تازہ تر ین

جدید جرمن ریلوے اور پاکستان

مرزا روحیل بیگ
ریلوے نظام کسی بھی ملک میں ذرائع آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اقتصادی استحکام اور ترقی کے لیے بھی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ریل کو سیر و تفریح، سفر اور سامان کی نقل و حمل کے لیے مفید اور آسان ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ریلوے دنیا کے بیشتر ممالک میں آمدنی کا اہم وسیلہ شمار کی جاتی ہے۔ جرمنی میں بھاپ سے چلنے والے پہلے انجن کو Adler یعنی“ عقاب“ کا نام دیا گیا تھا۔ اس انجن کے ساتھ 7 دسمبر 1835 کو جرمنی میں پہلی ریل گاڑی پٹری پر دوڑی تھی۔ ریلوے نے جرمنی میں صنعتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اِس نے فاصلے بھی کم کر دیئے ہیں۔ 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے جرمن ریلوے نظام کے پاس اب جدید ترین ریل گاڑیاں ہیں، جو 330 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ جرمن ریلوے کو دنیا کا جدید اور بہترین ریلوے تصور کیا جاتا ہے، جس کے پاس توانائی کا اپنا ایک الگ شعبہ ہے، جو اپنے ادارے کی بجلی کی مجموعی ضروریات کا دس فیصد پانی سے چلنے والے بارہ مختلف جرمن بجلی گھروں سے حاصل کرتا ہے۔ جرمنی نے رواں برس ریل نیٹ ورک کو جدید بنانے کے لیے ریکارڈ چھیاسی ارب یورو کی خطیر رقم خرچ کرنے کی منظوری دی۔ جس کے تحت جرمن ریلوے نظام کو 2029 تک مزید موثر اور جدید بنایا جائے گا۔ پرانی ریل گاڑیاں، پرانے سگنل باکس اور ٹرینوں میں تاخیر جلد ہی ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سالانہ دو ہزار کلومیٹر طویل ریل کی نئی پٹریاں بچھانے کے ساتھ ساتھ دو ہزار ریل کانٹوں کی بھی تجدید کی جائے گی۔ سن دو ہزار تیس تک تقریباً دو ہزار پُلوں کی مرمت کی جائے گی۔ سات ارب یورو سے صرف سگنل باکس ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا جائے گا۔ جرمن حکومت پر امید ہے کہ آئندہ دس برسوں میں تحفظ ماحول کی وجہ سے ٹرین سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد دوگنا ہو جائے گی۔ مسافروں کو براہ راست فائدہ اس صورت میں بھی پہنچے گا کہ بہت سی ٹرینوں کے اسٹاپ کم کر دیئے جائیں گے اور پلیٹ فارمز کو بہترین سہولتوں سے مزین کیا جائے گا۔
جرمنی میں نئی نسل کے لیے ریل نیٹ ورک کا یہ ایک نیا دور ثابت ہو گا۔ اس سے پہلے جرمنی ہائیڈروجن گیس سے چلنے والی دنیا کی پہلی ٹرین بھی متعارف کروا چکا ہے۔ یہ ٹرین ماحول دوست اور بہت خاموش سواری ہے، اور صرف بھاپ اور پانی کے بخارات ہی فضا میں خارج کرتی ہے جو ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ ہائیڈروجن گیس سے چلنے والی اس ٹرین سے زہریلی گیس کا بھی اخراج نہیں ہوتا جس کی وجہ سے گرین ہا¶س کی وجہ سے بننے والی گیس کا اخراج صفر کی سطح تک ہوتا جاتا ہے۔ جرمنی میں اس وقت چار ہزار ٹرینیں ڈیزل سے چلتی ہیں لیکن انہیں ہائیڈروجن پر منتقل کر کے گرین ہا¶س کی وجہ سے بننے والی گیسوں کا اخراج صفر کیا جا سکتا ہے۔ رواں برس جرمن کابینہ نے ریل کے سفر پر“ ویلیو ایڈڈ ٹیکس“ کو 19 فیصد سے گھٹا کر 7 فیصد کر دیا تھا۔ اس کا مقصد دراصل صارفین کو ہوائی جہاز کی بجائے ٹرین کے ذریعے سفر کی ترغیب دلانا ہے، کیونکہ ہوائی جہاز ماحولیاتی آلودگی کا اہم منبع ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ٹرین کے نظام پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ جرمنی میں ٹرین کے نظام کو جس طرح بہترین بنا دیا گیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ ٹرین کا نظام کسی بھی ملک کے ریونیو اور سفری سہولیات کے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن پاکستان میں تو صورتحال کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان ریلوے کے ڈرائیوروں نے اپنے ادارے کو نوٹس دیا ہے کہ ریلوے لائنز کی خستہ حالی کے پیشِ نظر وہ مال گاڑیوں اور مسافر گاڑیوں کی آمدورفت کو موجودہ سطح پر جاری نہیں رکھ سکتے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا۔ ان حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان ریلوے کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے۔ پاکستان ریلوے میں تبدیلی لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو جرمنی کے ریلوے نظام سے سیکھنا چاہیئے، جہاں چلنے والی ٹرینیں نہ تو خراب ہوتی ہیں اور نہ ہی ٹریک سے ٹرینیں اترتی ہیں، وہ اس لیے کہ جرمنی موجودہ دور کے مطابق اپ گریڈ نظام کے تحت ریلوے نظام کو چلا رہا ہے۔ جس کے باعث جرمنی کے ریلوے نظام پر عوام اعتماد بھی کرتے ہیں اور ریلوے کے سفر کو محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ جرمنی کا ریلوے ڈیپارٹمنٹ ملک کے لیے بہترین ریونیو بھی اکٹھا کر رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان ریلوے کی بہتری کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ریلوے کو اپنے پا¶ں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ آئے روز ٹرین حادثات سے بچنے کے لیے پاکستان ریلوے کے ٹریک لیول، کراسنگ، سگنل سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو جرمن ریلوے کے نظام سے استفادہ کرنا چاہیئے اور جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے چاہیئے۔ اگر جرمنی سے اس حوالے سے مدد لی جائے تو امید ہے خسارے پر چلنے والے پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور صلاحیت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved