تازہ تر ین

آئینی اصلاحات کی ضرورت

وزیر احمد جوگیزئی
عوام بہت شدت سے منتظر تھے کہ کوئی لیڈر پاکستان کو لیڈ کرے گا اور پاکستان کی قسمت میں بھی جا گ اٹھے گی ،قوم کو ایک ایسا لیڈر ملے گا جو اس قوم کو عالمی سطح پر اس کے جا ئز مقام تک لے کر جا ئے گا ۔اور اسی لیے بہت سے لوگوں کی امیدیں عمران خان سے تھیں کہ عمران خان کے آتے ہی پاکستان گل و گلزار ہو جائے گا ۔ بڑی تگ و دو اور بڑی کا وشوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے خان صاحب کو پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز کر دیا ہے اور خان صاحب پاکستان کی اعلیٰ ترین مسند پر بیٹھے ہیں ۔لوگوں کو امید بن گئی تھی خان صاحب کی حکومت میں اب ساری کو تاہیاں ساری تباہی اور بربادی اور تمام کمزوریوں کی بیخ کنی کی جائے گی اور عوام کو امید تھی کی ایک انھوں نے تمام معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک درست قائد کا انتخاب کر لیا ہے جو کہ قوم کی حالت سنوار دے گا ۔اب جب خان صاحب کو موقع مل گیا ہے تو کام کرنے کا اصل وقت اب ہے ۔وزیر اعظم صاحب اب اس ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔
آئینی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے ،اس معاملے میں کام کرنے کی بڑی گنجا ئش ہے اس کے علاوہ انتظامی اصلاحات (Adminitrative streamlining) کی جانی چاہیے اس کی ملک اور قوم کو اشد ضرورت ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ بیو روکریسی کے معاملات کو درست کیا جائے ،بیو رو کریسی کے پیچ و خم سلجھانے کے لیے بڑی سوچ سمجھ کی ضرورت ہو تی ہے اور یہ معاملات اتنے آسان نہیں ہو تے ان پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس ملک کے سب سے بڑے مسا ئل میں سے ایک مسئلہ تیز رفتاری سے بڑھتی ہو ئی آبادی اور اس آبادی کی تربیت ہے جس کو ہم بد قسمتی سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ہیں اور مسائل میں سب سے آخر میں رکھتے ہیں ۔مسا ئل کی فہرست تو بہت طویل ہے صنعت و حرفت کے مسائل ہیں ،زراعت کے مسائل ہیں ۔تعلیم و تدریس کے مسائل ہیں لیکن یہاں پر میں بات صرف آئینی اصلاحات ، انتظامی اصلاحات پر کرنا چاہو ں گا ۔ملک میں ہماری قیادت نے بڑے طویل عرصے کے تجربات کے بعد اور تاریخ سے سبق سیکھنے کے بعد 18ویں ترمیم منظور کی ۔اور اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ اس ترمیم کو کرنے کے لیے بہت محنت سے کام کیا گیا لیکن اس ترمیم کو خفیہ طریقے سے کیا گیا لیکن جو کچھ بھی ہوا یہ ترمیم وقت کی ضرورت تھی ۔اور سیاسی طور بھی ملک کی ضرورت تھی ۔اگر دیکھا جائے تو اس ملک میں ہم بنگلہ دیش یا مشرقی پاکستان کے کھو جانے کے بعد بھی ہم بنیادی اسباق سیکھنے میں ناکام رہے ہیں ،کہنا کا مطلب یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے ٹوٹ جانا اس کی وجوہات کیا تھیں اس پر ہم نے کبھی اسمبلی کے فلور پر یا سینیٹ میں سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا ۔ہم یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ اس مسئلہ پر بحث کرنا کتنا ضروری ہے ما ضی سے سبق سیکھ کر ہی مستقبل میں آگے بڑھا جاسکتا ہے ۔
اور آج بھی اس ملک میں آئینی ترامیم کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے اور آئین میں ترمیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کھلے دل اور دماغ سے مسائل کو دیکھا جائے ان کو پرکھا جائے اور ان کے حل کے لیے کام کیا جائے ۔جمہوریت میں سب سے بڑا چیلنج ایک diversifiedآبادی کو مطمئن کرنا اور اور وسائل کو ان تک پہنچانا مشکل کام ہے ۔مختلف صوبوں میں رہنے والے عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے ۔اور اس کام کے لیے ہمیں ایک مضبوط آزاد ،اور پائے کی سول سروس کی بھی ضرورت ہے جو کہ اس کام کو عملی جا مہ پہنانے میں حکومت کے ساتھ چلے ۔لیکن ہم اس طرف سوچتے ہی نہیں ہیں ۔ہمیں یقین ہے کہ ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اور اگر ہماری ہندوستان کے ساتھ جنگ ہو جاتی ہے یا پھر کرونا کے خلاف لڑائی ہو ہم یکجان ہو جاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ہم عام حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی مفادات کی جنگ میں مشغول نظر آتے ہیں ۔جب تک عوام کو ان کے وسائل تک مکمل دسترس نہ دی جائے میں نہیں سمجھتا کہ تب کہ خوشحالی آسکے گی ۔اگر آپ جدو جہد آزادی پر نظر دوڑائیں تو اس جد و جہد کا بنیادی مقصد ہی معاشی آزادی تھا ۔اور معیشت ایک ایسا مو ضوع ہے کہ جس پر صرف اور صرف معاشی ماہر بہتر انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں لیکن یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ کیا آج ہمارا ایک عام شہری معاشی طور پر آزاد ہے کیا اس کو قومی وسائل میںبرابر کے مواقع حاصل ہیں، ان باتوں پر بھی غور کی ضرورت ہے ۔ لیکن میں ایک عام شہری کی حیثیت سے یہ سوچتا ہوں کہ انسانی ترقی اور افرادی قوت کو ترقی دینے سے ہی ملک کامیاب ہو تے ہیں ۔اس حوالے سے کئی مثا لیں ہمارے سامنے ہیں ۔جاپان کو دیکھ لیں ،کوریا کو دیکھ لیں کہ ان ممالک نے کتنی ترقی کی ہے اور یہ قومیں آج دنیا میں کہاں کھڑی ہیں ۔لیکن اگر ان اقوام کے معاملات کا تفصیلی جا ئزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ کسی جا پانی کو کسی اور جاپانی سے کو ئی گلہ شکوہ نہیں ہے ۔ان ملکوں کی پوری آبادی صحت ،تعلیم ،وسائل اور دیگر اسباب میں برابر ہے ،سب کو برابر کے حقوق اور مواقع حاصل ہیں ۔ہم بھی تو اسی زمین پر رہتے ہیں اور شاید ان قوموں سے زیادہ وسائل کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔لیکن اس کے با وجود ہم ان ممالک سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنی آبادی کو وسائل میں برابری نہیں دے سکے ،مواقع نہیں دے سکے ۔لیکن بات کا اختتام یہاں پر کروں گا کہ جس قیادت سے ہم نے ان تمام چیزیں عملی طور پر کر دکھانے کی امیدیں باندھ رکھی تھیں ۔جس لیڈرشپ کا ہمیں طویل عرصے سے انتظار تھا اس لیڈرشپ نے ہمارا دل توڑ دیا ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved