تازہ تر ین

تبدیلی کا کوئی امکان نہیں !

میاں حبیب اللہ
کہتے ہیں دلہن وہی جو پیا من بھائے، لیکن آج کے مفاد پرست دور میں دلہن کی ہم جولیاں ہی مان نہیں ،جو اپنی دلربا اداﺅں کے ساتھ پیا کو لبھانے میں جت جاتی ہیں اور اپنی سہیلی کا گھر اجاڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ پہلے کسی کو علم ہو جاتا تھا کہ کسی لڑکی کی منگنی ہو چکی ہے یا اس کا نام کسی کے ساتھ لیا جارہا ہے تو اس کی طرف اس نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔روایات کا یہ عالم تھا کہ کسی کے چھابے میں ہاتھ مارنے کو برائی سمجھا جاتا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ کسی کو صرف یہ علم ہو جائے کہ کسی کا کسی اہم شخص کے ساتھ تعلق بن گیا ہے تو قریبی ہی برداشت نہیں کرتے فوری اس تعلق کو خراب کرنے پر جت جاتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے اس کا تعلق ختم کر کے اپنا تعلق قائم کیا جائے یا کم از کم ہمارا تعلق نہیں بن سکتا تو اگلے کا بھی خراب ہو جائے یعنی، نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے، اور، کوئی کسے نوں کھاندا نئیں ویکھ سکدا۔ کچھ اسی قسم کی نفسیات ہماری سیاسی جماعتوں کی بھی ہے جن کا مطمع نظر ہی یہ ہے کہ ہم نہیں تو کوئی نہیں ۔یہ اپنی محنت اورخدمت سے عوام میں اپنی ہمدردیاں حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے کی بجائے کسی کو گرا کر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی جڑیں عوام میں ہونے کی بجائے کہیں اور ہیں۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے جو پیا من بھا چکی ہے‘ کے خلاف نفرتیں پیدا کر کے اپنی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں دلہن بننے کا مقابلہ چل رہا ہے، دونوں کی کوشش ہے کہ پیا کے من میں نفرت پیدا کرکے اس کی جگہ لے لیں۔ دونوں جماعتیں اپنی تمام تر توانائیاں اس مقصد پر صرف کیے ہوئے ہیں اور اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ وہ قابل قبول بن جائیں ۔دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی گھر گھرہستی کی خوبیاں گنوا رہی ہیں ، ساس سسر نندوں اور ہمسایوں کو خوش رکھنے کے تجربہ کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔ طرح طرح کی خدمات اور خوش رکھنے کے وعدے اور قسمیں کھائی جا رہی ہیں لیکن پیا ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا بلکہ وہ اس مقابلہ کو انجوائے کر رہا ہے۔ دوسری جانب عوام ان کو اپنی دلہن بنانے کے انتظار میں بوڑھے ہو رہے ہیں اور لگتا ہے کہ اسی انتظار میں عوام کہیں کنوارے ہی نہ مارے جائیں۔ ان کو چاہیے کہ یہ ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے راہ راست پر آجائیں شارٹ کٹ سے باہر نکل آئیں ،ان کی درست سمت نہ ہونے کی وجہ سے یہ عوام سے اور عوام ان سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی نظام کی حالت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں یہ سمجھنا شروع ہو گئی ہیں کہ انھیں نظریاتی سیاسی ورکروں کی بھی ضرورت نہیں وہ جب چاہیں ’پیسہ پھینک تماشہ دیکھ‘ کا ڈھونگ رچا کر جو مرضی کر لیں۔ سیاسی جماعتوں میں اجارہ داری کا یہ عالم ہے کہ ارکان اسمبلی کو بھی مزارع سمجھا جاتا ہے، ورکرز تو درکنار ارکان اسمبلی کو بھی گھاس نہیں ڈالا جاتا ۔عوام کا خون نچوڑنے اور انھیں گہری کھائی میں پھینک کر یہ آج بھی پیا کے لیے لڈیاں ڈالتی نظر آتی ہیں۔ ابھی جن حالات سے پوری دنیا نبردآزما ہے اور خاص کر پاکستان جیسے غریب ملک کے لوگ کس کسمپرسی میں وقت گزار رہے ہیں جس طرح لوگوں کو روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور دیہاتوں میں ٹڈی دل نے جو تباہی مچائی ہے ان حالات میں ہمارا سیاسی نظام عوام سے بالکل لا تعلق نظر آتا ہے۔ کسی سیاسی عہدیدار نے گراس روٹ لیول پر جا کر لوگوں کو جھوٹی تسلی دینے کی بھی کوشش نہیں کی کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ عوام بیوقوف ہیں انھیں چند میٹھے بول بول کر ،جھوٹی سچی قسمیں کھا کر ،سبز باغ دکھا کر، بریانی کھلا کر ،چھوٹی موٹی مدد کر کے، کچھ وعدے وعید کر کے، جب چاہیں گے مطمئن کر لیں گے۔لہٰذا ان کی خیر ہے سارا زور پیا کو منانے پر ہے اس کے لیے بڑھ چڑھ کر خدمات پیش کی جا رہی ہیں۔ عوام حیران ہیں کہ بظاہر ایک دوسرے کی شکل تک نہ دیکھنے والے ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے گریز کرنے والے، جب ضرورت پڑتی ہے تو ضروری قانون سازی کے لیے دست تعاون بڑھ جاتا ہے۔ چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں خدمات پیش کر دی جاتی ہیں ،کبھی پراسرار خاموشیاں، کبھی دھرتی ہلا دینے والی بڑھکیں یا خدایا یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔ اب پیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ نئی نویلی دلہن سے گھر نہیں سنبھالا جا رہا دلہن کا گھر اجاڑنے کے لیے تانے بانے بنے جا رہے ہیں لیکن شاید دلہن کو بھی یقین ہے کہ پیا کا من کوئی نہیں جیت سکتا لہٰذا وہ ان کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ ان کے پرانے کرتوت نکال نکال کر ان کو اتنا ڈرایا جا رہا ہے کہ اب ان کو یقین ہو چلا ہے کہ اگر ان میں علیحدگی نہ ہوئی تو ان کی باری کبھی نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آجکل پھر افواہوں کا بازار گرم ہے ۔کبھی عدم اعتماد کی بات کی جاتی ہے تو کبھی مائینس ون کا ڈول ڈالا جاتا ہے کبھی حکمران جماعت کے اندر پھوٹ کی خبریں دی جاتی ہیں تو کبھی مائینس آل، کبھی صدارتی نظام ،کبھی اسمبلیاں توڑنے اور کبھی اداروں میں محاذ آرائی کی کوڑی لائی جاتی ہے۔ لیکن یقین کریں کہ حالات میں تبدیلی کے اثرات کہیں نظر نہیں آتے۔ ایسے میں جب سرحدوں پر کشیدگی ہو، خطے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوں، افغانستان سے اتحادی فوجوں کا انخلا ہو رہا ہو ،ملک کے اندر کرونا کی وبا پھیلی ہو، ملک کی معیشت کمزور ہو ،دنیا بھر کے معاشی حالات غیر یقینی کا اشارہ دے رہے ہوں، ایسے میں کون تبدیلی کا کلہاڑا اپنے پاو¿ں پر مارنے کی غلطی کر سکتا ہے۔
(کالم نگار قومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved