تازہ تر ین

خواتین پر گھریلو تشدد ‘ لمحہ فکریہ

افشین گل
صنف نازک پر گھریلو تشدد اور ظلم و ستم ہمارے معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے۔ اگرچہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلئے بہت سے اقدامات کئے گئے اور قوانین بنائے گئے ، لیکن اس سب کے باوجود پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ان گھمبیر حالات میں حکومت محض وومن پروٹیکشن بیورو بنا کر اپنی ذمہ داری سے عہد ہ برآ نہیں ہوسکتی۔ ہر صبح ظلم کی ایک نئی کہانی سننے کو ملتی ہے، حوا کی بیٹی کہیں درندوں کے ہاتھوں تشدد، کہیں ظلم و ستم کا شکار، تو کہیں اس پر ناجائز تعلقات کے الزام عائد کرکے ایسے انداز میں قتل کردیا جاتا ہے جس سے روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ ملک کے قصبوں اور دیہی علاقوں میں تو غیرت کے نام پر قتل معمول بن چکا ہے جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 1400 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً پانچ ہزار خواتین، نام نہاد غیرت کی بھینٹ چڑھ گئیں جبکہ عزت و غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے مقابلے مردوں کے قتل کا تناسب صرف ایک فیصد ہے۔ خواتین کے قتل کے 30فیصد واقعات میںان کے اپنے شوہر ملوث ہوتے ہیں ،وہ شوہر جنہیں وہ مجازی خدا مانتی ہیں۔ خواتین کے بیس فیصد قتل عام کے پیچھے ان کے باپ اور بھائیوں کا ہا تھ ہوتا ہے۔
گھر چار دیواری پر مشتمل سر زمین کا ایک ایسا پر سکون گوشہ ہے جو دن بھر کی تھکان اور بے ہنگم مصروفیات کے بعد انسان کو سکون اور طمانیت کا احساس بخشتا ہے مگر بعض افراد ایسے ہیں جو سارا دن گھر سے باہر رہنے کے بعد جب گھر لوٹتے ہیں تو دن بھر کا جمع غصہ اور مزاج کی چڑچڑاہٹ صنف نازک کو مار پیٹ کر اتار تے ہیں۔چونکہ مردوں کو برتری حاصل ہے کہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہوتے ہیں تو عورت کو اپنا زیر دست سمجھتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں کاروکاری یعنی غیرت کے نام پر قتل کردینا،شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے تشدد، تیزاب پھینک دینا یا گھریلو اختلافات میں عورت کو جلا دینا تشدد کی عام پائی جانے والی اقسام ہیں۔بعض اوقات تو روز مرہ گھریلو تشدد تشدد عورتوں کو خودکشی جیسے سنگین راستے کو اپنانے پر بھی مجبور کردیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں خواتین پر تشدد کے واقعات تشویشناک حد تک رونما ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2011ءسے 2019ءتک خواتین پر تشدد سے متعلق 60 ہزار سے زائد کیس رجسٹرڈ کئے گئے، اس عرصہ کے دوران سب سے زیادہ گھریلو تشدد کے 18 ہزار 469 واقعات سامنے آئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین پر تشدد کے 2011ءمیں 8 ہزار 418، 2012ءمیں 8 ہزار 845، 2013ءمیں 7 ہزار 573، 2014ءمیں 7 ہزار 741، 2015ءمیں 6 ہزار 527، 2016ءمیں 8 ہزار 13 ، 2017ءکے دوران 4 ہزار 66 ، 2018ءمیں 5ہزار 541اور 2019ءمیں 5ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔ ان شکایات میں خواتین پر گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، جلانا، جنسی زیادتی، کام کرنے کی جگہوں پر ہراساں کرنے سمیت دیگر جرائم شامل ہیں۔
اس ساری صورتحال کو دیکھ کر تصور کریں ہم کس طرح کے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کیسی غیرت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے، اور جسے حرمت اللہ تعالیٰ نے عطاءکی ہو اسے کیونکر قتل کردیا جاتا ہے؟ یہ کیسی درندگی ہے اور کیسی بے حسی کا عالم ہے، وہ جو اپنے والدین کے لیے رحمت ہے اسے اس کااپنا باپ قتل کر دیتا ہے تو کہیں وہ بھائی جو بہنوں کا محافظ کہلاتا ہے ہمیشہ کی نیند سلا دیتا ہے۔ کہیں کوئی کسی کو رشتہ نہ ملنے پر پستول کی گولی کی نذر کردیتا ہے کہ وہ میری نہیں تو کسی کی بھی نہیں۔ اور کہیں جائیداد میں وراثت، کہیں ذاتی عناد کی وجہ سے ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر غیرت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔ اس سے زیادہ تلخ المیہ کیا ہوگا کہ اس تشدد اور ذلت کی ابتدا گھر کے افراد ہی کے منفی رویوں سے ہوتی ہے۔ عورت جو ماں ہے ، بہن ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے ، اس کے وجود کو پرانے اور بے بنیاد نظریات کی بنا پر ظلم کانشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ عورتوں کی مار پیٹ گالی گلوچ ، بے جا پابندیاں اور قیود ،جذباتی اور ذہنی دباو¿ بنیادی ضروریات کی غیر فراہمی، لڑائی جھگڑے، بیٹیوں کی زبردستی شادی، گھریلو تشدد کے زمرے میں آتی ہیں۔ صد افسوس کہ ایسا گھریلو تشدد ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے۔محدود اور جارحیت پسند ذہنیت رکھنے والے انتہا پسند لوگ ایسا تشدد سرعام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ان کا ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ عو رت حوا کی بیٹی ہے جو کہ انسا نی نسل بڑ ھا نے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن روز بروز خواتین پر گھریلو تشدد کے ایسے واقعات کا رونما ہونا قانون کی کمزور گرفت کی بھی علامت ہے۔جبکہ کچھ ظالموں کو بچانے کے لیے تو پولیس اپنا کردار ادا کرتی ہے، اور کچھ عدالتی نظام میں کمزوریوں کی بناہ پر رہا ہوجاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے گھنا¶نے واقعات کی روک تھام کےلئے مجرموں کو سرعام عبرتناک سزائیں دی جائیں ، جب ایک مجرم کو سزا نہیں ملتی تو اسے شہ مل جاتی ہے اور وہ پھر ظلم و بربریت کرتاہے۔ عدالتی سسٹم کو مضبوط اور اس طرح کے سخت قوانین بنائے جائیں کہ کوئی بھی خواتین پر ظلم و جبر روا نہ رکھ سکے ۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved