تازہ تر ین

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال سے گزارش

پیارے پڑھنے والے میں کم ہی اسلام آباد جاتا ہوں۔ شاید پچھلے سال گیا تھا تو نیب کے پی آر او نوازش صاحب کے ذریعے جسٹس جاوید اقبال صاحب سے وقت لیا اور ان کے دفتر میں طویل ملاقات ہوئی۔ وہ بڑی محبت سے پیش آئے۔ میں نے اپنی کچھ کتابیں بھی تحفہ میں انہیں دیں۔ وہ بہت شکر گزار ہوئے اور انہوں نے کہا میں آپ کو اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چائے پلاتا ہوں۔ ان کی باتیں میرے نزدیک امانت ہیں تاہم ان کے اخلاص، دیانتداری اور دردمندی کا احساس ضرور ہوا۔ میں نے سبھی کچھ پوچھا انہوں نے یادداشت کی بجائے اپنا موبائل کھولا اور بار بار نوٹس دیکھ کر جواب دیتے رہے ۔ان دنوں میں سی پی این ای یعنی کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کا صدر تھا (آج کل جناب عارف نظامی ہیں) میں نے انہیں سی پی این ای آمد کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا میں کم ہی لاہور جاتا ہوں پھر بھی کوشش کروں گا اس کے بعد میری آج تک ان سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن ایک ہی طویل ملاقات سے میرے خیالات ان کے بارے میں بہت اچھے ہیں۔ جس جس دباﺅ کا مقابلہ کرتے وہ اس سیٹ پر بیٹھے ہیں میں ان سے بخوبی واقف ہوں۔ بعد میں ان کے کچھ انٹرویوز بھی آئے جن میں سے کچھ کی انہوں نے تردید بھی کر دی۔ اصل میں رپورٹر کا انداز سوال کرنے کا اور ہوتا ہے اور وہ کوئی خبر نکلوانا چاہتا ہے۔ جبکہ ایڈیٹر کا لیول تھوڑا مختلف ہوتا ہے اور وہ گفتگو سے معاملات کو سمجھنا چاہتا ہے۔ پچھلے نیب کے سربراہ کو بھی میں نے اپنے دور صدارت میں اخبارات کے ایڈیٹروں کی نشست میں بلایا تھا۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال کی تو بات ہی دوسری ہے۔ پاکستان کے سابق سربراہان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف مختلف مقدمات نیب میں ہیں۔ ساری اپوزیشن ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ کوئی ان سے استعفیٰ چاہتا ہے تو کوئی نیب کا قانون بدلنا، غرض ہر شخص اپنے مفاد کے مطابق سوچتا ہے میرا چونکہ کوئی مفاد نیب میں موجود کسی مقدمے سے نہیں ہے اس لئے میں جسٹس (ر)جاوید اقبال صاحب کی کامیابی کی دُعا کرتا ہوں۔ علامہ اقبال مرحوم کی دو شاہکار نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ ہیں انہی کا ایک شعر پیش کرتا ہوں۔
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لیں
میں نہ کسی کی سفارش کرتا ہوں اور نہ کسی کو ذاتی دشمن سمجھتے ہوئے اسے سزا دلوانا چاہتا ہوں لیکن چند گزارشات میرے دل کی آواز ہیں اگر مجھے اسلام آباد جانے اور ان سے وقت لینے کا موقع ملتا تو میں زبانی عرض کر دیتا تاہم ان میں کوئی خفیہ بات نہیں ہے۔ اور شاید بہت سے پڑھنے والے بھی میری باتوں سے متفق ہوں گے۔
نیب کا کیا طریقہ ہے وہ کیسے پکڑتی ہے پھر کیسے تحقیق کرتی ہے کہاں رکھتی ہے یہ میرا موضوع نہیں۔ میں تو ان عوامی احساسات کا ذکر کر رہا ہوں جو عام طور پر نیب کی کارکردگی کے بارے میں پائے جاتے ہیں اور ملزم پارٹیوں کی تنقید نے انہیں اور گہرا اور شوخ کر دیا ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمہ چلائے لیکن اصل دقت یہ ہے کہ اب تک جتنے بڑے بڑے مقدمات سامنے آئے ہیں ان کا خلاصہ کہیں نظر نہیں آتا یعنی کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ شہبازشریف ہوں، حمزہ شہباز ہوں، شاہد خاقان عباسی ہوں، خواجہ سعدرفیق ہوں، نوازشریف صاحب کے بارے میں کچھ کیس ہوں، مریم نواز صاحبہ کے بارے میں کچھ مقدمات ہوں۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ نیب کی طرف سے تحقیق کے بعد الزام کی فہرست سامنے آتی ہے اور پھر معاملہ لٹک جاتا ہے۔ سابق حکمران خواہ آصف زرداری یا فریال تالپور یا شریف فیملی یا ان کے ساتھی وہ بااثر لوگ ہیں خود حکومتوں میں رہے ہیں لہٰذا اچھے سے اچھا وکیل کر سکتے ہیں اور اکثر کوہائی کورٹوں سے ریلیف مل جاتا ہے۔ چلیں یہاں تک بھی بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ وہ بڑی عدالتیں ہیں، کوئی معقول وجہ ہو تو ریلیف دے سکتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود نیب کیا کرتی ہے؟ ملزم کی ضمانت ہو جائے تو کیس کا کبھی پتہ نہیں چلتا گویا نیب کی تحقیقات کے بعد الزامات کو اپوزیشن کے لوگ یکطرفہ پروپیگنڈہ قرار دینے لگتے ہیں۔ نیب کی اس کورٹ نے بہت ریکوری کی ہے بے شمار قومی دولت واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کروائی ہے لیکن بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ بڑے لوگوں سے نیب کچھ نہیں نکلوا سکا۔ مقدمہ در مقدمہ سٹے در سٹے معاملہ کچھ پھنس گیا ہے۔
اب ایک طرف تحقیقات کے بعد نیب کے ترجمان الزامات کی فہرست سناتے ہیں۔ منی لانڈرنگ سے ناجائز آمدنی تک بے شمار الزامات ہوتے ہیں۔ شہبازشریف صاحب کے بعض افسروں کے پاس پلندے کے پلندے بدعنوانیوں کے سامنے آ گئے مگر حتمی سزا کی کوئی خبر سنائی نہیں دی۔ خواجہ سعد رفیق کے اپنے پارٹنر نیب میں پیش ہو کر وعدہ معاف گواہ بن گئے جس سے لگتا تھا کہ شاید اب ہمارے دوست بچ نہیں سکیں گے۔ لیکن اتنا عرصہ اپنے پاس رکھنے کے باوجود حتمی فیصلہ کوئی نہیں۔ اب ملک میں اپوزیشن کے لوگوں کی یہ دلیل اخبارات میں چھپتی اور ٹی وی میں سنائی دیتی ہے کہ نیب کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات جھوٹ ہیں اور اگر یہ جھوٹ نہیں ہیں تو پھر اتنا بڑا ادارہ اس قدر اختیارات رکھنے والا عدالت میں ثابت کیوں نہیں کر سکا۔ ظاہر ہے کہ ملزم پارٹی تو زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرے گی کیونکہ کیس لڑنے کا طریقہ ہی یہ ہوتا ہے کہ معاملے کو لمبا کرو اس کے راستے میں جسٹس (ر)جاوید اقبال صاحب ہی کو بطور چیئرمین کوئی رکاوٹ ڈالنی چاہئے۔
اور اگر یہ الزامات واقعی غلط ہیں تو بھی نیب کورٹس کو چاہئے کہ انہیں بری قرار دیں۔ آخر یہ لوگ اس ملک کے شہری ہیں اور آئین میں ان کے بھی حقوق ہیں۔پاکستان کے عوام بے یقینی کا شکار ہیں چونکہ نیب کی عدالتیں فائنل فیصلہ نہیں کرتیں اس لئے یہی نظریہ عام ہے۔ یہ سب پروپیگنڈہ ہے اور عمران خان کی حکومت کروا رہی ہے۔ حالانکہ عمران خان کی حکومت کو ہر کیس کا کچھ پتہ بھی نہیں ہو گا۔ چیکوں کی تفصیلات بھی چھپ گئی، وعدہ معاف گواہ بھی مل گئے گواہوں کی فہرست بھی مکمل ہے۔ جسٹس صاحب لوگ پوچھنے میں حق بجانب ہیں پھر دیر کس بات کی ہے اگر کوئی مجرم نہیں ہے تو اسے بری کریں مجرم ہے تو قانون کے مطابق سزا دیں یوں ہر تیسرے دن یہ خبر پڑھتے پڑھتے لوگ اُکتا گئے ہیں کہ اتنے لوگوں کے کیس ابھی پینڈنگ ہیں۔ شاہد خاقان عباسی جو وزیراعظم تھے اور انہوں نے اچھی کارکردگی دکھائی ان پر بھی کیس اور ابھی کل کے اخبار میں تھا کہ برجیس طاہر ایم این اے آف سانگلہ ہل کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ خواجہ آصف صاحب جو اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر ہیں ان کے بارے میں بھی پتہ چلا کہ نیب نے مختلف الزامات میں انہیں طلب کر لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ ضرور اپنی کارروائی جاری رکھیں مگر نوازش صاحب جو آپ کے افسر تعلقات عامہ ہیں اوور ایک زمانے میں روزنامہ خبریں اسلام آباد کے رپورٹر ہوتے تھے وہ کیوں جن لوگوں کے معاملات پینڈنگ ہیں ان کے بارے میں اب ڈیٹا جاری نہیں کرتے۔ میری درخواست تو یہ ہے آپ خود اہم کیسوں کے بارے میں بریفنگ دیں اور ان سوالوں کا جواب بھی دیں کہ ایک غلغلہ مچتا ہے کہ فلاں کو پکڑ لو ثبوت مل گئے پھر لگتا ہے کہ فائل داخل دفتر ہو گئی اگر ہائی کورٹ ضمانت دیتا ہے پھر بھی مقدمہ تو جاری رہنا چاہئے۔
ایک مسئلہ اور ہے جس کی طرف آپ کی توجہ دلانا ضروری ہے جناب اکثر یہ خبریں چھپتی ہیں کہ فلاں لیڈر کو نیب کی ٹیم گرفتار کرنے گئی اور دو گھنٹے انتظار کے بعد بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں جسے چھوڑ دیا جائے اگر گرفتاری میں کوئی رکاوٹ ہے یا ضمانت ہو چکی ہے تو ٹیم کو جانا ہی نہیں چاہئے۔ سیاسی پارٹیاں اس کو دوسرے اینگل سے لیتی ہیں اور یہ کہتی ہیں کہ اتنے گھنٹے نیب والے کھڑے رہے لیکن ہمارے لیڈروں نے گرفتاری نہیں دی۔ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے اور اگر نہیں ہے تو آپ عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سوالات جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔ ادھورے نہ چھوڑے جائیں۔ میں خود برسوں سے حکمرانوں کے احتساب کے حق میں ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ کا ادارہ پارٹی نہ بنے بلکہ اپنا فرض منصبی ادا کرے اور کامیاب و کامران ہو، میں آپ کی کامیابی کے لئے بھی دُعا کرتا ہوں اوپر میں نے جو کچھ کہا ہے اس کی بنیاد احتساب کے ادارے کی عزت و احترام ہے۔ میری آپ سے ایک ہی تفصیلی ملاقات ہوئی لیکن میں نے آپ کو کھرا اور سچا انسان پایا۔ پھر یہ نیب کے بارے میں شکوک و شبہات اوریکطرفہ پروپیگنڈہ کیوں؟ خدارا ان تازہ ترین معاملات کے مطابق ایک ایک کیس کا احوال بیان کریں اہم کیسوں میں آپ کو جو مشکلات پیش آئی ہیں ان کا بھی تذکرہ فوراً کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
نوٹ: یہ کالم دوپہرکولکھ کر بھیجا گیا تھا ۔ ابھی اطلاع ملی ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ پینڈنگ مقدمات کی بھرمار کی وجہ سے وہ فوراً 120 نئی احتساب عدالتیں بنائیں اب تو جو مشکلات درپیش تھیں ان کا بھی سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہے۔ اور چیئرمین نیب سے بھی تجاویز مانگ لی ہیں۔لہٰذا چیئرمینن نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب معلق مقدمات کے فوراً فیصلے کریں۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved