تازہ تر ین

جناب بزدار صاحب آٹا اور سبزیاں سستی کریں

زیادہ بہتر ہوگا آپ سابق وزیراعلیٰ اور سپیکر چودھری پرویزالٰہی سے ملاقاتیں نہیں گورنر سمیت طویل مشاورت کریں
لاہور کے تاجر صنعتکار مارکیٹوں کے چودھری، قدرتی طور پر ن لیگ کے دائرے میں آتے ہیں، صرف پرویز الٰہی انہیں ایک جگہ جمع کر سکتے ہیں
تنہا کوشش نہ کریں ،اپنے ساتھ مضبوط ٹیم بنائیں جو لوگوں سے بحث مباحثہ کر کے درمیانی راستہ نکال سکے

پیارے پڑھنے والے آج صوبے کے وزیراعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب سے کچھ باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بزدار صاحب میں نہ سیاستدان ہوں نہ مجھے آپ کی جگہ کسی اور کو دلوانی ہے اور نہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی ہے۔ میں تو دو تین بار آپ سے ملا اور آپ بڑی محبت سے پیش آئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں آٹے اور چینی کے سکینڈل کا شور مچا تو عمران خان حسب معمول لاہور آئے اور انہوں نے جو ہدایات دیں اس کے نتیجے میں آٹے کے تھیلے کی قیمت 860 روپے مقرر ہوئی جو آج بازار میں 1240 روپے میں دستیاب ہے۔ میں نے اس سلسلے میں جو تھوڑی بہت معلومات جمع کی ہیں اس میں سرکاری مشینری کی نااہلی سرفہرست ہے۔ سب سے پہلے تواعداد و شمار غلط بتائے جاتے ہیں یعنی 2600 ٹن گندم ہو گی کہا گیا جبکہ آڑتھیوں اور مل والوں کا کہنا ہے کہ 2200 ٹن سے زیادہ گندم پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ہو سکتا ہے ان کے اعداد و شمار میں کوئی غلطی ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ چند برس پہلے تک پنجاب جہاں گندم ضرورت سے کہیں زیادہ پیدا ہوتی تھی اور ریکارڈ موجود ہے کہ ہم باہر بھیجنے کی کوشش کرتے تھے تو بعض ٹیکنیکل امور کی وجہ سے ایکسپورٹ نہیں ہو سکتی تھی۔ دنیا میں گندم کا ریٹ آج بھی اگر کراچی میں باہر سے منگوائی جائے تو 1700 روپے من سے زیادہ پڑے گا۔ یہی وجہ تھی کہ جب سے پاکستان بنا ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ گندم اور آٹا بھارت سمگل ہوتا ہے۔ افغانستان جاتا ہے اور کچھ حصہ ایران کے کھاتے میں جاتاہے۔ ہمارے رینجرز والے بڑے بہادر اور فرض شناس لوگ ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اور جب میں بہاولنگر میں سکول میں پڑھتا تھا اور جنگ کراچی میں دوپہر کی گاڑی سے ٹارزن کی قسط پڑھنے کے لئے ریلوے سٹیشن جاتا تھا۔ اس وقت سے میں یہی سن رہا ہوں کہ ہماری گندم اور آٹا سمگل ہو رہے ہیں۔ حکومتیں بدل گئیں، نہیں بدلی تو یہ پڑوسی ممالک کو غذائی اجزا کی سمگلنگ نہیں بدلی۔ آج کل تو ماشاءاللہ آرمی چیف اور حکومت ایک ہی پیج پر بتائے جاتے ہیں۔ رینجرز بھی فوج ہی کے ماتحت ہوتی ہے۔ افغانستان کے بارڈر پر ہو یا ایران کے بارڈر پر یا پھر ہندوستان کی سرحد پر یہ سمگلنگ کون کرواتا ہے اور انہیں پکڑ کر سزائیں کیوں نہیں دی جاتیں۔ جس بارڈر پر دیکھو یہی دھندہ جاری ہے۔ جناب اس کا کوئی تو علاج کریں۔
صوبوں کے درمیان بہت مرتبہ پابندیاں بھی لگیں لیکن پھر کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کے صوبے ہیں ہمیں سارے صوبوں کی غذائی ضروریات پوری کرنی ہے۔ بالکل ٹھیک سو دفعہ کریں۔ ہم نے تو ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک گندم کی نقل و حرکت پر پابندی لگا کر دیکھ لی مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا پٹھان اور بلوچ ہمارے بھائی ہیں وہ جو مانگیں حاضر ہیں لیکن ان کے آگے بارڈر کے پار تو کچھ نہیں جانا چاہئے۔
آٹے کی مہنگائی بارے بڑی داستانیں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ باہر سے گندم منگوانے کے آرڈر ہونے تھے جب پنجاب کے وزیر سمیع اللہ صاحب کو ہٹایا گیا۔ اب باہر گندم مہنگی ہے کراچی کے سیٹھ اور امپورٹر مہنگی گندم منگوا کر جو 1700 روپے سے اوپر پڑے گی۔ 1450میں کیوں بیچیں۔ حکومت کا گندم خریدنے کا نظام بھی کسانوں کے لئے تکلیف دہ ہے کبھی بار دانہ نہیں ملتا، کبھی باری نہیں آتی۔ پھر چیک ملتا ہے تویہ کئی کئی ہفتے بعد کیش ہوتا ہے۔ کٹوتی الگ کی جاتی ہے جبکہ باہر سے آنے والے بیوپاری 100 پچاس فی من زیادہ بھی دیتے ہیں اور نقد قیمت بھی ادا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا ٹارگٹ پورا نہیں ہو سکا۔ گزشتہ سال تو حکومت نے سرکاری سٹوروں میں سے گندم نکال کر ملوں کو مقررہ نرخ پر سپلائی کر دی۔ اس سال ابھی سے کہا جا رہا ہے کہ 10 سے 15 لاکھ ٹن گندم منگوانی پڑے گی۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ ہوتا نہیں اب اجازت ملی ہے تو کوئی سیٹھ یا ایکسپورٹر پیسہ لگانے کو تیار نہیں۔ مہنگی گندم منگوا کر 1450 روپے سرکاری ریٹ پر کون فلور ملوں کو دے۔ اس سال فلور ملوں کو بھی اپنے طور پر گندم خریدنے کی اجازت نہیں دی گئی ورنہ سرکاری کوٹہ نہ ملے یا دیر سے ملے تو وہ اپنی خرید کردہ گندم سے بھی آٹا بنا لیتے تھے۔ جگہ جگہ چھاپے مارے گئے اور ملوں والے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سوائے اس گندم کے جو ہمیں سرکاری طور پر 1450 روپے میں ملتی ہے ہمارے پاس کچھ نہیں، ہو سکتا ہے وہ غلط کہہ رہے ہوں لیکن جو بھی ہو گا 1450 روپے من والی گندم تو نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا یہی ہے کہ بازار سے 1700 روپے من خرید کر 1450 روپے من والی گندم کی طرح 860 روپے کا تھیلا نہیں دے سکتے اور آٹا ہے کہ روز بروز مہنگا ہوتا جا رہا ہے، پرائیویٹ سیکٹر میں تویہ کوئی گندم منگوائے گا نہیں جب تک اس کو یقین نہ دلایا جائے کہ اس کی گندم سرکاری ریٹ میں 1700روپے فی من خرید لی جائے گی اس لئے بہتر ہو گا پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن کی طرح حکومت خود امپورٹ کرے۔ انٹرنیشنل ٹینڈر منگوائے اور جہاں سے قیمت کم ملے وہاں سے منگوا کر سال بھر کی کمی دور کرے اور حکومت سبسڈی دے کر اسے فلور ملوں کو 1450 روپے پر ہی دے صرف اسی شکل میں 860 روپے میں آٹے کا تھیلا مل سکتا ہے دوسرا کوئی طریقہ موجود نہیں۔
بزدار صاحب شہباز شریف تو آپ کی مخالف جماعت میں ہیں لیکن چودھری پرویز الٰہی تو تحریک انصاف کی حلیف جماعت ق لیگ کی طرف سے پنجاب کے سپیکر ہیں وہ بہترین انتظامی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان سے کبھی کبھار آپ کی ملاقات کی خبر تو آ جاتی ہے لیکن آپ گورنر چودھری سرور اور سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ مل کر کیوں نہیں بیٹھتے۔ میں نے چودھری پرویز الٰہی کا ذکر اس لئے کیا کہ لاہور کے اکثر تاجر، صنعت کار، دکاندار، منڈیوں کے کھڑپینچ 35,30 سال سے مسلم لیگ (ن) کے دائرہ اثر میں تھے۔ میں کسی شخص کا نام لینا نہیں چاہتا نہ مجھے کسی کی ایڈوائزری سے دشمنی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مال روڈ ٹریڈر ایسوسی ایشن ہو، اکبری منڈی ہو، سبزی منڈی ہو، فروٹ مارکیٹ ہو۔ ان کے چودھریوں سے جتنا رابطہ نوازشریف، شہباز شریف اور پھر پرویز الٰہی کا تھا آپ کا بہرحال نہیں ہے۔ ان چودھریوں سے مل کر ہی آپ سبزیوں اور پھلوں کے ریٹ پر قابو پا سکتے ہیں۔
جناب اب تو عالم یہ ہے کہ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والا اور عمران خان کا پرستار بھی بازار میں چیزوں کے بھاﺅ سن کر اپنا سر ندامت سے جھکا لیتا ہے۔ حالانکہ اس میں بیچارے عمران خان کا کیا قصور؟ آپ صوبے کے بااختیار وزیراعلیٰ ہیں۔ یہاں تو آپ کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی یا پھر آپ کی ٹیم اتنی صلاحیت نہیں رکھتی کہ مارکیٹوں کے چودھریوں کو قابو کر سکے۔ کچھ ان کی سنیں کچھ اپنی سنائیں اور کمپرومائز کر کے ایسے ریٹ نکالیں جو قابل عمل ہوں۔ یوٹیلیٹی سٹورز پاکستان میں کتنے ہیں۔ صرف وہاں 880 روپے کا آٹا ملتا ہے۔ ہر شخص یوٹیلٹی سٹور پر جا بھی نہیں سکتا۔ اس لئے مارکیٹ اکانومی کے اصولوں کے تحت کوئی فارمولا بنانا پڑے گا۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کام کو جن لوگوں کے بھی آپ نے سپرد کیا ہوا ہے ان کے بجائے کوئی نئے چہرے لائیں۔ لاہور کا ایک خاص مزاج ہے۔ دید لحاظ اور آنکھ کی شرم یہاں سب سے زیادہ کاﺅنٹ کرتی ہے۔ ہر محاذ پر زبردستی نہیں کی جا سکتی۔ ہر کام کو قابل عمل بنانا پڑتا ہے۔ ایوب خان سے لے کر آج تک ایک اخبار نویس کی حیثیت سے میں نے عام آدمی سے لے کر سربراہ ریاست یا صوبہ تک بات چیت کی ہے۔ چودھری پرویزالٰہی سے کہیں کہ لاہور میں تاجروں کی اور مارکیٹوں کے چودھریوں کی فہرست بنائیں اور انہیں چائے پر بلائیں۔ آپ خود ساتھ بیٹھے ہوں، گورنر صاحب کو بھی بٹھا لیں مل مالکان بھی ہوں۔ تھوک کے بیوپاری بھی، پرچون کے دکانداروں کی نمائندگی بھی ہو، ضلعی افسر بھی ہو، جن کے ذمہ قیمتوں کی دیکھ بھال ہے۔ مجسٹریٹوں کی نمائندگی بھی ہو، کاش اس وقت بلدیاتی ادارے ہوتے ،نہ جانے یہ مسئلہ کہاں پھنسا ہوا ہے۔ کبھی اس پر بھی روشنی ڈالیں۔ بلدیاتی نظام میں گلی گلی منتخب عوامی نمائندہ ہوتا تھا، آپ سارا کام تھانوں اورپولیس والوں سے نہیں لے سکتے۔
قصہ مختصر جناب میری بیوی ہر ماہ کی خریداری کی لسٹ مجھے دکھاتی ہے اور روزانہ خریداری کے ریٹ بھی بتاتی ہے۔ آپ خواہ کتنی محنت سے کام کر لیں جب تک 1240 کے آٹے کے تھیلے کو 860 پر نہیں لائیں گے حکومت آگے نہیں چلے گی کیونکہ آٹا اور روٹی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے پھر سبزی کے ریٹ سن کر کمزور دل کے لوگوں کو تو اختلاج ہونے لگتا ہے۔ کوئی چیز 150,100 روپے سے کم ہے ہی نہیں۔ کیا اس طرح کی حکومت کو لوگ زیادہ دیر برداشت کریں گے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved