تازہ تر ین

ایک فکر انگیز کتاب۔ ”افکار فرخ“

اعتبار ساجد
احباب کی عنایت ہے کہ وہ باقاعدگی سے ہمیں خطوط‘ کتب‘ رسائل و جرائد بھیجتے رہتے ہیں۔ ہماری عدیم الفرصتی یا کوتاہی کہئے کہ ہم بروقت جواب نہیں دے پاتے۔ حالات اور ماحول کچھ اس قسم کا بن گیا ہے کہ دل لکھنے کو چاہتا ہے کوئی نہ کوئی مجبوری حائل ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں ہم صاحب جمال و کمال شاعر شارق جمال خان کا معروف شعری مجموعہ ”آتش۔ زیرِپا“ لائے تھے کہ باردگر پڑھیں گے اور یکسوئی سے لکھیں گے وہ یکسوئی اب تک نصیب نہیں ہوئی۔ لیکن کتاب سرہانے رہتی ہے کہ ہمیں یاد رہے کہ کچھ فرض نبھانا ہے۔ اب انگریزی کے پروفیسر اور عزیز شاعر و دانشور دوست کی فکر انگیز کتاب ”افکار فرخ“ موصول ہوئی ہے تو وہ دن یاد آتے ہیں جب ان سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ان کے اشعار اور اقوال سنتے تھے اور اصرار کرتے تھے کہ ”….سخن“ کے نام سے وہ اپنا شعری مجموعی تو لا ہی چکے ہیں۔ اب اپنے اقوال کی کتاب مرتب کریں۔ یقینا یہ مقبولیت حاصل کرے گی ۔اس کی وجہ پروفیسر فرخ محمود کی برجستگی اور بے ساختگی ہے ،بڑی سے بڑی بات مختصر لفظوں میں کہتے ہیں اور سننے یا پڑھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے اقوال و افکار میں امید‘ شگفتگی اور تازگی ہے اور یہ سب ان کے اپنے گھرانے‘ اعلیٰ تعلیم اور مضبوط کردار کی غماز ہے۔ ظاہر ہے ڈپٹی کمشنر کے بیٹے نے باپ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ سب سے بڑی اور اچھی بات یہ ہے کہ تکبر ان میں ذرہ بھر بھی نہیں۔ نہایت دھیمے، میٹھے‘ ملائم اور شائستہ کردار ادیب و شاعر اور استاد ہیں۔ اکثر میری یونیورسٹی میں علیک سلیک کےلئے آئے اور چائے پئے بغیر یہ کہہ کر چلے گئے کہ اگلی کلاس کا وقت ہونےوالا ہے۔ حالانکہ شاعر کے پاس آئے تو اسے اگلی کلاس کی نہیں اگلی غزل پیش کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ ذاتی زندگی میں انہوں نے صدمے جھیلے‘ دکھ برداشت کئے لیکن فرائض سے کبھی غافل نہیں رہے بالخصوص نماز‘ روزے کے معاملے میں انہیں انتہائی چوکس اور پابند دیکھا۔ کوئی بھی کام ہو‘ نماز نہیں چھوڑنی‘ میرا ایمان ہے کہ جس نے اللہ کو یاد کیا اللہ نے کبھی اسے فراموش نہیں کیا۔ شکر گزار بندوں سے تو وہ محبت بھی بہت کرتا ہے۔ میں ”افکار فرخ“ پڑھ رہا تھا اور ابتدائی صفحات کے بعد جب ان کے اقوال تک پہنچا تو سمجھ میں نہیں آیا کہ کسے منتخب کروں کے چھوڑ دوں۔ بہر حال جستہ جستہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ان کے چند اقوال درج ذیل ہیں:
٭ ….منہ پر تعریف کرنے والوں کو منہ لگانے والے ہمیشہ منہ کی کھاتے ہیں۔
٭ ….ادب میں تازہ کاری‘ تازہ قاری لانا ہے۔
٭ ….کامیابی دشمن کے خلاف بہترین انتقام ہے‘ جبکہ انتقام بہترین ناکامی ہے۔
٭….نیک دے کر بھول جاتا ہے جبکہ بد بھول کر دیتا ہے۔
٭….شاعر کثرتِ آمد کی وجہ سے جبکہ شوہر کثرت آمدن کی وجہ سے گھر سے غائب رہتا ہے۔
٭اپنے آپ کو دیکھنے والی آنکھ اپنے آپ کو مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔
٭…. ہر دور کے بونے ہر دور کے جن کو اپنے حسد اور احساس محرومی کی بوتل میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭…. حرف عمل کی سیڑھی چڑھ کر بلند ہوتے ہیں۔
٭…. مہنگائی کی آگ غریب کے گھر کا چولہا بجھاتی ہے۔
٭ ….گناہ کی تاریک وادی توبہ کے ستاروں سے روشن ہوتی ہے۔
٭…. بیوقوف کو سمجھانا پٹرول سے آگ بجھانا ہے۔
٭….ذہن کے گودام میں حرفوں کی ذخیرہ اندوزی سے تحریر کا بھاﺅ بڑھ جاتا ہے۔
٭ ….پہاڑ سے بڑی کامیابی بھی بڑے آدمی کے دل میں رتی برابر تکبر پیدا نہیں کرتی۔
پروفیسر فرخ محمود کے افکار کی یہ چند جھلکیاں ہیں۔ انگریزی میں بھی ان کے افکار شائع ہو چکے ہیں اور انگریزی خواں طبقے میں ہاتھوں ہاتھ لئے گئے ہیں۔ یہ کتاب بھی اردو خوانوں میں بے حد مقبول ہوئی اور اب اس کا دوسرا ایڈیشن بھی عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ ایک بار ان دونوںکتب کا مطالعہ کر لیجئے آپ ہماری طرح ان اقوال زریں کے گرویدہ ہو جائیں گے!
(کالم نگار شاعر، ادیب اور معلم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved