تازہ تر ین

کپاس کی فریاد

چوہدری ریاض مسعود
پاکستان کی کپاس اپنے ریشے کی لمبائی ،مضبوطی اور کوالٹی کی وجہ سے دنیا بھر میں بے حد پسند کی جاتی ہے، اس ”روپہلے ریشے“ کپاس سے تیار ہونیوالا دھاگہ ، کپڑ اور اسکی دیگر مصنوعات اسی وجہ سے عالمی منڈیوں میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا شمار کپاس کاشت کرنیوالے بڑے بڑے ممالک میں ہوتا تھااور ہم اس کے بڑے ایکسپورٹر بھی تھے، حکومت کی عدم توجہی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اس شعبے کا گراف بھی مسلسل گر رہاہے، پنجاب اور سندھ کے وہ علاقے جو کپاس کی کاشت کیلئے مشہور تھے وہاں گنے(کماد)کے زیر کاشت رقبے میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا اور ملک میں اسی رفتار سے شوگر ملوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی، تازہ ترین زرعی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پنجاب کے 16اضلاع اور سندھ کے 4اضلاع میں کپاس کے زیر کاشت رقطے میں کمی ریکارڈ کی گئی،زرعی ماہرین اور کاشتکار تنظیموں نے کپاس کے اس بڑھتے ہوئے بحران کے بارے میں حکومت کو بروقت آگاہ بھی کردیا تھا اس کے علاوہ روزنامہ خبریں اور چینل ۵ کے تحت ملتان میں ہونیوالے زرعی میلوں اور زرعی کانفرنس میں بھی کپاس اور اسکے کاشتکاروں کے مسائل کو اجاگر کیا گیا لیکن حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا اور اپنے سیاسی دوستوں کو نوازنے کیلئے شوگر انڈسٹری کو دل کھول کر مراعات دیں جس سے شوگر مافیا مزید تگڑا ہوگیا، ہمارے زرعی ماہرین کی یہ جچی تلی اور واضح رائے ہے کہ ہماری زرعی معیشت کے ایک اہم ستون کپاس کو داو¿ پر لگاکر کماد(گنے) کے زیر کاشت رقبے کو بڑھانا کسی صورت میں بھی مناسب نہیں ہے۔
اس وقت پاکستان میں کپاس کی بوائی کا عمل مکمل ہوچکا ہے، اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ چند سالوں کے دوران ہمارا کپاس کا زیر کاشت رقبہ 2699ہزار ہیکڑ سے 2750 ہزار ہیکڑ کے لگ بھگ ہی رہا ہے، اس میں ہمیں ہرسال تقریباًایک کروڑ 10لاکھ سے ایک کروڑ 20لاکھ گانٹھ کپاس حاصل ہوتی ہے ، لیکن اس سال ہم کرونا وائرس ،کاشتکاروں کی مالی مشکلات اور زرعی مداخل کی مہنگائی و کمیابی کی وجہ سے اسکی کاشت اور پیداوار کا مقررہ ہدف پورا نہیں کرسکیں گے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7سے 8فیصد کمی ہونے کا امکان ہے، ابھی موسم برسات ، سیلاب اور ٹڈی دل کے متوقع حملوں سے بھی پیداوار میں خاصی کمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے، یہ بات حقیقت ہے کہ حکومت نہ جانے کیوں اپنے کاشتکاروں کو مراعات اور سہولتیں دینے کی بجائے کپاس درآمد کرنے کو ترجیح دیتی ہے، دوسری طرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مالکان اپنے ذاتی مالی مفادات کی خاطر اپنی ضرورت کی کپاس درآمد کرلیتے ہیں بلکہ سٹاک بھی کرلیتے ہیں، یہ بات بھی ریکارڈ کی ہے کہ حکومت اپٹما کے دباو¿ پر فوراً حرکت میں آجاتی ہے جبکہ کاشتکار اپنے حق کے حصول کیلئے سڑکوں پر دہائیاں دیتا اور پولیس کے ڈنڈے کھاتا نظر آتا ہے۔ حکومت نے کپاس سمیت دیگر فصلوں کی امدادی قیمتوں کے تعین میں غیر ضروری تاخیر کرنے کو اپنی عادت بنایا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ہمارے کاشتکاروں کو کپاس کا معیاری، صحت مند، بیماریوں سے پاک اور زیادہ پیداوار دینے والا بیج مناسب نرخوں پر دستیاب نہیں ہوتا۔ کپاس کے بیج پر بھی سیڈ مافیا کاراج ہے۔ علاوہ ازیں خالص کھاد اور ملاوٹ سے پاک زرعی ادویات بھی اسکی پہنچ سے دور ہوتی ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ محکمہ زراعت کا عملہ جدید تحقیق اور رہنمائی کاشتکاروں کے کھیت تک پہنچانے کی بجائے اپنے دفتروں میں ”ٹھنڈی ہواو¿ں “ میں بیٹھا رہتا ہے اور ہمارا کاشتکار ”کڑی دھوپ“ میں بھی اپنے کھیتوں میں کام کرتا نظر آتا ہے، یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اپٹما اور شوگر مافیا ،سیڈ مافیا ،کھاد مافیا، زرعی ادویات مافیا، محکمہ زراعت مافیا اور کاشتکار دشمن مافیا نے ہرطرف سے کاشتکاروں کو گھیرا ہوا ہے اور کوئی انکی بات سننے اور انکے مسائل حل کرنے کیلئے تیار نہیں۔
روزنامہ خبریں اور چینل۵ کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے کپاس کے کاشتکاروں کے آغاز سے پہلے ہی خبریں اور ٹی وی پروگرام پیش کئے جس پر حکومتی مشینری خواب غفلت سے بیدار ہوکر حرکت میں آنے پر مجبور ہوئی جس سے کپاس کے کاشتکاروں کے مسائل میں کسی حد تک کمی آئی، کسان بورڈ پاکستان کے صدر چوہدری شوکت علی چدھڑ اور ترجمان حاجی محمد رمضان نے کاشتکاروں کے حق میں آواز اٹھانے پر چیف ایڈیٹر خبریں گروپ جناب ضیا شاہد اور ایڈیٹر خبریں گروپ و سی ای او چینل فائیو جناب امتنان شاہد کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ قارئین کو علم ہوگا کہ کپاس کا پودا نہایت نرم و نازک ہوتا ہے ، موسم کی سختیوں، کپاس پر حملہ کرنیوالی سنڈیوں اور بارشوں کی وجہ سے اسکی فصل کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ زرعی ماہرین نے اس بات کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ کپاس کے علاقوں میں بارش کی وجہ سے ٹڈی دل کے حملے کا بھی خطرہ ہے ، اسلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس متوقع خطرناک صورتحال سے کپاس کی فصل کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات ابھی سے کرکے رکھے۔ ویسے تو کپاس کے کاشتکار عرصہ دراز سے داد فریاد کررہے ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔
آپ حیران ہونگے کہ پاکستان میں پچھلے دس پندرہ سالوں سے کپاس کا بحران کسی نہ کسی شکل میں موجود رہاہے، کبھی پیداوار کم کبھی زیادہ، کبھی کاشتکاروں کی کپاس کی پیداوار فروخت کیلئے پڑی ہوئی ہے لیکن اسے خریدار نہیں ملتا، کبھی خریدار تو موجود ہے لیکن اسکی قیمت اس قدر کم کہ کسان کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہوتی۔ اگر کاشتکار ابھی کپاس کو بروقت فروخت نہ کرسکے تووہ اپنی گندم کی فصل کاشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ کاٹن مافیا اور آڑھتی کاشتکار کی اس مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے اپنے من ما نے ریٹس پر کپاس فروخت کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھی کپاس کے ہمارے زیر کاشت رقبے میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار ایک کروڑ42لاکھ 65ہزار گانٹھ 2004-05میں حاصل ہوئی پھر اگلے چھ سال اسکی پیداوار کا گراف مسلسل گرتا رہا، 2011-12میں صورتحال میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کچھ بہتری ہوئی اور ہم ایک کروڑ 35لاکھ 95ہزار گانٹھ تک جاپہنچے لیکن 2012-13اور 2013-14 میں ایک بار اسکی پیداوار گر گئی، حکومت نے کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جسکی وجہ سے پاکستان میں 2014-15میں کپاس کی ایک بار پھر بمپر کراپ ہوئی اور ایک کروڑ 39لاکھ 60ہزار گانٹھ کپاس پیدا ہوئی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اگلے ہی سال یعنی 2015-16 میں کپاس پیدوار کریش کرگئی اور ہمیں 2014-15کے مقابلے میں 40لاکھ 43ہزار گانٹھ کم حاصل ہوئی یعنی ہماری ملکی پیدوار 99لاکھ 17ہزار گانٹھ کی کم ترین سطح پر آگئی جس سے کاشتکار ،زرعی لیبر،آڑھتی، جنرز،آئل ملز، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ہماری مجموعی برآمدات بھی متاثر ہوئیں۔ کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے نئی حکمت عملی ترتیب دی جس کی وجہ سے آئندہ کے چند سالوں میں ہماری کپاس کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔ حکومت کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے جو کچھ بھی کرے لیکن تبدیلی یا کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ کپاس کی کاشت کیلئے کاشتکاروں کو دل کھول کر مراعات نہیں دینگے، انہیں تصدیق شدہ اور بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت رکھنے والا بیج، ملاوٹ سے پاک خالص کھاد، زرعی ادویات اور مناسب امدادی قیمت ترجیحی بنیادوں پر نہیں دیتے، اس وقت تو ملک میں کپاس کی کاشت مکمل ہوچکی ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس سال ہمیں تقریباً 60لاکھ گانٹھ کپاس درآمد کرنا پڑیگی، جس پر عالمی منڈی کے موجودہ ریٹس کے مطابق تقریباً 6لاکھ ملین ڈالر خرچ ہونگے، جس کا بوجھ قرضہ میں ڈوباہوا ہمارا ملک نہیں اٹھا سکتا، یہ بات حیران کن ہے کہ ہم کپاس کی پیداوار میں کمی کے باوجود اپنی خام روئی کیوں برآمد کرتے رہے؟ اور ہمارے ٹیکسٹائل ملز مالکان ملکی کاٹن پر انحصار کرنے کی بجائے خام روئی کی لاکھوں گانٹھیں حکومت کی اجازت سے کیوں درآمد کرتے رہے؟ ا ور اب بھی مسلسل کررہے ہیں، خام روئی کی درآمد کرکے ہم اصل میں وہاں کے کاشتکاروں کی مدد کرتے ہیں ، ہم اپنی ملکی پیداوار خرید کر اپنے ملک کے کاشتکاروں کو فائدہ دینے میں کیوں ہچکچاتے ہیں؟ گذشتہ سال سے اب تک کاٹن جنرز (جینگ فیکٹریوں) کے پاس خام روئی موجود ہے لیکن ہماری توجہ ہمارے اپنوں کی طرف کیوں نہیں جاتی؟ کپاس کے کاشتکاروں کی یہ فریاد ہے کہ حکومت شوگر مافیا کی سرپرستی کرنے کی بجائے اپنے محنت کش کسانوں کی مدد کرے، انکے کاٹن زون کو وسیع کرے اور اس زون کا پھر تحفظ بھی کرے، کپاس کے زیادہ پیداوار دینے اور بیماریوں کے خلاف زبردست قوت مدافعت رکھنے والے نئی نئی اقسام کے بیج تیار کرے، عوام کی عام معلومات کیلئے عرض ہے کہ اس وقت ہمارا کپاس کا رقبہ سمٹ رہاہے اور گنے (کماد) کا رقبہ بڑھ رہاہے، حالانکہ کپاس کی فصل صرف پانچ ماہ میں تیار ہو جاتی ہے اور اسے کماد کی فصل کے مقابلے میں انتہائی کم پانی درکار ہوتا ہے ، یاد رہے کہ کماد کی فصل تیار ہونے میں تقریباًدس سے بارہ مہینے لگ جاتے ہیں، کپاس کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس میں زیادہ لیبر فورس کو روزگار میسر آتا ہے جبکہ کماد کیلئے بے حد کم روزگار ملتا ہے، کپاس کی فصل ہماری زرعی معیشت کو مضبوط کرتا ہے اور ملک کو اکثر چینی کے بحران میں مبتلا کردیتی ہے، اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم گنے کی کاشت سے ہاتھ کھینچ لیں یا اسکی پیداوار میں کمی لے آئیں ، کاٹن زون اور شوگر زون کو اپنی اپنی حدود قیود کی پابندی کرنی چاہیے، ہر ایک کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن گنے کے رقبے کو بڑھانے کیلئے کپاس کو داو¿ پر لگانا کسی صورت بھی مناسب نہیں ہوگا کیونکہ کپاس ہماری زرعی معیشت اور ملکی مجموعی معیشت کے پہیے کو رواں دواں رکھنے میں اپنا نہایت ہی اہم کردار اداکرتی ہے، کپاس کی وجہ سے ہی ہمارا ہزاروں جنینگ فیکٹریاں آئل ملیںٹیکسٹائل ملیںاور گارمنٹس کی انڈسٹری چلتی ہے لیکن اس شعبے کا سب سے اہم کھلاڑی ”کاشتکار“ مسلسل مسائل کی چکی میں پس رہاہے۔
حکومت کو کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں اس بات ”غذائی تحفظ“ کا ضرور احساس اور خیال رکھنا چاہیے، ہمارے زرعی ماہرین اور پالیسی سازوں کو کپاس کی موجودہ فصل سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے ، اس فصل کو بیماریوں اور ٹڈی دل کے حملے سے بچانے کیلئے فوری عملی اقدامات کرنا ہونگے، ملک کے غذائی تحفظ کو مزید مضبوط اور یقینی بنانے کیلئے کپاس کی اس فصل سے حاصل ہونےوالی پیداوار کی کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ امدادی قیمت دینی چاہیے تاکہ وہ کپاس کے پیداواری اخراجات پورے کرکے ملک میں زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کے قابل ہوسکیں۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved