملک جس کا داخلی استحکام بھی کمزور۔اس کے سربراہ کی بات کو کس نے توجہ دینی ہے۔ہانگ گانگ کی واپسی کی کہانی پڑھ لینی تھی“۔
اب سیاہ سوٹ والی نے بازو بین کے سے انداز میںلہرائے اور بولی لکھو اُسے لکھو ” تمہیں پیار کرنے والے تمہاری کمپین جی جان سے چلانے والے ایک نامی گرامی شخصیت معاف کرنا جہانگیر ترین نہیںایک اور دل جلے نے کہا ہے۔ اللہ نے تمہیں اقتدار عزت لٹانے کودیا ہے۔اب ذرا اُن کی بھی سُن لو جو تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کا تو بس نہیں چل رہا کہ تمہیں کسی کھوہ کھائی میںدھکا دیں اور خود تمہاری کرسی پر وزیراعظم کا تاج پہن کر بیٹھ جائیں“۔
سنہری بالوںوالی اضطراری کیفیت میں جھٹکے سے اُٹھی اور بولی لکھو۔ ”ہمارے خیال میں تمہاری انا کا غرور اور خود پر احمقانہ تکبر تمہیں سیاسی شعور اور بلوغت ہی نہیں دے رہا ہے۔تمہاری اتحادی پارٹیوں میں بہتیرے تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔ پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ دےتے جس کی شہرت اچھے وزیراعلیٰ کی رہی ہے۔ اہم تنظیمی معاملات پراُن سے مشورے کرتے ۔پرمشورے کرنا تو بڑی بات ہمارے خیال میں تو تمہیں تو کسی سے ملنا بھی پسند نہیں“۔
”ابھی جہازکے حادثے میںوزیرِہوا بازی کی باتوں کو تم نے سُنا؟پائلٹوں کے جعلی لائسنس ،اب بولو دُنیا میں ہمارا تماشا بن رہا ہے یا نہیں۔کوٹھے پر چڑھ کر اعلان کرنے کی ضرورت تھی ۔جہاز میں شہید ہونےوالے پائلٹ کے والد کا تو تیسرے دن ہی دُکھ بھرا بیان آگیا تھا۔جس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا خدا کے لیئے میرے بیٹے کی لاش پر سیاست مت کرو“۔
پھر وہ سب چپ ہو گئیں۔آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔پھر ایک نے رندھی آواز میں کہا۔ کاش تم نے کچھ ہوم ورک کیا ہوتا۔کاش تم اچھے لوگوں کا انتخاب کرتے۔پھر کاش کاش کی کتنی ہی دُکھ بھری آوازیں تھیں۔
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭

ِِِ


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved