تازہ تر ین

بلھے شا ہ اساں مرنا ناہیں

خضر کلاسرا
پنجاب انفارمیشن گروپ کے سنیئر افسررانا اعجاز محمود سے جڑی یادوں کا سمندر جمعرات سے ٹھاٹھیں ماررہاہے۔ بے چینی ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی ہے،غم زدہ ہوں ،آنسوﺅں کی جھڑی ہے،جونہی ان کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے ، یقین نہیں آرہاتھا۔ خاموش ہوگیا ، بیگم نے پوچھا خیریت لیکن بتانے کی ہمت نہیں تھی کہ ہمارے بھائی ،خیرخواہ اور انسان دوست رانا اعجاز صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔میری مسلسل خاموشی اور چہرے پر گرتے آنسوﺅں سے وہ بھی پریشان ہوگئی کہ اللہ خیر کرے۔ کیا ہوگیا ہے ،کونسی سے ایسی خبر پڑھ لی ہے جو اچانک ہی بات کرنا چھوڑی دی ہے۔ اور موبائل کو ایک طرف رکھ دیاہے۔ جب اس نے زیادہ اصرار کیا تو بتایاکہ رانا صاحب کے بارے میں کچھ پتہ چلاہے ۔پھر اس نے کہا بتائیں نا ہوا کیاہے ، رانا صاحب کو تو میں بتایا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ پھر سارے گھر میں سوگ کی کیفیت تھی۔ رانا اعجاز صاحب سے تعلق کی نوعیت ایسی تھی کہ وہ ہمارے بھائی تھے اور وہ بھی بڑے بھائی تھے۔
ہم سے تو کوئی دیر سویرہوسکتی تھی لیکن وہ کبھی لیٹ نہیں ہوئے تھے ۔ان کی شخصیت کی جو خاص بات تھی وہ یہ تھی کہ دوست یار اور کتاب ان کی کمزوری تھے۔ان کے دفتر میں اعلیٰ کتابوں کا خزانہ موجود ہوتاتھا۔ سادگی میں اپنی مثال آپ تھے۔ان کی اچانک موت کے بارے میں جان کر ساری رات سونہیں سکا۔سوتا بھی کیسے ؟ ۔اتفاق کی بات ہے کہ چند دن قبل میں نے ان کی تصویر کو فیس بک پیچ پر شیئر کیا اور اوپر لکھا تھل کا راجہ تو میرا خیال تھاکہ وہ کال کریں گے جب ان کی کال نہیں آئی تو میں نے دوبار فون پر ان سے رابط کی کوشش کی لیکن پتہ چلا وہ ہسپتال ہیں۔میرے فون کرنے کا مقصد یہ تھاکہ کافی دن ہوگئے ہیں ،رانا اعجاز صاحب کی مٹھاس بھری گھن گرج والی پنجابی ،سرائیکی مکس آواز نہیں سنی تھی جو کہ کچھ یوں ہوتی تھی کہ ، او بچڑا کیتھاں ودیں(پتر کہاں پر ہو) اور ساتھ ہی ان کے محبتوں اور حوصلہ افزائی کے الفاظ سننے کو ملے تھے۔ ان کو اللہ پاک نے جو بڑی خوبی عطا کی تھی ، وہ اپنے ارد گرد کے سب پیاروں کیلئے محبتوں کا ڈھیر سنبھال کررکھتے تھے۔ رانا صاحب کی محفل میں جانے کو یوں دل کرتاتھا کہ مایوسی جیسی کیفیت ان کی محفل میں نہیں ہوسکتی تھی بلکہ جہاں وہ موجود ہوتے تھے وہاں قہقہوں کی بارش ہوتی تھی۔
ایک بار ان کا فون آیا، اج میں تیڈا کالم خبریں اچ پڑھی بیٹھاں ہاں(میں نے آج تمہارا کالم خبریں میں پڑھا ہے) توں تھل دا مقدمہ چاتی کھڑاں ایں۔(آپ نے تھل کا مقدمہ اٹھایا ہوا ہے)۔ او تیکوں ایں گالھ دا پتہ ہے جو تھل سنسکرت دا لفظ اے تے ایندا مطلب سونے دے پہاڑ اے، (یہ تھل سنسکرت کا لفظ ہے اور اس کا مطلب سونے کا پہاڑ ہے) ، نا ل ای آکھنڑا او بچڑا ، تیکوں سب پتہ اے (پتر تمہیں سب پتہ ہے)۔میں نے عرض کرنا کہ رانا صاحب کہاں پتہ ہے حضور۔آپ کی محبتوں اور رہنمائی کی بدولت کہانی ڈال لیتے ہیں۔ اور آپ ہیں کہ ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ رانا صاحب کی پروموشن ہوئی تو لیہ سے ملتان کی بجائے بہاولپور پوسٹنگ کو ترجیح دی ،میں نے کہا رانا صاحب بہاولپور کو جلد خداحافظ کہنا ہے ، یہ نعیم بھائی کی طرح آپ کو اپنے محبت کے حصار میں سے نکلنے نہیں دے گا۔ خضر میں اب بہاولپورآ گیاہوں لیکن ڈاکٹر کلاسرا نہیں ہے،مز انہیں آرہاہے،اداس ہوجاتے ،کہتے یار ڈاکٹر کلاسرا کو ہونا چاہیے تھا۔نعیم بھائی بہاولپور قائداعظم میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل تھے اور پھر بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور کے آئی وارڈ میں ہاﺅس جاب کے بعد ٹک گئے تھے۔ یوں وہ زندگی کے آخری دن تک بہاولپور کے ہوکر رہے۔رانا اعجاز صاحب جتنی دیر بہاول پور تھے ، میں نے ان کو ایک بات تکرار سے کہی کہ رانا صاحب آپ لیہ مطلب تھل واپس آجائیں ۔ آپ جیسی بڑ ی شخصیات کی تھل کو ضرورت ہے۔ان کو اس بات کا احساس تھاکہ تھل کیساتھ قیام پاکستان سے لیکر اب تک انصاف نہیں ہوا ہے۔یہاں کے لوگ تعلیم، روزگار اور صحت سے لے کر بنیادی ضرورتوں سے محروم رہے ہیں۔بہت سارے ایسے ایشوز تھے جوکہ ان کی لیہ میں موجودگی کے دوران منظرعام پر آئے اور اسمبلی ممبران کو حل کرانے کی طرف متوجہ ہوئے۔
رانا صاحب کا مطالعہ وسیع تھا ، میرے جیسے طالب علموں کیلئے درسگاہ تھے۔ایک بار رانا اعجاز صاحب کیساتھ ملاقات ان کے گھر چوک اعظم میں ہوئی ۔اس بار میں سوچ کر گیا تھا کہ رانا صاحب سے دیگر ایشو ز کیساتھ تھل کی دھرتی کے عظیم شعراءکے بارے میں بات کروں گا۔میں جیسے ہی سوال اٹھایا تو رانا صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا نذیر چودھری پنجابی زبان کے شاعر تھے اور انڈیا کے نصاب میں پڑھائے جاتے تھے۔اسی طرح غافل کرنالی ایک درویش شاعر تھے۔اور لیہ کو دنیا میں متعارف کروانے کا اسوقت سبب بن گئے جب ملکہ الزبتھ کے حوالے سے اردو سہرا لکھا۔ادھر نسیم لیہ عظیم شاعر تھے۔موصوف نے کیا خوب کمال شعر کہاہے ۔ دیار مصر میں دیکھا ہے ہم نے دولت کو ستم ظریف پیامبر خرید لیتی ہے۔ڈاکٹر خیال امروہوی،موصوف فارسی میں پی ایچ ڈی تھے۔لیہ جیسے پسماندہ ضلع میں علم کی شمع جلائی اور آخری وقت تک اپنے مشن کو جاری رکھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ڈاکٹر خیال امروہوی صاحب پانچ مرلہ ہاوسنگ سکیم میں رہے۔یہ تھے لوگ خضر جوکہ لیہ کے حصے میں آئے ہیں اور یہ بھی نہ سمجھنا صرف یہی ہیں اور بھی فہرست لمبی ہے۔ساتھ ہی رانا صاحب نے کہا وہ آپ نے ڈاکٹر خیال امروہوی کاوہ شعر سنا ہے۔
گردش لمحات کے اندھے وطیرے دیکھیئے
ہم جو بیٹھے زیر سایہ چل پڑی دیوار بھی
رانا صاحب نے کہا کہ واہ واہ کیا لوگ خضر آپ نے کیا لوگ یاد دلادیئے ہیں ، ارمان عثمانی، ہماری دھرتی کے کیا کمال شاعر تھے ، وہ ان کا شعر ہے نا ۔
میں آج اچانک تمہیں رستہ میں ملاہوں
رستہ کی ملاقات کو محسوس نہ کرنا
رانا اعجاز صاحب کے بارے میں اور بہت کچھ لکھنے کو دل کررہاہے جوکہ اس ایک کالم میں ممکن نہیں ہے۔اور مجھے کہنے دیجئے کہ رانا اعجاز محمود بھی لیہ کے عظیم لوگوں میں شامل تھے۔ آنے والے دنوں میں ان کے بارے میں اور لکھوں گا، ان کا ایک فقرہ میرے کانوں میں مسلسل گونج رہاہے کہ، بچڑا ساڈے بارے وی کالم لکھیا کر ( پترہمارے بارے میں بھی کالم لکھاکرو)، رانا صاحب لکھ دیا ہے، آپ کے حکم کی تعمیل کردی ہے ۔ پروردگار آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔اپنے بھائی ، محسن ، استاد رانا اعجاز صاحب کے بارے میں اپنے کالم کو عظیم شاعر بلھے شاہ کے اس شعر پر ختم کررہاہوں جوکہ انہی کی زبانی سناتھا۔
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved