تازہ تر ین

فوج اور چھاو¿نی ……..(3)

جاوید کاہلوں
انگریزوں کے ہندوستان کوچھوڑنے کے وقت تک تقریباً دو ایسے سالانہ مواقع ہوتے تھے کہ جن میں اس وقت کی افواج کو حفظ ما تقدم کی خاطر سول انتظامیہ چیدہ چیدہ شہروں میں طلب کرتی تھی۔ ایک محرم الحرام کے پہلے دس روز اور دوسرے برسات کے موسم میں فلڈ ڈیوٹی۔ ان دو مواقع پر خاص حکم نامے اور ایس او پیز جاری ہوتے اور بعض علاقوںمیں ملٹری شمولیت کے ساتھ فلیگ مارچ بھی کئے جاتے تاکہ عامة الناس ”خبردار“ ہوجائیں۔ ان دو مواقع کے علاوہ اگر کسی نے فوجی وردی دیکھنی ہوتی تو اس کو کسی قریبی چھاو¿نی میں جاکر مستعد و سمارٹ یونٹ کوارٹر گارڈ پر نظر دوڑانا پڑتی جہاں پر چاک و چوبند گارڈ اپنی چمکیلی یونیفارمز میں جلوہ گر دکھائی دیتے۔ اس طرح سے کبھی کبھار نظر آنے والی فوجی یونیفارم کا اہلیان وطن کی نگاہ میں عزت و احترام سے وقار بلند رہتا۔ بلکہ قوم کے اٹھتے نوجوان ایسے سپوتوں کو دیکھ کر اور جنگوں میں ان کی دی گئی قربانیوں کو یاد کرکے بخوشی اپنے دفاعی اداروں میں شمولیت کرنے کو اپنی اولین ترجیح بناتے۔
جاری مہ و سال میں یہ احساسات کھوچکے ہیں یا پھر بوجوہ بیروزگاری کچھ کم ہوچکے ہیںتو میرے نزدیک اسکی ان گنت وجوہات میں سرفہرست فوجیوں کا عوام سے دن رات کا غیر ضروری اختلاط ہے۔ اب کیا محرم الحرام اور کہاں کی سالانہ فلڈ ڈیوٹی، کیا کوئی بھی قومی سطح کا کام ایسا ہے کہ جس میں فوجی وردی والا موجود نہیں، بلکہ آپ جب بھی ٹی وی کھولیں تو سامنے کوئی سویلین نظر آئے نہ آئے ،کوئی نہ کوئی فوجی ضرور نظر آجائیگا۔ آئیے مان لیتے ہیں کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گذر رہاہے۔ادارے خواہ وہ صوبائی ہوں یا قومی۔ کرپشن ،نااہلی ،بددیانتی اور کسی بھی جواب طلبی کے خوف سے خالی ہوچکے ہیں، لہٰذا ان حالات میں ان کو فوجی نظم و ضبط کی اشد ضرورت ہے۔ مگر ایسا فوجی تعاون فقط قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے (In Aid of Civil Power ) کے تحت مانگا جانا چاہیے،اور اس سے بھی بڑھ کر ایسا تعاون اور فوجی امداد ایک مختصر اور متعین محدود مدت کیلئے ہونا چاہیے ۔ ایسا تعاون اگر برسہا برس پر محیط ہوتا چلا جائیگا تو صاف ظاہر ہے کہ ایسے رویے سے ہمارے سول اداروں کی کوئی مدد نہیں ہوگی اور انکی استعداد کار بڑھنے کی بجائے گھٹتی ہی چلی جائیگی، اور اس سے صوبائی یا قومی سطح پر فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہی ہوگا۔
اس بات کو سمجھنے کیلئے ہم دو مثالوں پر اکتفا کرینگے۔پہلی امن و امان کی خاطر شہر کراچی میں رینجرز اور فوج کی تعیناتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بدنام زمانہ الطاف حسین تھا یا عزیربلوچ ،وہ زرداری کے حواری تھے یا ایم کیو ایم کے بھتہ خور، ایسے لوگوں نے عروس البلاد کو آگ و خون میں نہلاکررکھ دیاتھا، پولیس نہ صرف بے بس بلکہ مجرموں کی پشت پناہی میں لگ چکی تھی کہ سندھ کی سیاست اور جرم ایک ہوگئے تھے۔ ان حالات میں فوج اور رینجرز کے ہاتھوں آپریشن ناگزیر ہوچکا تھا، مگر اب ایسے آپریشن کو کھینچتے ہی چلے جانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ، دوسری مثال ہم ملک بھر میں سڑکوں پر لگے ایسے ناکوں کی دینگے کہ جن میں فوجی بھائی بھی ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔گوکہ انکے ساتھ پولیس کے چند اہلکار بھی ہوتے ہیں۔ مانا کہ آرمی پبلک سکول پشاور پر ہوئے دہشتگردی کے حملے کے بعد ایسی کارروائیاں اور عام شاہراہوں پر سکیورٹی ناکے ضروری تھے، مگر حالات کے کنٹرول میں آنے اور افواج پاکستان کی بے مثل قربانیوں کے بعد اب امن و امان بہتر ہوچکا ہے، مگر یہ ناکے ہیں کہ بالخصوص چھاو¿نیوں میں بدستور جاری ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں ہر چھاو¿نی کے علاقے میں سکیورٹی اور امن و امان کیلئے مقامی پولیس کے تھانے ہی ہوتے ہیں، ہاں مگر ضرورت پڑنے پر گیرثرن کی انٹیلی جنس اور ملٹری پولیس بھی سول پولیس کی مدد گاری کرتے رہتے ہیں، مگر بنیادی ذمے داری بہر حال سول پولیس ہی کی ہوتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کا از سر نو جائزہ لیکر ناکوں سے فوجیوں کو واپس بیرکوں میں بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے پیشہ وارانہ تربیتی امور میں مصروف ہوں۔ اسی طرح سے سندھ اور کراچی کے متعلق بھی ایسے ہی تازہ فیصلے کیے جائیں کہ تمام سول حکومتی ادارے اپنی اپنی ذمے داریاں سنبھالیں، ان کی استعداد کار مضبوط کرنے کیلئے اگر مزید دوچار مہینے اور بھی لگ جائیں تو قومی ضرورت کے تحت اس میں حرج نہیں ہوناچاہیے، مگر ایسا سلسلہ لامتناہی کسی طور بھی جاری نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ رینجرز اور افواج کوئی پولیس نہیں ہوتے اور نہ ہی انکا ایسا استعمال قوم کیلئے کوئی نیک شگون ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ پولیس کا امن و امان ہے یا محکمہ تعلیم کے گھوسٹ سکول اور اساتذہ کی حاضری ، وہ محکمہ صحت کاکرونا وبا ہے یا انکے بیمار ہیلتھ یونٹس ، وہ محکمہ انہار کے سیلاب ہوں یا انکے بھل صفائی کا کام ، ایف بی آر کی ٹیکس ریکوری ہے یا محکمہ مال کا ریونیو، وہ محکمہ زراعت کے ٹڈی دل ہوں یا محکمہ خوراک کے گودام و وئیرہاﺅسز، وہ ریلوے ہے یا پی آئی اے ، وہ سٹیل ملہے یا پورٹ ٹرسٹ وغیرہ وغیرہ، تمام ادارے بیٹھ چکے ہیں اور منتظر ہیں کہ کوئی اوپر سے اترے اور انہیں سیدھا کرے۔ ایک انتہائی منظم اور پیشہ وارانہ ادارہ ہونے کے ناطے ایسے بگڑے ہوو¿ں کو سیدھا کرنے کیلئے آخری اسپرو کی گولی فوج ہی بچتی ہے۔سو جب تک یہ ادارہ ہے تمام دوسرے ادارے اپنا کام چھوڑ بیٹھے ہیں، مگر یہ اسپرو کوئی پکا علاج نہیں ہوتا، فقط وقتی ریلیف بہم پہنچاسکتی ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ وہ ضرورت پڑنے پر قانونی دائرے میں رہتے ہوئے فقط بلائے جانے پر ہی ایک سرجیکل آپریشن کریں اور ایک سے تین مہینے کے اندر اندر اپنی بیرکوں میں واپس لوٹ جائیں، کیونکہ میرے نزدیک افواج کے ایسے رکھ رکھاو¿ اور بیرکوں میں عوام کی نظروں سے دور رہنے ہی میں وطن عزیز کی بھلائی ہوگی۔
بات چونکہ پاکستان اور اسکی سلامتی کی ہے اسلئے ضروری ہے کہ اب وقت تمام اداروں کی تعمیر نو کا ہو۔ ہمارے سول ادارے تخریب وبددیانتی میں اٹے پڑے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ واحد بچا رہنے والا ادارہ یعنی کہ افواج صرف طلب کئے جانے پر بھی سوچ سمجھ کر فقط محدود مدت کیلئے سول اداروں کو ان کی تعمیر نو میں مدد دیں اور تیس سے نوے دنوں کے اندر واپس اپنی چھاو¿نیوں میں لوٹ جائیں۔ کیا ابدالآباد سے چھاو¿نیوں میں رہنے والوں کی یہی تابندہ روایات نہیں تھیں اور شہروں سے دور چھاو¿نیاں اسی اختلاط کو کم رکھنے کی وجہ سے ہی تعمیر نہیں کی جاتی تھیں۔ ( ختم شد)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved