تازہ تر ین

پاکستانی قوم کیوں نہیں بن سکے

پیارے پڑھنے والے سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم نے متحدہ ہندوستان میں دو قومی نظریہ کے تحت اپنی الگ ریاست مانگی تو قائداعظم کی زیرقیادت ہمارا یہ سفر مکمل ہوا اور ہمارا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہم الگ قوم ہیں‘ ہندوﺅں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ہم دراصل اپنی الگ ریاست اس لیے بھی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے رہن سہن‘ دینی اقدار اور اسلامی فلاحی ریاست تشکیل دے سکیں۔ علامہ اقبال کو مصور پاکستان کہا جاتا ہے۔ وہ لفظ قوم کے بہت خلاف تھے کیونکہ وہ مسلمانوں کو قوم نہیں اُمت سمجھتے ہیں‘ جو پوری دنیا میں آباد ہیں۔ پاکستان چونکہ اسلامی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اس لیے ہمیں ایک مثالی ریاست قائم کرنا تھی۔ جس میں معاشی اور سماجی انصاف ہو‘ مساوات ہو اور جسے ہم ناروے اور سویڈن کی فلاحی ریاستوں کے مقابلے میں پیش کر سکیں۔ بدقسمتی سے وسطی ہندوستان کے جن مسلمانوں نے تحریک پاکستان کیلئے قربانیاں دیں‘ تقسیم کے فارمولے کے تحت وہ ہندوستان ہی میں رہ گئے اور جن علاقوں میں پہلے ہی مسلمان اکثریت میں تھے ،جیسے مشرقی بنگال‘ پنجاب‘ سندھ‘ سرحد (خیبرپختونخوا) اور بلوچستان‘ وہاں پاکستان بن گیا۔ 1971ءمیں ہماری غلطیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا حالانکہ اس کی آبادی ان چاروں صوبوں سے زیادہ تھی۔ باقی ماندہ پاکستان میں بھی آج آپ کو پاکستانی قومیت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ابن انشاءکی کتاب میں ایک خاکہ پاکستانیت کے حوالے سے بھی ہے۔ اتفاق سے میرے پاس اس وقت کتاب کا حوالہ موجود نہیں تاہم انہوں نے لکھا تھا کہ برطانیہ میں انگریز قوم رہتی ہے‘ فرانس میں فرانسیسی قوم‘ جرمنی میں جرمن قوم‘ ایران میں ایرانی لوگ‘ افغانستان افغانوں کا ہے لیکن پاکستان میں پاکستانی کہاں ہیں؟
اس طنزیہ خاکے میں ابن انشاءنے جو پنجاب کے رہنے والے تھے‘ لیکن عمر بھر کراچی میں رہے، شاعری کی اور اخبارات میں کالم لکھے، ان کی بہت سی کتابیں ہیں۔ اردو بازار کے آغاز میں ان کے سگے بھائی چودھری سردار محمد کی کتابوں کی دکان ہوا کرتی تھی۔ واقعی پاکستانی کو تلاش کرنے نکلیں تو کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہم تقسیم در تقسیم سے ایک مضبوط پہاڑ کی بجائے رائی کا دانہ بن چکے ہیں۔ قائداعظم کو شاید اس بات کا احساس تھا لہٰذا ان کی تعلیمات قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ یہ تھیں کہ تم میں سے کوئی بنگالی ہے نہ پنجابی‘ سندھی نہ پٹھان اور نہ بلوچ تم سب پاکستانی ہو۔
صوبہ یا علاقہ ہم سب کو پیارا ہوتا ہے‘ ہم ذات اور برادری کو تو باقاعدہ پوجتے ہیں۔ لہٰذا تقسیم در تقسیم میں صوبے ہوں یا ذات برادری یہ صرف شناخت کیلئے ہیں ورنہ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو صرف ذات برادری کی بنیاد پر رشتہ نہ کرتے دیکھا‘ یہ راجپوت ہے، یہ قریشی ہے ،یہ جٹ ہے، یہ رانا ہے، غرض جتنے نام اتنی ذاتیں۔
میرے خیال میں ذات برادری اور صوبہ اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ ہر دور میں انہیں اہمیت دی گئی مگر آپ تقسیم در تقسیم کا فارمولا تو دیکھئے۔ ہم بہاولنگر کے سکول میں پڑھتے تھے اور شہر سے تین میل دور گاﺅں میں ہمارے نانا کی زمین تھی۔ ان دنوں جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی‘ ہم جمعرات کی شام کو گاﺅں چلے جاتے اور جمعہ کا دن گزار کر ہفتہ کو صبح گاﺅں سے چل پڑتے اور وقت پر سکول پہنچ جاتے۔ وہاں کی مقامی زبان کو ریاستی کہتے تھے۔ یہ سرائیکی ہی کی ایک شکل ہے۔ ابھی زمینیں آباد نہیں ہوئی تھیں اور جنگل میں سے گزرنا پڑتا تھا۔ دور سے کسی کو آتا دیکھ کر ایک ہی سوال ہوتا تھا کون بِھرا ہو؟جواب میں بندہ اپنی برادری اور گاﺅں کا نام بتاتا۔لیکن کاش ذات برادری اور صوبہ شناخت ہی تک محدود رہتا۔ پچھلے دنوں ایک سندھی لیڈر نے کہا مجھے دفن نہ کیا جائے کیونکہ جب تک سندھ آزاد نہیں ہوتا میں غلام سندھ میں دفن ہونا پسند نہیں کرتا۔ بھارت کے مسلمانوں کی حالت زار دیکھنے کے بعد بھی کچھ دوستوں کو سبق نہیں ملا۔ ہمیں تو اپنے آپ کو متحد رکھنا تھا‘ پاکستانی قوم کو متحد رکھنا تھا اور بھارت میں موجود 20 کروڑ مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنا تھا‘ لیکن سندھ میں جی ایم سید صاحب کی تحریک جیئے سندھ اگرچہ اب نہیں رہی کہ وہ فوت ہو چکے ہیں مگر سندھ کے جس سیاستدان یا صوبائی حکمران کو کوئی خوف دامن گیر ہوتا ہے تو ”سندھ کارڈ“ استعمال کرتا ہے۔
ذرا ساتھ والے صوبے بلوچستان کو دیکھ لیں بھارت جتنی کوشش بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کیلئے کر رہا ہے‘ اسلحہ‘ رو پیہ‘ ٹیلی ویژن‘ پمفلٹ بازی‘ یوں لگتا ہے کہ انڈین پراپیگنڈے کو دیکھا جائے تو بلوچستان آج گیا کہ کل گیا۔
خیبر پختونخوا یعنی سابقہ صوبہ سرحد کی تو لاٹری نکل آئی کہ افغان مہاجرین کے بعد افغانستان میں طالبان آ گئے ورنہ خان عبدالغفار خان کے بعد عبدالولی خان ہمیشہ افغانستان سے خود کو جوڑنے کی باتیں کیا کرتے تھے اور اجمل خٹک جب جنرل سیکرٹری تھے اور فرار ہو کر کابل پہنچے ہوئے تھے تو وہ وہاں سے بیٹھ کر تقریریں کیا کرتے تھے کہ افغانستان کی حدود دریائے اٹک تک ہے بعد میں وہ تائب ہو گئے اور نوازشریف کے ساتھ تحریک نجات میں شامل ہوگئے۔ میری ان سے طویل ملاقاتیں رہی ہیں اور میں نے ان کی زبانی بہت واقعات سنے ہیں۔ بلوچستان سے عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے محمود اچکزئی بھی کہتے ہیں کہ افغانستان سے آنے والوں کو مہاجر نہ کہو‘ خیبر پختونخوا ان کا وطن ہے۔
بلوچستان میں بڑی آبادی بلوچوں کی ہے اور بہت سے پختون بھی آباد ہیں۔ اچکزئی صاحب شاید مستقبل میں بلوچستان کے پختون علاقے کو خیبر پختونخوا میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رضا ربانی صاحب نے 18 ویں ترمیم کا تحفہ صوبوں کو دیا تھا جو جائز تکالیف کی حد تک تو درست ہے‘ لیکن گزشتہ روز صدر پاکستان عارف علوی تک یہ کہہ چکے ہیں کہ 18 ویں ترمیم پر نظرثانی ضروری ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ کوئی صوبہ وفاق کی بات ماننے سے انکار نہ کر دے۔ کہا جاتا ہے کہ صوبے اب ملک بنتے جا رہے ہیں‘ کیا صرف قومیت کی شناخت رفتہ رفتہ الگ ریاست کی طرف تو نہیں جا رہی؟
بھارت اسرائیل اور بعض امریکی حلقوں کو بڑی تشویش ہے کہ پاکستان کے فلاںفلاں علاقے میں حکومت زیادتی کر رہی ہے۔ مقامی عصبیتوں پر امریکن سکالرز ریسرچ کر رہے ہیں۔ کوئٹہ میں‘ میں نے انگریزی میں اتنی کتابیں دیکھیں جن کا موضوع مقامی لوگ‘ عادات‘ رسم و رواج‘ تاریخ وغیرہ تھا۔ گو یہ” سندھ کارڈ“ بھی موجود ہے بلوچستان میں‘ علیحدگی کی آوازیں بھی اور اللہ بھلا کرے طالبان کا کہ خیبر پختونخوا میں ولی خان فیملی خاموش ہے۔ افغانستان جس میں کچھ لوگ شامل ہونا چاہتے تھے، اب خود بحران کی زد میں ہیں اور اشرف غنی کی حکومت 40 فیصد رقبے پر چلتی ہے تو 60 فیصد طالبان کے پاس ہے جو پاکستان کے ہرگز مخالف نہیں ہیں۔
اب آیئے پنجاب کی طرف مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی باقی تینوں صوبوں سے زیادہ ہے۔ معلوم نہیں بہاولپور کو صوبہ بنانے کی قرارداد نوازشریف صاحب کے دور میں شروع ہوئی تو لاہور ہی میں کیوں پڑی رہی؟ قومی اسمبلی میں لے جا کر سینٹ سے کیوں نہ منظور کروائی گئی؟ اب تو مسلم لیگ ن بھی جنوبی پنجاب کے سیکرٹریٹ کے خلاف ہے حالانکہ وہ پہلا قدم ہے الگ صوبے کی طرف۔
آخر میں‘ میں چند اور باتوں کا اشارتاً ذکر کروں گا۔ اردو زبان کے نفاذ کی تحریک چلانے والی محترمہ فاطمہ صاحبہ ٹھیک کہتی ہیں کہ ہم نے آئین میں درج ہونے کے باوجود اردو کا نفاذ نہیں کیا‘ پھر ذات برادریوں میں بھی بہت فرق آ گیا ہے۔ امیر جٹ اور امیر آرائیں ‘ غریب جٹ اور غریب آرائیں کی نہیں سنتا۔ ملک کے مختلف حصوں میں قبائلی نظام چل رہا ہے۔ پنچائتیں آج کل الٹے سیدھے فیصلے کرتی ہیں اور مختاراں مائی کے فیصلے کی طرح ان کی بھی بعد میں خبریں چھپتی ہیں۔ بیوروکریسی میں بھی ذات برادری اور قومیت آ گئی ہے‘ لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں لو جی ہمارا بندہ آ گیا۔ ہم نے قائداعظم کے فرمان کے مطابق خود کو پاکستانی نہیں بنایا بلکہ سندھ‘ پنجابی‘ پٹھان اور بلوچ ہی رہے۔ زبان ہم نے تبدیل نہیں ہونے دی حالانکہ ضرورت تھی ۔سارے ملک میں جہاں جہاں ضرورت ہے بالخصوص پنجاب میں کم از کم تین چھوٹے صوبے بنائے جائیں تاکہ باقی تینوں صوبوں کی تنقید ختم ہو۔ موجودہ طرز جمہوریت صرف چند ہزار لوگوں کو اقتدار میں لاتا ہے اور ووٹر اپنی رائے دینے میں آزاد نہیں ہے۔ دولت‘ ذات برادری‘ پیری مریدی‘ زمینداری شوگرمل‘ صنعتکاری اور سرمایہ داری‘ قبائلی برادری اور خان ہونا اب تو عام آدمی بھی کہنے لگا ہے کہ اس انداز جمہوریت سے کبھی عوام کے حقیقی نمائندے منتخب نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کا نام اب نوٹ پر ہے یا فوج پر لاگو ہوتا ہے۔ معاف کیجئے یہ پاک فوج جس کی بڑی خدمات ہیں کب تک ان صوبوں کو اکٹھا چلا سکے گی۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved