تازہ تر ین

” روٹی“اور الخدمت فاﺅنڈیشن کی نیک کمائیاں

ریاض صحافی
جماعت اسلامی کی ”الخدمت فاﺅنڈیشن“ نے مزدوروں، محنت کشوں اور غریبوں کو سستی روٹی فراہم کرنے کیلئے نیک کام کا آغاز کر رکھا ہے، اس مقصد کیلئے لاہور شہر میں ”سستے تندور“ بنائے جا رہے ہیں جہاں 10 روپے میں 3 روٹیاں دستیاب ہیں۔ بازار میں اس وقت روٹی کی قیمت 8 روپے ہے۔10 روپے میں 3 روٹیوں کا ملنا غریب پروری کی اعلیٰ مثال ہے۔ اسی طرح الخدمت فاﺅنڈیشن نے کراچی سمیت کئی شہروں میں الخدمت دسترخوان بھی شروع کر رکھے ہیں جہاں ہزاروں غریبوں کو دو وقت کا کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو سستی روٹی فراہم کرنے کیلئے منصوبے شروع کئے تھے جن پر اربوں روپے لاگت آئی۔ مگر ان جماعتوں کی روایتی لوٹ کھسوٹ کے باعث یہ منصوبے کامیاب نہ ہوسکے۔ پیپلز پارٹی تو روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کے اعلان کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی یہ نعرہ نصف صدی سے اس جماعت کا بنیادی سلوگن ہے مگر عوام کے حالات جوں کے توں رہے۔
پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے تو سستی روٹی فراہم کرنے کیلئے ملک بھر میں روٹی پلانٹ بھی لگائے تھے ۔لاہور میں یہ روٹی پلانٹ گلبرگ تھری ریلوے لائن کے قریب اور مغلپورہ میں بنے تھے جنہیں چلانے کی ذمہ داری مشہور شاعر شہزاد احمد کو سونپی گئی تھی۔ ان پلانٹ سے تیار ہونیوالی روٹیوں کے پانچ پانچ پیکٹ ہوتے تھے۔ ایک پیکٹ غالباً ایک روپیہ میں ملتا تھا۔ اس وقت تندور پر روٹی کی قیمت 8 آنہ تھی یعنی ایک روپیہ میں 2 روٹیاں ملتی تھیں۔ ڈیڑھ دو برس بعد بھٹو کی فیاضی سے فیض یاب کرنے والا یہ منصوبہ نجانے کیوں بند کر دیا گیا۔ روٹی پلانٹوں کی مشینری کا کوئی اتا پتا نہیں کہ یہ ”اتفاق فاﺅنڈری“ کی بھٹی کی نذر ہوئی یا کسی دوسرے کباڑ خانے کو فروخت کی گئیں؟
بھٹو کی پیروی میں پنجاب کے خادم اعلیٰ شہبازشریف نے بھی اپنے دور اقتدار میں ”سستی روٹی“ کا منصوبہ شروع کیا جہاں پنجاب بھر کے تندوروں پر 2 روپے کی روٹی دستیاب تھی۔ تندور والوں کو سستا آٹا ضلعی انتظامیہ فراہم کرتی تھی۔ شریفوں کی حکومت نے آٹا فراہمی کیلئے منظور نظر فلور ملوں سے معاہدے کررکھے تھے اس منصوبے پر صرف ایک سال میں 30 ارب روپے جھونک دیئے گئے جن میں فلور ملوں کو 25 ارب روپے کی ادائیگیاں بینکوں سے قرض لیکر کی گئیں لوٹ کھسوٹ اور بھاری گھپلوں کے باعث خادم اعلیٰ کا یہ منصوبہ بھی بند کر دیا گیا۔
روٹی…. ہوا اور پانی کی طرح بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ ان کے بغیر انسان اور چرند پرند کی زندگی محفوظ نہیں۔ روٹی بارے ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے شاہکار ادب تخلق کیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھاکہ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں ”روٹی“
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
علامہ نے روٹی کے بجائے روزی کا لفظ استعمال کیا تھا۔
اسی طرح” روٹی“ کے موضوع پر پاک وہند میں کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں جن میں ہمارے فلم رائٹر ناصر ادیب کی فلم ”روٹی“ بھی شامل ہے۔ 1998ءمیں بننے والی اس فلم کے ڈائریکٹر محمد ادریس تھے جس میں گلوکار مسعود رانا کا روٹی بارے یہ گیت بھی شامل تھا۔
دنیا گول تے روٹی اے گول
توا کنالی وی گول……..
ہر انساں دے گل وچ پایا
توں روٹی دا ڈھول….
اس فلم میں انجمن‘ سلطان راہی اور مصطفی قریشی نے مرکزی کر دار ادا کئے جبکہ اداکار ظریف کا گایا گانا….
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
آج بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے ۔اسی طرح اداکار علاﺅالدین ایک پنجابی فلم میں بھوک سے نڈھال ہوکر اپنے اور اپنے ساتھیوں کیلئے اسی طرح اللہ سے روٹی مانگتے ہیں۔
”بھیج او ربا تھبا روٹیاں دا تے پتیلا دال دا“
بھارت میں ”روٹی“ کے موضوع پر جو فلمیں بنیں ان میں راجیش کھنہ کی ”روٹی“ اور منوج کمار کی ”روٹی کپڑا اور مکان“ بھی شامل ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ پذیرائی ڈائریکٹر محبوب خان کی فلم ”روٹی “کو ملی۔ اس کے اداکاراﺅں میں ستارہ دیوی‘ چندر موہن‘ شیخ مختار اور اختری بائی تھے۔ قیام پاکستان سے قبل 1944ءمیں بننے والی اس فلم میں کوڑے کے ڈھیر پر پھینکا بچا کچا کھانا انسان اور کتے کو کھاتے ایک ساتھ دکھایا گیا تھا۔ ای طرح کے مناظر آج بھی ہمارے ہاں اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
فلموں کے المیہ مناظر تو رہے ایک طرف…. حقیقی زندگی میں بھی بعض فلمی ستارے آخری زندگی میں ناداروں کی طرح بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔ جن میں ماضی کی نٹ کھٹ اداکار نیلو فر بھی شامل ہے۔ اقبال ٹاﺅن کے نواحی علاقہ میں ایک کمرہ کی باسی اس اداکارہ کو قریبی دربار کے بابا جی، دربار پرکی جانے والی نذر نیاز کا بھنڈارہ اور دال روٹی بھجواتے ہیں جس سے اس کی اور اس کی بیٹی کی پیٹ پوجا ہوتی ہے۔ کافی عرصہ قبل عیدالاضحی کے بعد الحمرا میں اپنے وقت کی اس چھیل چھبیلی اداکارہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے بے بسی اور دکھی دل کے ساتھ بتایا تھاکہ عید قربان پر بھی اسے ایک بوٹی بھی نصیب نہیں ہوئی۔ اس طرح ٹی وی اور تھیٹر کے مشہورڈرامہ ”عینک والا جن“ کی اداکارہ نصرت آرا (بل بتوڑی) کھانے کے حصول کیلئے اکثر داتا دربار کے لنگر خانہ کے باہر فقیروں اور ملنگوں کے ساتھ بیٹھی ہوتی تھی۔ روٹی…. روٹی پکارتی وہ دنیا سے کوچ کرگئی جبکہ سلطان راہی کے ساتھ سینکڑوں فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والا اداکار لاڈلہ کی موت بھی انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ہوئی۔ ایک سال قبل اس کی نعش گوالمنڈی کے فٹ پاتھ پر پائی گئی تھی۔
مارا ماری اور نفسا نفسی کے اس عہدِ پرسان میں جو ادارے دکھیارے اور لاچاروں کے دکھ دور کرنے کیلئے متحرک ہیں ان میں جماعت اسلامی کی الخدمت فاﺅنڈیشن کا نام نہایت نمایاں ہے۔ الخدمت فاﺅنڈیشن نے پس ماندہ علاقوں میں غریبوں کے علاج معالجہ کیلئے کئی ڈسپنسریاں اور ہسپتال بنائے ہیں۔ بے آسرا بچوں کی تعلیم کیلئے سکول قائم کئے ہیں۔ سندھ کے علاقہ تھر میں جہاں کی عورتیں پانی کے حصول کیلئے میلوں کا سفر کیا کرتی ہیں وہاں سینکڑوں جدید ہینڈپمپ اور کنویں بنوائے ہیں۔ اسی طرح الخدمت فاﺅنڈیشن قدرتی آفات کے موقع پر متاثرہ لوگوں کی ریلیف کیلئے سب سے آگے ہوتی ہے۔ سیلاب ہو‘ زلزلہ ہو یا کوئی اور مصیبت ‘اس کے رضا کار جان جوکھوں میں ڈالے عوامی خدمت پر مامور ہوتے ہیں۔ کرونا کی حالیہ جان لیوا وبا کے دوران انہوں نے خیبر سے کراچی تک گلی گلی اور قریہ قریہ جا کر متاثرین کی سب سے زیادہ دلجوئی کی ہے۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے خدمت خلق کا سلسلہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے مصری شاہ میں چند روز قبل ”سستے تندور“ کا افتتاح کیا۔ جہاں مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی لاہور کے امیر ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وباءسے دیہاڑی دار لوگ شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ آٹا، چینی، سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے ان کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں الخدمت فاﺅنڈیشن عوام کے دکھ دور کرنے میں مصروف ہے۔ سستے تندور کی افتتاحی تقریب میں الخدمت فاﺅنڈیشن لاہور کے صدر حافظ عبدالعزیز‘ حافظ عمران‘ محمد وقاص‘ارشد جاوید‘ احسن ظفر اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
عوام کے درد کی دوا کرنے کے باوجود جماعت اسلامی کو ووٹ کیوں نہیں ملتے یہ استفسار تحریک انصاف کے مقامی رہنما رانا نثار راٹھ نے امیر العظیم سے گزشتہ دنوں ایک تقریب میں کیا تو انہوں نے جواب دیا ۔ خلق خدا کی بھلائی کے یہ کام ہم اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کیلئے کر رہے ہیں۔ ہمیں کوئی دنیاوی لالچ نہیں۔ یہاں موجود پیپلز پارٹی کا ایک جیالا زاہد عباس گویا ہوا۔ جناب اب روایتی سیاسی موسم تبدیل ہورہا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی سماجی عوامی بھلائی کے کاموں کی معترف ہوچکی ہے میں بھی اب پیپلز پارٹی کے بجائے جماعت اسلامی کو ووٹ دوں گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے حمایتی بھی بڑی تعداد میں جماعت اسلامی میں شامل ہورہے ہیں امیر العظیم صاحب لگے رہیں اللہ بھلا کرے گا۔
(کالم نگار سماجی‘ ثقافتی اورسیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved