تازہ تر ین

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اور مسئلہ کشمیر

شاہد رشید
قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی اُس وقت مسئلہ کشمیر پیدا ہوگیا جب بھارتی افواج نے کشمیر کے ایک حصہ پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ مسلمانانِ پونچھ نے کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ کے جبر واستبداد کے خلاف علمِ آزادی بلند کر کے آزاد حکومت قائم کر لی۔ پونچھ کے مجاہدین پر ہندو راجے کا کچھ زور نہ چلا تو اس نے ڈوگرہ فوج کو جموں کے مسلمانوں کے قتلِ عام کا حکم دے دیا۔ وحشت کے اس انسانیت سوز مظاہرے نے اہلِ پاکستان کی غیرت کو للکارا۔ وہ تڑپ کر کشمیری مسلمانوں کی مدد کو دوڑے اور دنیا نے دیکھا کہ مومن واقعی بے تیغ بھی لڑ سکتا ہے۔ مہاراجہ نے پے درپے شکست کھانے کے بعد 26اکتوبر 1947ءکو بھارت سے الحاق کی درخواست کر کے فوجی امداد طلب کر لی۔ بھارتی فوج دھڑا دھڑ کشمیر پہنچنے لگی۔ ہیکٹر بولیتھو‘ قائداعظمؒ کے برطانوی سوانح نگار لکھتے ہیں ”گورنر جنرل کی حیثیت سے انہیں اس خطرناک صورت حال کی چھان پھٹک کر کے فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ بھارتی فوج طیاروں کے ذریعے کشمیر پہنچ رہی تھی جہاں گھمسان کا رن پڑا تھا۔ قائداعظمؒ نے کشمیری مسلمانوں کی حفاظت کےلئے اپنی ”نامکمل فوج“ کو کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ سرکلاڈ آکلنک کو (جواس وقت تک متحدہ کمان کے برطانوی کمانڈر تھے) دو گھنٹے کے نوٹس پر طلب کر لیا گیا۔ اس نے قائداعظمؒ کی تجویز سنی تو کہا ”اگر پاکستانی فوج نے کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو وہ تمام انگریز فوجی افسروں کو جن میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے کمانڈر انچیف بھی شامل ہیں واپس بلا لیں گے“۔ لہٰذا یہ تجویز ترک کردینی پڑی۔ جنرل گریسی نے قائداعظمؒ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ یوں بھارتی فوج کو وادی ¿ جموں وکشمیر میں قدم جمانے کا موقع مل گیا جس کے بعد اس کی شہ پر ڈوگرہ راجہ کی پولیس نے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے شروع کر دئیے اور انہیں زبردستی پاکستان کی سرحدوں کی طرف دھکیل دیا۔
کئی بار یہ بات زیر بحث آئی کہ کیا قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظمؒ آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کا ذکر کرتے رہے ۔ ان دنوں زیارت میں ان کے ذاتی معالجین اورہمیشہ مادرِ ملتؒ ہی زیادہ تر ان کے پاس ہوتے تھے۔ مادرِ ملتؒ کی قریبی ساتھی اور قائداعظمؒ کے سیکرٹری کے ایچ خورشید مرحوم کی اہلیہ بیگم ثریا خورشید نے بارہا یہ بتایا کہ مادرِ ملتؒ نے کئی بار اپنی گفتگو میں قائداعظمؒ کی بات کو دہرایا کہ قائداعظمؒ کشمیر کو بہت اہمیت دیتے اور اسے پاکستان کی شہ رگ کہتے تھے۔ مادرِ ملتؒ نے اپنی تقاریر میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ نومبر 1964ءکو لاہور میں وکلاءسے خطاب کرتے ہوئے مادرِ ملتؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور مجاہدین کی حوصلہ افزائی کےلئے کشمیر کے متعدد دورے کئے۔
قائداعظمؒ کی وفات کے بعد مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے وادی جموں و کشمیر پر بھارت کی بالادستی کےخلاف بھر پور آواز اُٹھائی ۔ وہ مظلوم و مغلوب کشمیریوں کی امداد کی خاطر ویسے ہی سرگرم ہو گئیں جیسے بھارتی علاقوں مےں ہجرت کرکے پاکستا ن آنے والے مہاجرین کی آباد کاری کےلئے مصروف کار تھیں۔ اس سے مادرِ ملّتؒ کی پاکستان اور کشمیر سے محبت کا پتہ چلتا ہے ۔وہ جانتی تھیںکہ وادی جموں و کشمیر کی خطہ پاک کےلئے بےحداہمیت ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ کشمیریوں پر ڈوگرہ راجہ کیوں ظلم توڑ رہا ہے ۔ محض اس لئے کہ وہ مسلمان تھے اور وادی کا الحاق ارضِ پاک کے ساتھ چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مسلمان کشمیری مہاجرین کی امداد کے واسطے شہر شہر گھوم کر اہل زر سے عطیات وصول کرنے شروع کر دئےے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دسمبر 1948ءمیں کراچی کی انجمنِ تاجران سے خطاب کرتے ہوئے وادی کشمیر کی اہمیت بےان کی اور ساتھ ہی بے خانماں کشمیری مہاجرین کی حالتِ زار کا نقشہ بھی نہایت درد مندی سے کھینچا۔ مادرِ ملّتؒ نے فرمایا:
”گزشتہ کئی ماہ سے میں کشمیری مہاجرین اور مجاہدین کی امداد کےلئے اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہوں۔ اہل تجارت نے جس حب الوطنی کا اظہار کیا ہے مےں بطور خاص اس کی قدر کرتی ہوں۔ اس وقت پاکستان کومختلف اہم مسائل کا سامنا ہے جن میں کشمیر سب سے زیادہ اہم ہے۔مدافعتی نقطہ¿ نظر سے کشمیر پاکستان کی زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اقتصادی لحاظ سے کشمیر پاکستان کی خوشحالی کا منبع ہے۔ پاکستان کے بڑے دریا اس ریاست کی حدود سے گزر کر پاکستان میں داخل ہو تے اور ہماری خوشحالی میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے بغیر پاکستان کی خوشحالی خطرے مےں پڑ جائے گی۔آزاد اورغیر جانبدارا نہ رائے شماری جس میں کسی بھی قسم کا جبریا اثر استعمال نہ کیا جائے فوری طور پر ہونی چاہےے۔ کشمیر کے عوام کو اس کی اجازت ہونی چاہےے کہ وہ آزادانہ طور پر اظہار رائے کر سکیں تاکہ اقوام متحدہ کی یہ ساکھ قائم رہ سکے کہ وہ دنیا کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ کشمیر کی تقسیم کے بارے مےں بعض حلقوں میں لغو اور غلط قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ کشمیر اور پاکستان کے عوام اس بات پر کبھی راضی نہ ہوں گے نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت نہیں اپنے سے مضبوط ارادے سے ہٹا سکے گی۔ ایسا کرنے کی کوشش یقینادونوں ملکوں کو تباہی کی جانب لے جائے گی۔“
محترمہ فاطمہ جناحؒ نے 30اپریل 1949ءکو پشاور میں مسلم لیگ کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے جانبازوں کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا: ” کشمیر کے مسئلے پر آپ نے جس سرفروشی اور بہادری سے مجاہدانہ خدمات انجام دی ہیں اور کشمیر کے مصیبت زدوں کو امداد پہنچانے مےں جو جدوجہد کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ پاکستان کے ہر فرد کے دل و دماغ پر کشمیر کا مسئلہ قابض ہے۔ ہر شخص اس کے مستقبل کے بارے مےں دلچسپی لیتااورتجسّس کرتا ہے ۔اس سلسلہ مےں ہمارے بے قرار دلوں کو اس وقت تک قرار نہےں مل سکتا جب تک کہ مسئلہ کشمیر پورے طور پر حل نہ ہو جائے اور ہم کو اپنے دیرینہ مقصد مےں کامیابی حاصل نہ ہو جائے۔“
کشمیر کے معاملے مےں مادرِ ملّتؒ جہاں کشمیری مہاجرین کےلئے چندہ جمع کرتی رہیں وہاں مجاہدین کشمیر کے حوصلے بلند رکھنے کےلئے شہر شہر جا کر جلسوں سے بھی خطاب کرتی رہیں۔ پاکستان معرض ِ وجود مےں آچکا تھا ۔ حکومت قائم ہو چکی تھی مادرِ ملّتؒ چاہتیں تو اب آرام سے گھر بےٹھ سکتی تھیں۔ لیکن انہےں چونکہ برصغیر کے مسلمانوں کا بے حد خیال تھا پھر پاکستان کی سا لمیت اور ترقی بھی انہیں عزیز تھی اس لئے جہاں وہ پاکستان کے اقتصادی اور سماجی سدھار میں بھر پور دلچسپی لے رہی تھیں وہاں اس کے استحکام او ر تحفظ کےلئے بھی متفکر تھیں۔وہ جانتی تھیںکہ کشمیر کا حصول پاکستان کی سا لمیت کےلئے بے حد ضروری ہے اس لئے باقی کام چھوڑ کر وہ کشمیر کے تنازع کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگیں۔ ان کے سینے میں پیارے بھائی کی دائمی جدائی کا زخم ابھی تازہ تھاکہ وہ مظفر آباد جا پہنچیں اور وہاں مجاہدین کو 9مئی 1949ءکو مخاطب کر کے فرمایا:”میں آج سر زمینِ کشمیر کے ان بہادروں کو مخاطب کر رہی ہوں جنہوں نے اپنی آزادی حاصل کرنے میں بےش بہا قربانیاں دی ہیں اور انقلاب کے طوفان کا زبردست مقابلہ کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ آپ لوگ مصائب و آلام کی جن منزلوں سے گزر رہے ہیں وہ اس قدر دردناک ہیں کہ کوئی انسانی محبت اور جذبہ رکھنے والا دل اس پر آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کے محبوب قائداعظمؒ مرحوم کو مسئلہ کشمیر سے دلی لگاﺅ تھا۔ اپنے بستر مرگ کے آخری لمحات میں جب ان کی روح دنیاوی تعلقات اور رشتوں سے منقطع ہو رہی تھی صرف ایک خیال جو ان کے دل میں خلش بنا ہوا تھا وہ کشمیر اور اس کی آزادی تھی۔“
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کشمیر اور پاکستان کو لازم و ملزوم قرار دیتی تھیں۔ اُس وقت کے حکمران ٹولے نے کشمیر کے معاملے میں ہندو شاطروں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھائی۔ کشمیری سر فروش اور صوبہ خیبرپختونخوا کے جیالے جانباز پوی وادی پر کنٹرول حاصل کرنے لگے تھے کہ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو سلامتی کونسل میں پہنچ گئے اور انہوں نے وادی کشمیر مےں رائے شماری کرانے کی حامی بھر لی جسے پاکستانی حکومت نے بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا جس کے بعد کشمیر کا مسئلہ لٹک کر رہ گیا۔
( نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکریٹری ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved