تازہ تر ین

کیپٹل ازم، کمیونزم، اسلام کا نظام معیشت کیا ہے؟

پیارے پڑھنے والے برسوں پہلے کی بات ہے میں اور میرا دوست کنور محمد دلشاد (سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن) سابق صدر ایوب خان کے اسلام آباد والے گھر میں ان کی لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے اور بحث کر رہے تھے۔ یحییٰ خان کا دورِ حکومت تھا، ایوب خان اقتدار چھوڑ چکے تھے، میں ان دنوں حبیب جالب کا بہت متوالہ تھا اور بائیس گھرانوں والی نظم میں نے انہیں سنائی، ایوب خان کا اپنا ایک فلسفہ تھا، وہ کہنے لگے اگر میں غیر ملکی قرضے لے کر پوری قوم میں برابر تقسیم کر دیتا تو کوئی بچہ شادی کر لیتا، کوئی موٹر سائیکل خرید لیتا، کچھ فضول خرچیوں میں ضائع کر دیتے، میں سمجھتا تھا کہ پاکستان کو بڑی صنعتوں کی بہت ضرورت ہے۔ میں پیسے والوں کو بلاتا اور کہتا کہ کچھ پیسہ لگاﺅ۔ باقی میں قرضہ، جو غیر ملکی ہے، دلواتا ہوں اور ایک بڑی صنعت بنا لو، اس طرح میں نے لاہور سے گوجرانوالہ تک اور لاہور سے فیصل آباد تک اور کراچی کی سائیٹ میں صنعتیں لگوائیں۔ صنعتی ترقی جہاں بھی آئی خواہ انگلستان ہو یا امریکہ شروع میں کمانے والوں نے بہت کمایا پھر حکومتوں نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا کہ اب ورکروں کے لئے رہائشی کالونیاں بناﺅ، ان کے بچوں کے لئے سکول بناﺅ، صحت کا بندوبست کرو اور ہسپتال بناﺅ پھر ٹیکس کو بڑھانا شروع کیا گیا اور رفتہ ر فتہ حالات سدھرنے لگے۔ میں نے کچھ کام شروع ہی کیا تھا کہ بھٹو صاحب استعفیٰ دے کر سڑکوں پر آ گئے۔ انہوں نے ہر بے زمین کو خوشخبری سنائی کہ بڑے زمینداروں سے چھین کر اتنے ایکڑ تمہیں دے دوں گا اور صنعتوں پر سرکاری ملازم بٹھا دیئے اور پارٹی ورکروں کو دھڑا دھڑ نوکریاں دے دیں۔ ایوب خان نے اپنی گفتگو کے آخر میں ہمارے سوالوں کے جواب میں یہ کہا کہ بینکوں اور بڑی صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی ملکی معیشت کو برباد کر دے گی۔
کیپٹل ازم میں جسے سرمایہ دارانہ نظام بھی کہتے ہیں ۔ایسے مراحل کم و بیش ہر ملک میں آئے جس ملک نے توازن کا راستہ اختیار کیا وہ کامیاب رہا اور جہاں ورکروں کے ہڑبونگ نے قبضے شروع کر دیئے وہ برباد ہو گیا۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ آپ کو ہر ملک کی تاریخ میں اس کے تذکرے ملتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام جہاں قائم رہا جیسے امریکہ، یورپ، جاپان، جرمنی وغیرہ وہاں حکومتیں بہت سخت تھیں اور کرپشن کا وہ لیول نہیں تھا جو ہمارے ہاں موجود ہے۔ اس کے باوجود کیا کوئی غریب یا متوسط طبقے کا آدمی ان نام نہاد جمہوریتوں میں صدر یا وزیراعظم منتخب ہو سکتا ہے اب ایک نئی اصطلاح آ گئی ہے کہ حکمران کے پاس بھی کچھ نہیں مافیاز طاقتور ہیں اور وہ ملک کو جیسے چاہتے ہیں چلاتے ہیں۔
کمیونزم کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا اس کا سافٹ نام سوشل ازم ہے۔ کمیونزم کے ابتدائی دور میں ردعمل کے طور پر کسانوں نے فصلیں جلا دیںاور مزدوروں نے کارخانوں پر قبضہ کر لیا۔ پھر ایک پارٹی کی حکومت نے بدترین قسم کی آمریت قائم کی۔ وسائل رزق پر ریاست کا قبضہ تھا۔ ساری دنیا ریاست کی ملازم تھی لیکن یہ غیر فطری نظام بھی زیادہ دیرنہ چل سکا اقتدار کا سرچشمہ کیونکہ پارٹیی قیادت ہوتی تھی اس لئے انتہائی سختی کے باوجود روس میں جہاں کمیونزم کا تجربہ ہو رہا تھا۔ مختلف علاقوں نے علیحدگی اختیار کرنا شروع کی، ایک طرف اندھا اقتدار تھا اور دوسری طرف مایوسیاں اور محرومیاں، مساوات کے نام پر دنیا بھر میں لطیفے مشہور ہونے لگے کیا ماسکو کا محنت کش سٹالن اور خروشیف کے برابر مراعات حاصل کرتا تھا۔ انسان غلام بن گیا پارٹی قیادت بادشاہ بن گئی۔ چین نے کمیونزم کی دیکھا دیکھی اپنے ہاں سوشل ازم میں کچھ تبدیلیاں کیں لیکن اگر یہ آئیڈیل نظام ہوتا تو روس نہ ٹوٹتا اور ساری دنیا چین سے خائف نہ ہوتی۔ ہمارے ہاں بھی پرانے کمیونسٹ اور سوشلسٹ بحث میں بہت تیز ہیں لیکن:
وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا
سرمایہ دارانہ نظام نے خلاءمیں انسان کو بھیجا ہائیڈروجن بم سے بھی آگے تباہ کن ہتھیار بنائے اور پھر کیمیکل جنگ کی طرف بڑی طاقتیں لوٹیں امریکہ چین کو الزام دے رہا ہے کہ کرونا اس نے پھیلایا چین امریکہ کی لیبارٹریوں میں کرونا کی افزائش کی تھیوریاں پیش کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب اور قائداعظم کے ساتھی حاجی عبداللہ ہارون کے پوتے حسین ہارون نے ایک طویل ویڈیو میں الزام لگایا کہ کرونا امریکی لیبارٹریوں میں بنا ہے، کبھی بل گیٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی اس سلسلے میں کچھ خدمات انجام دی ہیں۔ غرض سرمایہ دارانہ نظام جس کی بنیاد سود پر ہے عام آدمی کو وہ خوشحالی نہ دے سکا جس کا وعدہ امریکہ کو آزاد کروانے والوں نے کیا تھا۔ دین سے ویسے اہل مغرب دور ہو چکے ہیں اور پاپائے روم کو انہوں نے روم تک محدود کر رکھا ہے۔ مسیحی دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہے لیکن مذہب سے سب سے زیادہ دور ہیں اور مذہب اب رسم و رواج کے سوا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ مغربی معیشت ٹیکس کی معیشت ہے۔ ہر چھوٹے بڑے سے دبا کر ٹیکس لو اور اس کی بنیاد پر حکومت کے کام چلاﺅ (بدقسمتی سے ہمارے ہاں جب ٹیکس کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اتنی مخالفت ہوئی کہ بینظیر بھٹو سے نوازشریف اور عمران خان تک پیچھے ہٹ گئے۔ آج 22 کروڑ لوگوں میں سے شاید 27 ہزارر لوگ ٹیکس دیتے ہیں یا اس سے زیادہ ،ملک چلے گا کیسے ؟ہمارے پاس اتنا سرمایہ ہی نہیں کہ لاک ڈاﺅن کی شکل میں گھروں میں لوگوں کو ان کی آمدنی کا 80 فیصد گزارا الاﺅنس دے سکیں۔
یہ موضوع سمیٹنے کے لئے ہزار صفحات چاہئیں۔ چند مختصر اشارے پیش خدمت ہیں۔
اسلام نے نجی کاروبار کی اجازت دی ہر شخص زیادہ سے زیادہ کما سکتا ہے لیکن اس کے استعمال پر کڑی پابندیاں ہیں۔ میں نے گزشتہ روز جاوید جبار کی جو انگریزی تحریر ترجمہ کر کے چھاپی تھی اس میں بجا طور پر لکھا تھا کہ میں لاہور ہی کی مثال لوں تو ایم ایم عالم روڈ پر کتنے شاندار ریسٹورنٹ ہیںجس میں چند دوست یا ایک خاندان کھانے کے لئے جاتا ہے تو جتنا بل وہ ادا کرتا ہے اس سے کہیں کم ایک مہینے کے بعد اس چوکیدار کو ملتے ہیں جس نے اس کے لئے دروازہ کھولا تھا لہٰذا یہ سمجھنا کہ ہمارے پاس پیسے ہیں ہم جہاں چاہیں خرچ کریں، اس رجحان پر قابو پانا ہو گا۔ اول تو یہ دیکھنا ہو گا کہ آپ کے پاس پیسے آئے کہاں سے منی ٹریل لاﺅ دوسرا یہ کہ آپ 8,8 کنال کے گھر میں نہیں رہ سکتے جبکہ لوگوں کو 2 مرلے کے مکان بھی میسر نہیں۔ یہ کام اسلامی ریاست کا تھا کہ وہ اس فضول خرچی کو ختم کرے ۔ایک شخص کے پاس سائیکل بھی نہیں اور آپ اس کے قریب سے بلٹ پروف کروڑوں کی گاڑی میں گزر جاتے ہیں۔ اس پر پابندی کون لگائے گا؟کیا انہیں اپنی جانوں کا زیادہ خطرہ ہے۔ موت کا تو ایک دن معین ہے، جب اللہ کی منشا ہو گی۔ آپ کو ساری دنیا روکتی رہے دنیا بھر کے بینکوں میں اور دنیا بھر کے ممالک میں آپ کی جائیدادیں مزاحمت کر لیں جب عزرائیل جان لینے کے لئے آئے گا تو کوئی آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اسلام نے ایک طرف فضول خرچی کو یہاں تک روکا کہ حضور نے فرمایا پھل کھا کر چھلکے گھر کے دروازے پر نہ پھینکو دیکھنے والوں کے دل میں خیال آئے گا کہ ان کے پاس یہ پھل کیوں نہیں اور نبی کریم اپنے گھر والوں کو ہدایت کرتے تھے جب گوشت پکایا کرو تو پانی زیادہ ڈال دیا کرو تا کہ پڑوسیوں کو بھی دے سکو آپ کو زراعت سے جو آمدنی آنی ہے اس کا دسواں حصہ آپ نے بطور عشر تقسیم کرنا ہے۔ آپ نے سود نہیں لینا۔ آپ نے زکوٰة و صدقات اور خیرات دیتے رہنا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنے گرد تین گھروں کی ذمہ داری لینی ہے کہ کوئی بھوکا تو نہیں سویا کوئی بیمار تو نہیں ہے۔ کوئی لڑکی شادی کے انتظار میں تو نہیں بیٹھی ہوئی کوئی قرضے کی مشکل میں تو نہیں پھنسا ہوا۔
اسلامی فلاحی ریاست قائم کرو، فضول خرچیاں ختم کرو، بڑے گھروںاور بڑی گاڑیوں پر پابندی لگواﺅ، ہر ایک سے آمدنی کے ذرائع پوچھو، ایم ایم عالم روڈ اور طارق روڈ کے ریسٹورانوں میں آپ کو کمی ہوتی ہوئی نظر آئے گی۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved