تازہ تر ین

گستاخِ رسول یوسف کذاب‘ تاریخی عدالتی فیصلہ(7)

میاںغفاراحمد
یوسف کذاب کا تعلق فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے تھا۔ اس کے چیلوں اور مریدوں نے اس کی لاش وصول کی اور لاہور میں دفنانے کی کوشش کی مگر شدید غم وغصہ کے باعث کسی بھی قبرستان میں اس کو دفن کرنے کی اجازت نہ دی گئی جس پر گستاخ رسول کی لاش کا اذیت ناک سفر شروع ہوا۔ اسے لاہور میں تدفین سے ناکامی کے بعد اس کے آبائی گاﺅں جڑانوالہ میں دفن کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہاں بھی سخت احتجاج شروع ہوگیا اور مقامی لوگوں نے دفن کرنا تو درکنار میت کو ایمبولینس سے باہر نہ نکلنے دیا جس پر وہاں سے یوسف کذاب کے چیلے لاش لے کر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ اسی روز شام کو ایک سورس نے اطلاع دی کہ یوسف کذاب کی لاش اسلام آباد لے جائی جارہی ہے کیونکہ اس کے اسلام آباد کے مریدین خاصے بااثر تھے۔ میں اس وقت ملتان میں تھا‘ میں نے فوری طور پر ”خبریں“ اسلام آباد کے رپورٹر اور اپنے شاگرد علی شیر جس نے زکریا یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد ”خبریں“ ملتان میں چند ماہ کام کیا اور پھر میں نے اس کی کام میں دلچسپی دیکھ کر مشورہ دیا کہ چوک اعظم سے ملتان رہ کر بھی تم گھر سے باہر ہی رہو گے لہٰذا اسلام آباد چلے جاﺅ کیونکہ اب صحافت وہیں پر ہے اور جناب ضیاشاہد سے درخواست کرکے اسے اسلام آباد ”خبریں“ آفس میں ٹرانسفر کرادیا۔ اب اگلی کہانی علی شیر کی زبانی پڑھیے:
یوسف کذاب بندہ ایک قبریں دو‘ معمہ کیا تھا؟
یوسف کذاب جب کوٹ لکھپت جیل لاہور میں سزائے موت کے ایک قیدی حافظ طارق کے ہاتھوں جیل کے اندر قتل ہوا۔ جب قتل ہونے کی خبر ملی تو میں اس وقت روزنامہ ”خبریں“ اسلام آباد میں بطور مذہبی بیٹ رپورٹر فرائض سرانجام دے رہا تھا چونکہ جناب ضیاشاہد صاحب اور میاں غفار احمد صاحب کی رہنمائی میں ملتان میں اپنی ماسٹر ڈگری کی تکمیل کے دوران ”خبریں“ ملتان میں کام بھی کیا تھا‘ اس لئے خبر کو ایشو کیسے بنایا اور خبر سے خبر کیسے نکالنی ہے‘ یہ فالواَپ جرنلزم سے سیکھا۔ اس لئے جس دن یوسف کذاب قتل ہوا اس سے اگلے روز روزنامہ ”جنگ“ میں خبر شائع ہوئی کہ یوسف کذاب کو لاہور کے مومن پورہ قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے۔ ایک اور خبر چھپی کہ یوسف کذاب کی میت جڑانوالہ میں اس کے گاﺅں لے جائی گئی ہے مگر مقامی لوگوں نے وہاں تدفین نہیں ہونے دی۔ ایک تیسری خبر ”نوائے وقت“ اسلام آباد میں شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ یوسف کذاب کو راولپنڈی کے گورا قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے۔
تینوں خبروں نے مجھے حیران کردیا کہ معمہ کیا ہے‘ بندہ ایک اور قبریں دو؟ میں نے اس کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے دن رات ایک کردیا۔ پہلے تو مومن پورہ قبرستان سے پتہ کرایا تو پتہ چلا کہ یہ بات سوفیصد کنفرم ہے کہ وہاں وہ دفن نہیں ہوا‘ یہ وہاں کے قبرستان انچارج کے رجسٹر سے پتہ لگا۔ لاوارث لاشیں بھی مومن پورہ قبرستان میں دفن کی جاتی ہیں مگر قتل کے بعد کی تاریخ سے کوئی لاوارث لاش بھی دفن ہونے نہ لائی گئی‘ پھر ایک اقلیتی صحافی دوست کے ذریعے راولپنڈی کے گورا قبرستان سے رجسٹر چیک کروایا تو معلوم ہوا کہ ان تاریخوں میں وہاں بھی کوئی تدفین نہیں ہوئی تھی۔ اب میرا شک اور پکا ہوگیا کہ یوسف کذاب کے انتہائی بااثر مریدوں اور خلیفوں نے کوئی باریک واردات کی ہے۔
میں نے تمام قبرستانوں سے پتہ کرنا شروع کیا‘ پتہ کرتے کرتے علم ہوا کہ زیرو پوائنٹ اسلام آباد قبرستان میں یوسف کذاب کو دفن کیا گیا ہے چونکہ یہ خبر نہایت تصدیق کی متقاضی تھی اس لئے میرے ایک دوست جو ان دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر وکیل ہیں‘ ان کے والد زیرو پوائنٹ قبرستان کے انچارج تھے‘ ان سے رابطہ کرکے رجسٹر دیکھا تو واقعی یوسف کذاب کی انٹری کی گئی تھی جو اس کی 2بیویوں نے کرائی تھی اور رجسٹر پر طریقہ کار کے مطابق دونوں بیویوں کے شناختی کارڈز کی کاپیاں بھی لگی ہوئی تھیں جن پر اسلام آباد کے دو الگ الگ پتہ جات لکھے ہوئے تھے۔ ایک ایڈریس نے مجھے اور الرٹ کردیا کہ ایک کا پتہ کلارہ سوٹس جوکہ اسلام آباد کے حساس ترین‘ اہم ترین اور مہنگے ترین فلیٹس ہیں جہاں عام آدمی رہ ہی نہیں سکتا‘ یہ سفارتی زون اسلام آباد میں واقع ہے۔ میں نے سوچا اتنے حساس علاقے میں یہ رہائش کچھ اور ہی پتہ دیتی ہے۔ میں نے وہاں سے معلومات لیں کہ یہاں اس کی بیوی کی سرگرمیاں کیا ہیں کیونکہ اس علاقے میں عام طور پر غیرملکی ایجنسیوں سے روابط‘ سفارتخانوں سے روابط جبکہ پاکستانی ایجنسیوں کا ان پر نظر رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ جب پتے کی تصدیق ہوگئی تو ابھی مزید تحقیق کےلئے خبر روکی ہوئی تھی کہ خبر شائع ہوگئی تو پھر مزید معلومات کا ملنا مشکل ہوجائے گا کہ اسی دوران صدر آل پاکستان چیمبر آف کامرس افتخار علی ملک کے ساتھ پی سی بھوربن مری جانا پڑگیا۔ اسی دوران معلومات ملیں تو میں نے ہوٹل کے فیکس سے خبر بناکر ”خبریں“ لاہور آفس فیکس کردی جس میں قبر نمبر‘ شناختی کارڈز نمبر وغیرہ سب تفصیلات اس سُرخی کہ یوسف کذاب کو زیرو پوائنٹ کے ساتھ ایچ ایٹ H/8 قبرستان میں دفن کئے جانے کا انکشاف کیا۔ اگلے دن خبر شائع ہوئی تو اسلام آباد اور میڈیا میں شور مچ گیا کہ یوسف کذاب کو مسلمانوں کے قبرستان میں کیسے دفن کردیا گیا؟ لال مسجد میں مولانا عبدالرشید غازی نے راولپنڈی واسلام آباد کے علمائے کرام کا اجلاس بلاکر اسلام آباد انتظامیہ کو دھمکی دی کہ یوسف کذاب کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکالا جائے ورنہ مدارس کے طلباءکو ساتھ لے کر علماءاسے خود قبر سے نکال دیں گے۔ جس پر انتظامیہ متحرک ہوئی تو بااثر حلقوں نے قبرستان انچارج پر چڑھائی کردی کہ یہ آپ نے معلومات کس کو دیں حالانکہ میں خود (یعنی علی شیر) وہاں پرانے سے کپڑے‘ قینچی جوتی پہنے گورکن کے رُوپ میں موجود تھا۔ مجھے یاد ہے وہ سفید ریش بزرگ کس طرح بے بس بعض اہلکاروں کی گالیاں کھارہے تھے مگر قبرستان کے انچارج ایک ہی بات کہے جارہے تھے کہ جس کی بھی میت آتی ہے قبر کی بُکنگ ہوتی ہے۔ وہ اسلام آباد کا پتہ‘ شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں‘ فیس لے کر قانونی کارروائی کرتے ہیں‘ انہیں کیا معلوم کہ لاش کس کی ہے‘ کدھر سے آئی ہے۔
اسی روز زیرو پوائنٹ قبرستان کے سامنے واپڈا کالونی کی ایک مسجد کے ایک مرحوم بزرگ عالم دین نے مجھے بتایا کہ یوسف کذاب کی قبر پر رات کو ان کے شاگرد اور خلیفہ وغیرہ آتے ہیں‘ قبر کے ساتھ لیٹتے اور سجدے کرتے ہیں۔ میں اسی رات اپنے فوٹو گرافروں راﺅ خالق اور خادم حسین کو لے کر قبرستان کے ساتھ واقع اونچی جگہ پر ایک دربار پر بیٹھ گیا‘ وہاں مچھر نے مجھے جو کاٹا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ عشاءکی نماز کے کچھ ہی دیر بعد واقعی کچھ لوگ آئے‘ سیدھے اسی قبر پر گئے‘ میں اور فوٹو گرافروں نے دوڑ لگادی‘ بھاگتے بھاگتے تصاویر بنائیں۔ ہمارے بھاگنے اور کیمرے کے فلش لگنے سے جو تین چار لوگ تھے وہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہم ان کے پیچھے بھاگے مگر وہ رات کے اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ ہم دفتر آئے‘ آکر دن کو قبرستان انچارج اور رات والی ساری کارروائی کی خبریں لکھیں مگر وہ شائع نہ ہوئیں تو ہمارے چیف رپورٹر نے مجھے منع کردیا۔ وہ کسی سخت دباﺅ میں آگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے ادارے کو لاہور کوئی بھی خبر نہیں جانی چاہیے‘ میں نے اس خبر پر اتنی محنت کی تھی‘ نوجوان بھی تھا‘ جذباتی بھی تھا‘ سخت غصہ آیا۔ میرے چیف رپورٹر نے مجھے سمجھایا کہ خبر رُکوانے والے بہت طاقتور لوگ ہیں‘ تُم تین چھٹیاں کرو اور مری گھوم پھر کر آﺅ‘ اپنا غصہ ٹھنڈا کرو مگر میرا غصہ کہاں ٹھنڈا ہونے والا تھا‘ میں سیدھا ایک دوسرے اخبار کے دفتر گیا اور وہاں کے ایڈیٹر کو ساری بات بتائی۔ انہوں نے قیصر بٹ جو اس وقت ڈیسک اور رپورٹر دونوں ہی کام کرتے تھے‘ انہیں کہا کہ علی شیر کے ساتھ لگ جاﺅ اور اس سٹوری پر جو بھی کام یہ کرے اسے فائل کرتے جاﺅ۔ مجھے دکھاکر روز خبر فائل کرو۔ ہم نے خبر فائل کرنا شروع کردیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ چیف ایڈیٹر ”خبریں“ کو خبر کے روکے جانے کا علم ہی نہ تھا۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved