تازہ تر ین

ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر کیوں؟

اکرام سہگل
پاکستان میں کورونا وبا کا پھیلاو¿ یکدم تیز ہوا اور اب مصدقہ کیسز کی تعداد 2لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ ابتدا میں عوام گھروں پر رہنے اور ’سماجی فاصلہ‘ برقرار رکھنے پر آمادہ تھے لیکن سوشل میڈیا کی غیر ذمہ داری نے وبا سے متعلق ابہام اور شبہات کو ہوا دی اور اب اکثریت بے احتیاطی کے نتائج سے بے پروا ہوچکی ہے۔ نظم و ضبط اور قواعد کی پابندی کو عوام کی مرضی پر چھوڑ کر اسمارٹ یا کسی بھی قسم کا لاک ڈاو¿ں ایک لاحاصل مشق کے سوا کچھ نہیں۔ پوری طاقت کے ساتھ اس کے نفاذ کےلئے خصوصی اختیارات درکار ہیں۔ ایک جانب عوام کو گھروں میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور دوسری جانب ناقابل برداشت گرمی میں بجلی کی بندش نے زندگی عذاب بنا دی ہے۔ پانی کی قلت نے وبا سے بچاو¿ کےلئے بار بار ہاتھ دھونے کی تاکید کو بے معنی کردیا ہے۔ جن حالات میں پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں اس سے عوامی غم و غصے کو ہوا ملی۔ دوسری جانب گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی آئی ہے، پہلے 27 مٹرک ٹن کا اندازہ تھا جبکہ پیداوار 25مٹرک ٹن ہوئی۔ اس فرق کو پورا کرنے کےلئے حکومت کو گندم کی درآمد کی اجازت دینا پڑی۔ حکومت کو آنےوالے دنوں میں خوراک کی قلت کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کپاس ، مکئی اور گنے کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے۔
اس وقت ہم غیر ضروری اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ قومی سرمایہ اور خصوصاً زر مبادلہ کب اور کہاں خرچ ہورہا ہے اس کی پوری نگرانی اور تحقیقات ضروری ہیں۔ جب جنوبی پاکستان میں 2021ءتک بجلی کی ضروریات کا اندازہ 4ہزار میگا واٹ لگایا گیا تھا تو اکتوبر 2019ءمیں این ٹی ڈی سی نے گنجائش پیدا نہ کرنے کے باوجود کے الیکٹرک کو کام جاری رکھنے کی توثیق کیوں دی؟ کے الیکٹرک کو معمولی نرخوں پر گرڈ اسٹیشنوں پر آنے کے بجائے 900اور 700میگا واٹ کے مہنگے پلانٹس لگانے کی سہولت کاری کیوں کی گئی؟ حکومت میں کون اس کا ذمے دار ہے؟ وزارت خزانہ میں بیٹھے لوگ اندھے، گونگے اور بہرے نہیں ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ شیئر ہولڈرز سے ایک پیسہ نہیں مل رہا اور کے الیکٹرک پر بینکوں کے قرض کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ ہم اپنا زر مبادلہ یہ بوجھ اٹھانے میں کیوں صرف کررہے ہیں، ریاست یہ بوجھ کیوں اٹھا رہی ہے جبکہ کراچی کے شہری اضافی بلوں کا عذاب الگ جھیل رہے ہیں۔ این ٹی ڈی سی ، وفاقی وزارت خزانہ اور وزارت توانائی نے اس معاملے میں کیا گٹھ جوڑ کررکھا ہے؟ ایک انتہائی ذمے دار شخصیت نے مجھے ایک دوست کی اس تجویز کی مخالفت سے روکا۔ قومی مفاد پر دوستی کو ترجیح دینا بہت بڑی قیمت ہے۔ریاست کے ساتھ بعض طبقوں کا اجارہ داری کا رشتہ قبول کرکے انہیں جواب دہی سے بالاتر کیوں رکھا جاتا ہے۔
طویل اور شدید موسم گرما ہمارے سامنے ہے، ٹڈی دل ہمارے غذائی تحفظ کو چٹ کررہے ہیں، وبا کے دنوں میں سیلابوں کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے۔ آنےوالا وقت پاکستان کےلئے کسی طرح بھی آسان نہیں۔ ہمارے بجٹ کا سارا انحصار آمدن بڑھانے پر ہے نہ جانے ہماری معاشی ٹیم کس دنیا میں رہتی ہے اور سوچ رہی ہے کہ ان حالات میں لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس ان کی جھولی میںڈال دیں گے۔ صرف ہنگامی حالات کے نفاذ سے ملنے والے اختیارات ٹیکس مشینری کو مو¿ثر بنا سکتے ہیں۔ پہلے سے ٹیکس دینے والوں جیبیں جھاڑنے سے کام نہیں چلے گا، ٹیکس نیٹ سے باہر مزے کی بسر کرنے والوں کو دائرے میں لانا ہوگا۔ مزید قرضے میسر نہ آنے کی صورت میں آخر کار معاشی اور سیاسی قیامت خیزی کا سامنا ہوگا۔ کیا ہم گلیوں چوراہوں میں ہنگامے برپا ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔
گزشتہ دنوں اپنے لکھے گئے ایک کالم ”فتنہ و انتشار کی ممکنہ دوسری لہر“ کے کچھ حصے یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ”بھارت نے افغانستان میں بڑی مشکل سے قدم جمائے تھے۔ 80ءکی دہائی میں روسیوں اور افغانیوں اور 2000ءکے بعد امریکیوں اور افغانیوں کے جان و مال کی قیمت پر بھارت نے اس خطے میں پاکستان کے خلاف درپردہ محاذ کھولے رکھا۔ افغانستان میں شروع ہونےوالے امن عمل سے بھارت کے پیروں تلے سے یہ زمین بھی کھسک رہی ہے۔ یہ سیاق و سباق پیش نظر رہے تو سمجھنا مشکل نہیں کہ بلوچستان میں بھارتی سرگرمیوں میں تیزی کیوں آرہی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت ہمیشہ سے اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی چودھراہٹ جمانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے ۔ مودی اور اجیت دووال سے کیا یہ بعید ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی کی نئی لہر پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیں یا اس کی فکر میں نہ رہتے ہوں؟ بھارت میں عوام اور میڈیا چینیوں کا خون مانگ رہے ہیں ایسے حالات میں مقامی اور بین الاقوامی رائے عامہ کا رُخ موڑنے کےلئے کوئی بھی درپردہ کارروائی عین ممکن ہے۔ اسٹاک ایکسچینج تو آغاز ہے۔“
موجودہ حالات میں باقاعدہ اعلان کیے بغیر ہی کئی ممالک نے ایمرجنسی نافذ کی۔ ہمارے ”جمہوریت پسند“ احتساب سے فرار کےلئے موجودہ حالات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حفیظ شیخ اور ان کے ساتھیوں نے جو بجٹ پیش کیا وہ ایک نپا تلا خطرہ مول لینے کے مترادف ہی ہے۔ کیا ہم مشیر خزانہ اور ان کے ساتھیوں کے وعدوں پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرسکتے ہیں؟ امید کی جانی چاہیے کہ یہ صرف وقت کو ٹالنے کی کوشش نہ ہو۔ذاتی تجربے کی بنیاد پر اگرچہ میرا یہی خیال ہے۔
اپنے ایک گزشتہ کالم میں یہ تجویز دے چکاہوں کہ ”جنگی حالات اور داخلی انتشار وغیرہ سے نمٹنے کےلئے آئین کے آرٹیکل 232کے تحت ہنگامی حالات نافذ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس کا تعلق داخلی انتشار یا غیر ملکی جارحیت کی صورت میں پاکستان یا اس کے کسی خاص حصے کی حفاظت سے ہے۔ یا اگر کسی داخلی بد نظمی کے باعث حالات صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہوجائیں تو بھی اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔اس کےلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہوگی۔ آئین کے مطابق صدر اگر ہنگامی حالات نافذ کردے تو دس روز کے اندر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) سے اس اقدام کی توثیق حاصل کرنا ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل233کے مطابق ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد آرٹیکل 15، 16، 17، 18، 19اور 24میں فراہم کیے گئے بنیادی حقوق معطل ہوجاتے ہیں۔ ریاست کو انتظامی فیصلوں کے وسیع اختیارات ہوجاتے ہیںتاہم ہنگامی حالات ختم ہوتے ہیں ایسے فیصلے میں تبدیلی کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ایمرجنسی میں کیے گئے اقدامات کو چیلنج نہیں کیاجاسکتا تاہم مجلس شوری سے ان کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔“
بھارت چھپ کر اور علی الاعلان ہمارے خلاف شورش برپا کررہا ہے اور اس کی پراپیگنڈہ مشینری بھی پوری طرح متحرک ہے۔ کیاہم بھی 1971ءکی تاریخ سے سبق سیکھنے کےلئے تیار نہیں؟ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پورے کرنے کےلئے انتظامیہ کے اختیارات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میںحزبِ اختلاف مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی کرپٹ قیادت کو جیلوں سے باہر رکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ پہلے بھی انہی صفحات پر خبردار کرچکا ہوں کہ پاکستان فوج کو مستقبل میں ہمہ جہت چیلنج کےلئے تیار رہنا چاہیے۔ مادام دی سٹائل نے نپولین کے تختہ الٹنے پر کہا تھا ”اخلاقی قوت سے محروم ہوتے ہی قومی نمائندگی تباہ ہوجاتی ہے اور ایک قانون ساز ادارہ جیسا بھی ہو فوج کےلئے پانچ سو نفر کے ہجوم سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ ہجوم اتنی ہی تعداد کی بٹالین کے مقابلے میں کم منظم اور جنگ جو ہوتا ہے۔“
آئین میں حالات کے مطابق اقدامات کا راستہ واضح ہے اور حکومت کو فوری ہنگامی حالات کا نفاذ کردینا چاہیے۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری نے اخراجات کےلئے حکومت کو قانونی جواز فراہم کردیا ہے۔ اب آئین کے مطابق حالات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدام کی ضرورت ہے یا ہم انتشار پھیلنے کا انتظار کریں گے اور ایک بار پھر ’نظریہ¿ ضرورت“ کے راستے پر چلیں گے۔
( کالم نگار دفاع اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved