تازہ تر ین

”ملازوچ سے مودی تک“

عارف بہار
گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج محصور کشمیریوں کے ساتھ بوسنیا کی تاریخ دہرا سکتی ہے ۔عالمی برادری کو ایسے کسی واقعے کو دہرانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے‘۔وزیر اعظم نے یہ ٹویٹ بوسنیا کے شہر سر برینیکا میں سرب فوج اور غنڈوں کے ہاتھوں آٹھ ہزار مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کے پچیس سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا ۔اس واقعہ میں درندگی کو ایک نیا نام اور مفہوم ملا تھا ۔نفرت سے بھرے ہوئے غنڈوں نے ان مسلمانوں پر ہر ظلم ڈھایا تھا اور پھر ان لاشوں کو گڑھوں میں پھینک دیا گیا تھا بلکہ تڑپتے ہوئے زندہ انسانوں پر مٹی ڈال دی گئی تھی ۔دنیا نے جس بے بسی اور بے حسی کے ساتھ اس ظلم کا نظارہ کیا تھا وہ بھی ایک شرمناک داستان ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اسی واقعے کی پچیسویں برسی کے موقع کو موجودہ کشمیر کے حالات سے جوڑا ہے۔ عمران خان واحد مسلمان عالمی راہنما ہیں جنہوںنے اس وقت بوسنیا میں ہونے والے اس ظلم کو لوح حافظہ پر دوبارہ تازہ کرکے دنیا کو یاد دلایا کہ ان کی ناک کے نیچے مسلمانوں کی نہتی آبادیوں پر کیا کیا گزرتی رہی ہے ۔بطور مجموعی دنیا اس دن کو فراموش کر چکی ہے اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ظلم کا شکار ہونے والی آبادی مسلمان تھی اور انسانیت کا دامن تار تار کرنے والے سرب غیر مسلم تھے ۔دنیا بہت سے مسائل میں اسی پیمانے میں پھنس کر رہ گئی ہے ۔ ظالم اور مظلوم مسلمان کے لئے ایک معیار اور غیر مسلم مظلوم اور ظالم کے لئے قطعی الگ پیمانہ ہے ۔یہ تضادات عالمی اور تہذیبی سطح پر پائے جانے والے بحران کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ عمران خان نے سربرینیکا کی خون آشام تاریخ کو ہی یاد نہیں کیا بلکہ عالمی قوتوں کی منافقانہ روش کی یاد بھی دلائی اور انہوں نے بجا طور پر یہ توجہ دلائی کہ اب کسی اور مسلمان علاقے اور آبادی کے معاملے میں یہ منافقانہ خاموشی اختیار نہیں ہونی چاہئے ۔
بلاشبہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جو حالات ہیں وہ کسی بڑے انسانی المیے کا رخ اختیار کرسکتے ہیں ۔بھارت نے پانچ اگست 2019ءکے بعد پوری وادی کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کی ریہرسل کرکے یہاں کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے ۔بھارتی فوج کے بے رحمی سے استعمال کرکے آبادی کو مکمل بے یار ومددگار بنادیا ہے ۔ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال کر گلی محلے کی سطح پر لیڈر شپ کا بحران پیدا کر دیا گیا اور اب بھارتی فوج آپریشنوں کے نام پر ٹین ایجر لڑکوں کو مار کر بہادری کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے ۔یہ حالات کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں ۔پانچ اگست کے بعد کشمیر پر گرفت سخت کرنے کی کوششوں پر دنیا نے کھلے بندوں ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا ۔ایسا بھی نہیں کہ بھارت ہر قسم کے دباﺅ سے آزاد رہا مگر عوامی سطح پر وہ دباﺅ نظر نہیں آیا ۔امریکہ ،یورپ، چین سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں نے کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیاں کم کرنے اور انٹرنیٹ بحال کرنے کے لئے درپردہ دباﺅ جاری رکھا ۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی آزادی¿ اظہار پر پابندیوں کے خلاف کسی حد تک آواز بلند کی جس کی وجہ سے بھارت ان پابندیوں میں نرمی کرنے پر مجبور ہوا مگر پابندیوں میں نرمی عام کشمیری کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا مسئلہ پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی مخصوص صورت حال ہے جس میں آنے والے کئی حادثات اور واقعات پنہاں ہیں ۔ایک سال کی پیہم کوششوں کے بعدجس آبادی کو بھارت نے اپنی مٹھی میں بند کرنے کا تجربہ حاصل کرلیا ہے مٹھی کو مزید دبا کر وہ اس آبادی کو دم گھٹ کر فنا کے گھاٹ بھی اتار سکتا ہے اور یہی خوف اور خدشہ عمران خان کے ٹویٹ میں جھلکتا ہے ۔بوسنیا کے مسلمانوں کے بہت سے المیوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اس کی قربت اور ہمسائیگی میں کوئی پاکستان نہیں تھا اورکوئی پاکستان سربرینیکا کی آبادی کے ساتھ عہدوپیماں اور ربط وتعلق کے رشتوں میں بندھا نہیں تھا۔وہ یورپ کے قلب میں گھری اور پھنسی ہوئی آبادی تھی جو ہمسایوں کو ناگوار تھی اورجس کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا ۔اس صورت حال کا فائدہ اُٹھا کر سربوں نے اس وقت کے” سفیدفام مودی“ ملازوچ کی سربراہی میں بوسنیا کے مسلمانوں پر ظلم وجبر کی انتہا کر دی ۔
آج پچیس سال بعدکشمیر نریندر مودی جیسے سیاہ فام ”ملازوچ “ کے نرغے میں ہے ۔ دونوں میں فرق صرف رنگ اور چمڑی کا ہے ۔حقیقت میں دونوں کا مائنڈ سیٹ اور طریقہ کار ایک ہے ۔دونوں کے ذہن نفرت سے بھرے ہوئے ہیں ۔نسل پرستی اور مذہبی جنونیت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔دونوں دنیا کو اپنے منجمد اور بند تصورات کی خوردبین سے دیکھ رہے ہیں اور جب ذہن اس قدر تنگ ہوجائیں توپھر المناک اور روح فرسا واقعات جنم لیتے ہیں۔حیرت تو یہ ہے پچیس برس بعد بھی دنیا بے حسی کے اسی” اعلیٰ“ مقام اور درجے پر فائز ہے۔اس سب کے باوجود کشمیر میں سربرینیکا کی تاریخ نہیں دہرانی جانی چاہئے کیونکہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ بہت سے عہدوپیماں میں بندھا ہے ۔اس کے بہترین ہتھیار بقول چوہدری شجاعت حسین شب برات کےلئے جمع اور تیار نہیں کئے گئے ۔پاکستان کو ایک لکیر کھینچنا ہوگی اگر بھارت نے طاقت کے ذریعے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی تو وہ ایک فریق کے طور پر اپنا کردار صرف الرٹ جاری کرنے اور ٹویٹر کے ذریعے خطرے کی گھنٹیاں بجانے تک محدود نہیں رکھے گا۔سربرینیکا کی تاریخ آج کشمیر کے کسی علاقے میں دہرائی جا سکتی ہے تو اس کا اگلا ہدف پاکستان کے شہر ودیہات بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ جو مائنڈ سیٹ بھارت کو چمٹ گیا ہے اس کی سوچ اور فکر اس کے دکھ اور ملال بہت پرانے اور تاریخ میں دور تک جڑیں رکھتے ہیں۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved