تازہ تر ین

یوم شہدائے کشمیر۔یہ کس کا لہو ہے کون مرا

عثمان احمد کسانہ
کشمیر ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ، دیکھنے میں تو محض ایک تصویر جس میں ایک بچہ اپنے شہید نانا کے سینے پر بیٹھا اقوام عالم کا منہ چڑا رہا ہے ۔ اسی طرح کی ایک تصویر چند سال قبل ایک شامی پناہ گزین بچے کی وائرل ہوئی تھی جو مردہ حالت میں ساحل سمندرپرالٹے منہ پڑا ہوا تھا ۔اور اب جس تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ، پوری دنیا میں اس کی بازگشت ہے ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس کانوٹس لئے بغیر نہ رہ سکے، یہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور کا واقعہ ہے جہاں بشیر خان نامی بزرگ شہری اپنے معصوم نواسے عیاد کے سامنے بھارتی درندوں کی گولی کا نشانہ بنا۔یہ کشمیر میں جاری تاریخی اور بہیمانہ جبر و استبداد کا تسلسل ہے جس کی بھینٹ اب تک ہزاروں کشمیری چڑھ چکے ہیں ۔ویسے تو اس طرح کے ان گنت واقعات ہر دن اور ہر رات رونما ہوتے ہیں شائد ہی کوئی دن ہو جب اہل کشمیر نے بھارتی سورماﺅں کی بزدلانہ کارروائیوں کا سامنا نہ کیا ہو، تاہم معلوم نہیں کیوں ہر سال جولائی کا مہینہ اس طرح کی تلخ تاریخ کیوں دہراتا ہے ،یاد رہے 13جولائی 1931کومہاراجہ کشمیر کے سپاہیوں نے کشمیر میں اذان دیتے ہوئے 22مسلمان نوجوانوں کو شہید کیا تھا جن کی یاد میں ہر سال یوم شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے ۔
آج سے چار سال قبل جولائی میں ہی برہان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو نئی جہت اور نیا ولولہ عطا کیا ۔ برہان وانی جدید محاذ کا مجاہد تھا جو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جیسے ان گنت نوجوانوں کو بھارتی مظالم سے آگاہ کرنے اور ان میں آزادی کی جوت جگانے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔جس کی پاداش میں اسے8 جولائی 2016 کو دو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا ۔ برہان وانی کی شہادت سے ٹھیک ایک سال قبل اس کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر چکے تھے ۔لاکھوں نوجوانوں کی موجودگی میں برہان وانی کو ان کے بھائی کے پہلومیں سپردخاک کیا گیا۔ یہ تحریک آزادی کشمیر کے نئے دور کا نقطہ آغاز تھا جب اس نوجوان کی تدفین کیساتھ ہی کشمیری حریت پسندوں کی نئی کھیپ نے جنم لے لیا جس پر قابو پانا شائد اب بھارت کے بس میں نہیں رہا ۔ بھارتی مظالم کاسفر شدت میں اضافے کے باوجود اپنے انجام کی طرف گامزن ہے ، بھارت کے اندر سے اس کے ٹوٹنے کی آوازیں بہت بلند ہوتی جا رہی ہیں ، مختلف ریاستوں اور صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں عروج پکڑتی جا رہی ہیں ، کشمیر جہاں دہائیوں سے ظلم کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں وہاں اب نیا حربہ یہ آزمایا گیا کہ گذشتہ سال اگست سے کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذہے ۔لوگ گھروں میں محصور ہیں ۔
بھارت کی غاصب فوج کی تعداد اور کشمیر کی آبادی کا تناسب یہ ہے کہ ہر سات نہتے کشمیریوں پر ایک اسلحہ بردار فوجی تعینات ہے جو باہر نکلتا ہے اسے بارود سے بھون دیا جاتا ہے۔ ایک ایسا ظلم جس کی مثال شائد تاریخ انسانی سے دستیاب نہ ہو سکے ۔ دنیا بھر میں کسی بھی رنگ و نسل اور اہل اسلام سمیت کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے مجبور و مقہور کشمیریوں کیلئے آواز نہ اٹھائی تو اس کا وبال پوری دنیا پر کچھ اس طرح پڑا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والے لاک ڈاﺅن نے ایک قدرتی آفت اور پکڑ کی شکل اختیار کر لی کہ پوری دنیا لاک ڈاﺅن کا شکار ہو گئی ۔ کیا امیر کیا غریب ، کیا ترقی یافتہ کیا ترقی پذیر ، کیا افریقہ کیا امریکہ ، کیا یورپ اور کیا عالم عرب ، ہر ملک میں ان ممالک کی اپنی حکومتوں نے زبردستی لاک ڈاﺅن کیااور ہر کمزور و طاقتور برابر پریشانی کا شکار ہو گیا۔اب اس امر کی ایک ہزار توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں اور کسی ایک سے بھی اختلاف نہ کرتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ لاک ڈاﺅن سے اب کوئی بھی نابلد نہیں رہا ۔ وہ ایک پابندی جس کے ذریعے بھارت نے کشمیریوں کے معمولات زندگی کو روند ڈالا تھا اور چیخنے چلانے ، واویلا کرنے کے باوجود اقوام عالم کے کانوں تک آواز پہنچنا تو کجا جوں بھی نہیں رینگ رہی تھی اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ لاک ڈاﺅن کس بلا کا نام ہے ۔ اب معیشت کے تباہ ہونے ، روز مرہ کے مسائل میں اضافہ ہو جانے ، غربت و بیروزگاری کے بڑھ جانے سمیت طرح طرح کے مضمرات بیان کئے جارہے ہیں مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ اگر خدا تعالی اپنی قدرت کاملہ سے دنیا کو یہ منظر نہ دکھاتے تو کون جانتا اور کون مانتا کہ کشمیری بچے خوراک و ادویات کی عدم دستیابی کے باعث گھروں میں بلک رہے ہیں ، فوت شدگان کی گھروں میں تدفین کس عذاب کا نام ہے ،چند گھنٹوں یا چند دنوں نہیں مہینوں پر محیط کرفیو کے کیا اثرات ہوتے ہیں ۔ میں تو یہاں یہ جسارت کرنا چاہوں گا کہ ہم نے ابھی بھی اس سے عبرت نہیں پکڑی نہ جانے کس انہونی کا انتظار کیا جا رہا ہے جس کے بعد بھارت کے منہ زور اور خون آلود چہرے کو لگام ڈالنے کی بابت کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
جہاں تک تعلق ہے اس کی بزدلانہ چیرہ دستیوں اور جعلی گھمنڈ کا توسن لیجئے لداخ کے معاملے میں چین نے دنیا بھر کے سامنے بھارت کو ننگا کر دیا ہے ۔جو کچھ بھارت کی افواج کیساتھ ہوا ہے یا جو انکی آوازیں سوشل میڈیا کے ذریعے خاص و عام تک پہنچی ہیں اس جگ ہنسائی کا بھارت کے بےوقوف حکمرانوں ، ہندوتوا کے پجاریوں اور مودی کے موذی عزائم کو کوئی فرق پڑے یا نہ پڑے بھارتی عوام اپنا منہ ضرور چھپاتے پھر رہے ہیں ۔ ان سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا کہ لداخ اور ملحقہ علاقوں سے دم دبا کر بھاگنے والے بزدل بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میںشر انگیزیاں کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔پاکستان اپنے سافٹ امیج اور امن پسندی کی خواہش کے باوجود ہمیشہ اپنے دفاع کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار رہا ہے ۔
آج کے اخبارات میں بھی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اپنے اس دیرینہ عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ ہم ہر محاذ پر کشمیر اور اہل کشمیر کی حمایت بھی جاری رکھیں گے اور عالمی برادری کو یہ باور کروانے کی بھی کوششیں بھی جاری رکھیں گے کہ جذبہ حریت اور بھارت سے نفرت کشمیریوں کی شیر خوار اور معصوم نسل تک پہنچ چکی ہے ۔ شہید بشیر خان کے سینے پر سر جھکائے بیٹھا ننھا مجاہد عیادجو نہیں جانتا کہ اس کے نانا کیساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا ، اس کی خاموشی سوال کر رہی ہے کہ یہ کس کا لہو ہے کون مرا ۔۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved