تازہ تر ین

پاکستان بدلنے دو

ڈاکٹر نبیل چودھری
گلے سڑے نظام سے نکلنے دو،خدارا پاکستان کو بدلنے دو۔ اپنی بوٹی کےلئے پورا بیل نہ ذبح کرو۔لگتا ہے پیپلز پارٹی کے دوستوں نے قسم کھا لی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنے دیں گے جس سے ملک کو دیرپا خوش حالی مل جائے۔ ملکی ترقی کے دشمن قوم کو ورغلاتے رہے اور کالا باغ جیسے گولڈن منصوبے کا بیڑہ غرق کیا ۔ کہتے ہیں سندھ میں ایک شخص تقریر کر رہا تھا کہ دیکھیں پنجابی دریا ئے سندھ کے اوپر کالا باغ ڈیم بنا کر اس میں سے بجلی نکال لیں گے اور جو پانی ہمارے پاس آئے گا اس میں بجلی نہیں ہو گی جس چیز میں کرنٹ نہ ہو وہ کس کام کی۔خدا کی پناہ۔ لیکن اب اللہ کے کرم سے وہ دورِ ٹھگی چلا گیا۔ چاروں صوبوں کی زنجیر پارٹی ایک صوبے میں سمٹ کے رہ گئی ہے۔ جسے لیاری اور لاڑکانہ سے شکست ہورہی ہے اس کے حال پر بندہ کیا بات کرے۔بلاول جو خوامخواہ بھٹو بنے بیٹھے ہیں انہیں ملکی سیاست کرنی چاہئے۔وہ کہتے ہیں ،میں مستقبل کا وزیر اعظم ہوں تو اس لحاظ سے تو انہیں ان قومی منصوبوں کی حمایت کرنی چاہئے۔ انڈیا چیخ رہا ہے ،وہ کہتا ہے ہم گلگت بلتستان میں اس قسم کا منصوبہ نہیں بننے دیں گے۔ وہ لداخ میں دو سو کلو میٹر سڑک اور پل بنا چکا ہے۔اسے پاکستان کے اس منصوبے سے تکلیف ہے وہ کہتا ہے ہم گلگت بلتستان میں الیکشن بھی نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت کا یہ چہرہ دیکھیں اور ساری قیادت اس پر مل بیٹھے نہ کہ مولانا فضل الرحمن کی ناکام اے پی سی کا نعقاد ہو۔
یہ حکومت دھڑا دھڑ ایسے کام کر رہی ہے جس سے پاکستان کی آنےوالی نسلوں کو فائدہ پہنچے گا ۔مرکز میں عمران خان نے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز کرا دیا ہے تو پنجاب میں وسیم اکرم پلس جنوبی پنجاب کی لاکھوں ایکڑ پیاسی دھرتی کےلئے نہری پانی کے120 سالہ پرانے منصوبے کا اجراءکر رہے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ ترقی نہیں ہو رہی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے جسے عمران خان اور عثمان بزدار کے کام نہیں نظر آ رہے انہیں چاہئے کہ پہلی فرصت میں اپنی نظر چیک کرائیں، اور اگر عینک لگی ہے تو پھر ایسا کریں اس کانمبر بدل لیں۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اس سے پہلے پاکستان نے امریکہ کو کوئی چیز ایکسپورٹ کی ہے؟وہ کام بھی فواد چودھری نے کر ڈالا ہے اس ملک میں وینٹی لیٹرز بن رہے ہیں، سینٹائزنگ دروازے بن گئے ،این ۹۵ ماسک کی تیاری ہو گئی، دنیا آرڈر دے رہی ہے پاکستان اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے کہ مزید وینٹی لیٹرز بنائے اور دنیا کی مدد کرے ۔آپ کی حکومت اور خاص کر عمران خان کے دلیرانہ اقدامات کی تعریف کل عالم کر رہا ہے اور کووڈ ۱۹ کے بارے میں جو اقدامات پاکستان نے اٹھائے ہیں اس پر دنیا چلنا شروع ہو گئی ہے۔مزے کی بات ہے لوگوں نے اپنی مرضی کے چینل دیکھنا شروع کر دئے ہیں ۔حکومت پاکستان اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کا ایک بہترین اتحاد وجود میں آ چکا ہے ۔دیا میر بھاشا ڈیم کے بارے میں کچھ لوگوں نے ٹویٹر پر نا منظور کا نعرہ لگا دیا جسے لوگوں نے بری طرح ناکام بنا دیا ہے ۔پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں جو ملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہو گا، تاریخ میں سب سے بڑا تربیلا اور منگلا سے بڑا ڈیم جو اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے قریب ہیں ۔ایسے میں اس ڈیم کا بننا ایک نعمت سے کم نہیں۔ یہ آر سی سی سے بنا ڈیم ہے اس سے ملک میں بہت سی صنعتوں میں ترقی ہو گی سیمنٹ، سریا اور دیگر چالیس قسم کی صنعتیں اب سر اٹھائیں گی ۔
پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کا بڑا پراجیکٹ سامنے آ رہا ہے، کم آمدنی والے لوگوں کےلئے بڑی خوشخبری ہے کہ وہ جتنا کرایہ دیتے تھے اس میں گھر کے مالک بن جائیں گے۔عبدالکریم ڈھیڈی جیسے بزنس مین نے اس پروجیکٹ کو سراہا ہے۔پوچھتے تھے ‘کیا کر لیا ہے عمران خان نے۔ جناب یہ کر لیا ہے عمران خان نے کہ جب سعودی عرب جیسی معیشت نے اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کی عام لوگوں کو گھروں میں بٹھا دیا تو ایسے میں عمران خان کی ٹائیگر فورس کے ذریعے لوگوں کی دہلیز تک مدد پہنچائی گئی۔چیخنے اور چلانے والوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو عمران خان کے بارے میں کہتا رہتا ہے کہ مائنس ون ہو گیا اس کام میں نون لیگ نے تو حد کردی اس کے خواجہ آصف نے ایک نئی تھیوری پیش کر دی۔ یہ نئی تو نہیں ہے اس سے پہلے ایک مغل شہنشاہ اکبر دین اکبری پیش کر چکے ہیں جسے اللہ کے ولیوں نے چاروں شانے چت کیا تھا۔ خواجہ آصف کے اس بیان کی کہ سارے دین برابر ہیں،کی شدت سے مذمت ہوئی ۔ویسے میرے خیال میں یہ اسی بیان کا تسلسل ہے جو میاں صاحب سیفما کی تقریب میں کر چکے ہیں کہ ہم بھی اسی رب کو مانتے ہیں جس کو بھارتی مانتے ہیں، مجھے بھی آلو گوشت پسند ہے جو آپ بھی کھاتے ہیں بس درمیان میں ایک لکیر سی ہے۔ میاں صاحب کی کیا بات ہے ‘اس پار سے آنے والوں سے پوچھیں کہ دس لاکھ لوگوں کی قربانیوں سے ملک پاکستان بنا اور اس لکیر کے ہونے سے اب کتنی جانیں محفوظ ہیں ۔شائد ہمیں اس ملک کی قدر نہیں ہے لیکن یہ اس سے پوچھیں جن کے پاس ملک نہیں ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت انصاف کے لئے سر گرداں ہیں۔ لوگ کرپشن کی بات کرتے ہیں ،بیڈ گوررننس کا نعرہ لگاتے ہیں ۔کل ٹی وی پر ایک نون لیگی صاحب کہہ رہے تھے عثمان بزدار کی گرفت کمزور ہے، دوسرے معنوں میں وہ کہنا چاہتے تھے کہ بزدار صاحب بڑھکیں نہیں لگاتے ،ایڑی مار کے دھرتی نہیں ہلاتے، شور نہیں کرتے خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ ان کے وزیر بھی خدمت پر لگے ہوئے ہیں ۔میں یہاں فیاض الحسن چوہان ،میاں اسلم ،عبدالعلیم خان کا خاص طور پر ذکر کروں گا جنہوں نے فرنٹ لائن مجاہدین کا کردار ادا کیا ہے۔ ایک بار میری ٹیم نے وسیم اکرم پلس کا ٹرینڈ کامیاب کیا تھا اب چوہان کی ٹیم نے یہ کام ایک نہیں دو بار کر دکھایا ہے۔ ٹویٹر کو آسان نہ لیں یہ لیڈروں کے کانوں میں بات کرتا ہے۔
میں جن ٹیکنالوجسٹس کی بات کرتا ہوں یہ سڑکوں پر آ کر مظاہرے کر چکے ہیں ہائے ہائے کے نعرے لگا چکے لیکن پچھلے دنوں انہوں نے شفقت محمود سنو کے نام سے ٹرینڈ چلایا اور اس کے بعد تواتر سے لگے رہے، ان کی سنی گئی اور وزیر تعلیم نے بلا کر سنا ۔میں سمجھتا ہوں فواد چودھری کو ان ساٹھ لاکھ لوگوں کی سننی ہو گی ۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک نوجوان سترہ سال پڑھتا ہے دوسرا سولہ اور سولہ سال پڑھنے والے کو گریڈ سترہ کی نوکری ملتی ہے اورسترہ سال پڑھنے والے کو مجبورا گریڈ گیارہ میں جانا پڑتا ہے ۔اس سے بڑی نا انصافی نہیں دیکھی گئی۔یہ کام بھی اسی حکومت کے دور میں ہونے جا رہا ہے ۔ ٹیکنالوجسٹوں کی الگ سے آزاد اور خود مختار کونسل بننی چاہئے جس طرح پاکستان انجینئرنگ کونسل خود مختار ہے اسی طرح پاکستان ٹیکنالوجی کونسل بننا ضروری ہے۔سچ پوچھئے فواد چودھری راہ پر چلتے چلتے علماءصاحبان کو وٹہ مار دیتے ہیں،یہ کام نہ کریں اور صرف ٹیکنالوجی اور سائنس کی وزارت پر توجہ دیں تو یہ ایک بڑے ذہین اور قابل بندے ہیں ۔کسی نے آج سے پہلے سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کا نام نہیں سنا ہو گا، پاکستان کا خلائی سیارہ بدر خلاءمیں پہنچ چکا ہے ۔نون لیگ والوں کا کمال یہ ہے وہ کہتے ہیں یہ کام بھی ہمارا ہے۔ لگتا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ دیکھیں جی ہمارا عابد شیر علی پہلے سے خلاءمیں موجود ہے ۔چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں۔ کسی بھی پراجیکٹ کی بات کریں دیا میر اور بھاشا ڈیم کا ذکر کریں کہتے ہیں جی یہ تو ہم نے شروع کیا تھا جبکہ ان کی حکومت بجٹ میں فنڈ رکھتی تھی وہ فنڈ اورنج ٹرینوں میں لگا دیتی تھی، اسی طرح جنوبی پنجاب کا تینتیس فی صد بجٹ لاہور میں لگا دیتی تھی۔ بزدار کا کمال کام یہ ہے کہ اس نے تینتیس فی صد کو سیل کر دیا اور کہا جو مرضی کر لیں یہ پیسہ یہاں سے نہیں جائے گا۔دیا میر ڈیم، جی وہ ہمارا منصوبہ تھا ۔موٹر ویز، جی وہ ہم نے بنائیں۔ حضور بنائیں آپ نے ضرور مگر کھاتا تھا تو لگاتا بھی تھا، آپ لوگ تھے۔ اب تو اس دور میں دیکھ لیں کسی کے بارے میں بھنک بھی پڑی تو اسے فارغ کر دیا ۔پی ٹی آئی کا نصب العین ہے لگائے گا مگر کھائے گا نہیں۔خدارا اس گلے سڑے فرسودہ نظام کو بدلنے دو۔ پاکستان بدلنے دو۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved