تازہ تر ین

تبدیلی کا سفر…….. (2)

عظیم نذیر
فرد اور معاشرہ ہر وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے اور ان دیکھی تبدیلیوں کے کئی سلسلے زندگیوں کے کئی زاویوں اور کئی پہلوﺅں کو انسان کے نہ چاہتے بھی بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ تبدیلی ہر کوئی چاہتا ہے لیکن دوسروں کیلئے اپنے لئے نہیں‘ سب کچھ ٹھیک جانتے ہوئے بھی تبدیلی کو نہ ماننے پر ہی ابوجہل کو ابو جہل کہا گیا۔ تبدیلیوں کے راستے میں کئی مزاحمتیں حائل ہوتی ہیں۔ موج کرنے والا ایس ایچ او کبھی پولیس ریفارمز نہیں چاہے گا۔ بڑے بڑے افسر اور سیاستدان میرٹ پر تقرریوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ افسر شاہی اپنا احتساب نہیں چاہتی اس لئے احتساب کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم تبدیلی کو صرف دوسروں کی حد تک دیکھتے ہیں اگر کوئی تبدیلی ہمارے طبقے یا شعبے کی جانب بڑھنے لگے تو شور مچا دیتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے تبدیلی کی کیا ضرورت ہے اور اپنے لئے آنے والی کسی بھی تبدیلی کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں کیونکہ کوئی بھی طبقہ اپنے آرام دہ ماحول سے باہر نکلنا نہیں چاہتا ۔جو شخص سب سے پہلے اپنا مفاد دیکھتا ہو وہ صرف اپنا ہی فائدہ دیکھنا چاہتا ہے۔ مال بنانے کا عادی شخص ہر دور میں مال بنانے کو ترجیح دے گا قومی مفاد کیلئے آنےوالی کوئی تبدیلی برداشت نہیں کرے گا نہ احتساب کے کسی عمل کی حمایت کرے گا وہ یہی کہے گا کہ جعلی ڈگری والے پائلٹوں کو نوکری سے نہ نکالو ان کی تنخواہ آدھی کردو۔ یہاں تو پلاسٹک بیگ کا استعمال ترک کرنے جیسی تبدیلی بھی سال سالہا سے نہ لائی جاسکی۔
کسی بھی تبدیلی کے تین مراحل ہوتے ہیں‘ موجودہ حالت‘ منتقلی اور مستقبل لیکن ہماری اکثریت بحیثیت قوم اور انفرادی سطح پر موجودہ حالت میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ مستقبل کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا‘ منتقلی کا مرحلہ یعنی ”حال“ سب سے کٹھن، دشوار گزار‘ دباﺅ کی بھرمار اور اضطراب پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ تبدیلی آسان نہیں ہوتی ہماری عادتیں جو بقول سیگمنڈ فرائیڈ چالیس سال کی عمر کے بعد پتھر کی سل کی طرح سخت ہوجاتی ہےں۔معاشی ناہمواری‘ عدم تحفظ‘ نامعلوم کا خوف‘رویے اور رجحانات اپنی توانائیوں کے مطابق تبدیلی کے راستے میں مزاحم ہوتے ہیں۔ ADKAR ماڈل کے مطابق سب سے یہ معلومات فراہم کی جائیں کہ تبدیلی کی ضرورت کیا ہے، پھر ہماری خواہش اور پسند کہ ہم تبدیل ہونا چاہتے ہیں ،ہمیں یہ بھی پتہ ہو کہ کیسے تبدیل ہونا ہے۔ ہمیں تبدیلی کو لاگو اور نافذ کرنا آتا ہو اور پھر یہ کہ تبدیلی کو برقرار کیسے رکھنا ہے۔ لیکن ہم تو پہلی سٹیج پر ہی پھنسے نظر آتے ہیں کہ تبدیلی کی ضرورت کیا ہے۔ پانچ ردعمل ہمیشہ کسی بھی تبدیلی کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے تبدیلی سے انکار کیا جاتا ہے ، اسے بالکل ضروری اور وقت کی آواز نہیں سمجھا جاتا، تبدیلی کے کسی احساس سے غصے اور جارحیت کے احساسات جنم لینے لگتے ہیں‘ تبدیلی کی بات کرنے والا برا لگتا ہے اور بحثیں شروع ہوجاتی ہیں تو تبدیلی کیلئے کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی اپنا لی جاتی ہے اور یہاں پھر ڈپریشن کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دور شدید مایوسی ور پژمردگی کا ہوتا ہے جب کوئی فرد یا قوم اس سٹیج سے کامیابی کے ساتھ گزر جائے تو تبدیلی کو قبول کرلیتی ہے‘ اقبال کا شعر ہے۔
آئین نو سے ڈرنا‘ طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
کہا جاتا ہے ادارے تبدیل نہیں ہوتے۔ اداروں کے سربراہ تبدیل ہوتے ہیں ،ملک تبدیل نہیں ہوتے قومیں تبدیل ہوتی ہیں‘ نئی ٹیکنالوجی عالمی مقابلہ بازی‘ کساد بازاری‘ کاروباری اتار چڑھاﺅ اور آگے بڑھنے کے راستے کی پیچیدگیاں صرف ایک ہی بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ تبدیل ہوجاﺅ یا مر جاﺅ۔ اقبال فرماتے ہیں۔
موسم اچھا پانی وافر‘ مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان
مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں کل کے ساتھ ہی چلا گیا میرا ماضی‘ کل کے سارے الفاظ اب ماضی بن چکے ہیں۔ اب یہ دور نیا بول بولنے کا ہے لیکن اپنے اپنے رسم ورواج سے دورہٹے بغیر تبدیلی ناگزیر ہے۔ چین نے بے تحاشا ترقی کی لیکن ان کی اصل کامیابی اتنی بڑی تبدیلیوں کے باوجود اپنے رسوم ورواج نہ چھوڑنا ہے۔ مثال کے طور وہاں آج بھی مشترکہ خاندانی نظام ہی رائج ہے۔ 1970ءمیں ایلون ٹوفلر نے اپنی کتاب (Future shock )مستقبل کا صدمہ میں لکھا کہ نسل انسانی کو تاریخ کے تیز ترین دور کا سامنا ہے جس کی وجہ ہائی ٹیکنالوجی ہے۔ اس نے لکھا کہ اکیسویں صدی میں تبدیلی کی رفتار اتنی تیز ہوجائےگی کہ اسے سنبھالنا اور اختیار کرنا مشکل ہوجائے گا۔ تبدیلی کیخلاف مزاحمت انسانی فطرت کا لازمی جزو ہے اسے کیونکہ انتشار‘ گڑ بڑ اور افراتفری کے زمرے میں لیا جاتا ہے اس لئے کوئی بھی تبدیلی دباﺅ پیدا کرتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تخلیق کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا جس طرف جارہی ہے وہاں صرف مسائل کو حل کرنے کی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت پڑے گی۔ انتہائی تیز رفتار تبدیلی سے گھبرائے لوگ اقبال کے اس شعر پر پورا اتریں گے۔
میں ناخوش اور بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو
انتہائی تیز رفتار اور مرضی کی مالک تبدیلیوں کے راستے میں رکاوٹیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ بہت سی تبدیلیاں کئی سال سے جاری ہیں۔ ہوسکتا ہے مکمل وہ اس دور حکومت میں ہوں جیسے پنجاب تقسیم ہوسکتا ہے، کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر پیشرفت ہوسکتی ہے ،پارلیمانی جمہوریت کی بساط لپیٹی جاسکتی ہے کیونکہ سیاستدانوں کی مسلسل بدنامی نے پارلیمانی نظام پر کاری وار کیا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں سے صرف سیاستدان ہی نشانہ ہیں باقی سارے بہت اچھے ہیں۔ سیاستدانوں کو گندہ کرنے کا مقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ پارلیمانی نظام ختم کرنے کی راہ ہموار کر دی جائے۔اس وقت بڑی بڑی تبدیلیاں منہ کھولے کھڑی ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ تبدیلیاں لوگوں اور سٹیک ہولڈرز کی مرضی کے مطابق ہوں۔ تیزی سے بدلتے حالات میں تبدیلی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو وزیراعظم کی تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ابھی تک وہ اس کیلئے نہ تو کوئی راستہ تلاش کرسکے ہیں نہ ہی کوئی لائحہ عمل بنا سکے ہیں۔ انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وزیراعظم صرف باتوں سے تبدیل نہیں ہوسکتے۔ دوسری طرف یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اگر وزیراعظم کیخلاف کوئی تحریک عدم آتی ہے اور وہ کامیاب ہوجاتی ہے تو نیا آنے والا وزیراعظم بھی اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکے گا اور پھر اس کے بعد آنےوالا بھی اعتماد کا ووٹ نہ لے سکا تو آئین کے مطابق اسمبلی خود بخود تخلیل ہوجائے گی اور ممکن ہے نئے الیکشن کرانے کے نام پر ایک نگران قومی حکومت بنائی جائے اور پھر پہلے اصلاحات کا واویلا کرکے اسی حکومت کو زیادہ عرصہ چلایا جائے اور اس کیخلاف کچھ زیادہ عوامی ردعمل بھی نہیں ہوگا کیونکہ سیاستدانوں کی انتہائی حد تک کردار کشی عوام کے دماغ تبدیل کرچکی ہے اور لوہا گرم ہے کہ اس پر نظام تبدیل کرنے کی چوٹ لگا دی جائے۔ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ سیاستدان ہوں گے جو صرف پیسے کے پیچھے بھاگتے رہے اور عوام کی دادرسی نہ کرکے وہ عوام سے بھی دور ہوگئے کیونکہ وہ عوام سے کہتے ہیں کہ میں سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں اور حقیقت میں وہ سیاست کو کاروبار کےلئے استعمال کررہے ہوتے ہیں ۔یہی بات پارلیمانی جمہوری نظام کیلئے قاتل ثابت ہورہی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کا کام بدلتے حالات کے مطابق عوام کیلئے قانون سازی کرنا ہوتا ہے لیکن اسمبلیاںقانون سازی نہیں کر پا رہیں۔ صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر کام کریں تو آرڈیننسز کی تعداد کم ہوجائے۔ قومی مفاد کے معاملات میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے کسی بھی مثبت تبدیلی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں لیکن شاید اس معاملے میں بھی تبدیلی اپنا راستہ خود بنالے۔
تبدیلی ایک لفظ نہیں ارتقائی عمل ہے، قوموں میں تبدیلیاںدیرپا ارتقاءکا نتیجہ ہوتی ہیں نہ کہ صرف ایک دور حکومت کا‘ اب یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ جس سفر پر وہ چل نکلے ہیں اس میں منزل کا انتظار انہوں نے تحمل سے کرنا ہے یا راستے سے واپس پلٹنے کی جستجو کرنی ہے۔ (ختم شد)
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved