تازہ تر ین

کراچی کے مسائل حل کریں

وزیر احمد جوگیزئی
قانون سازی ایک مشکل عمل ہے اس کے لیے قانون بنانے والے کی صلاحیت ،اس کی دور بینی ،سمجھ بوجھ، زبان پر عبور اور بہت سارے دیگر لوازمات بھی ہیں ،جوکہ قانون ساز میں لازمی ہو نے چاہئیں۔ ان تمام خصوصیات کے بغیر کوئی بھی شخص اچھا قانون ساز بن ہی نہیں سکتا ۔قانون بنانے کے لیے ایک وقت درکار ہو تا ہے ،جس میں کہ جلدی کا کو ئی نام و نشان ہی نہ ہو یعنی کہ جلد بازی میں قانون سازی نہیں ہو نی چاہیے ۔اس کے لیے جتنا وقت دیا جائے گا اتنا ہی کم ہو گا ۔پہلے کسی بھی قانون کے مسودے پر پارلیمان میں بحث کی جاتی ہے ۔اس کے بعد یہ مجوزہ قانون پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جاتا ہے جس میں اس قانون پر مزید اور سیر حاصل بحث کی جاتی ہے اور اس کے بعد اس مجوزہ قانون پر عوامی رائے جاننے کے لیے اسے پبلک کیا جاتا ہے اور اچھا خاصا وقت دیا جاتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال اور اخبارات میں اشتہارات دیے جاتے ہیں ۔ پھر اس کی روشنی میں عوام اپنی رائے بناتے ہیں اور عوامی رائے تشکیل پاتی ہے اور پھر ان آرا کو یکجا کیا جاتا ہے اور ہاﺅس کی منشا سے قانون بن جاتا ہے ۔یقینا اس تمام پراسیس میں قانون کو بنتے بنتے ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے ۔قانون ساز اسمبلی بنتی ہی اسی مقصد کے لیے ہے ۔قانون ساز اسمبلی اور اس کے ممبران کا کام ہی قانون سازی کرنا ہو تا ہے ،ترقیاتی فنڈز لینا نہیں ۔اسمبلی کے ممبران کو ترقیاتی فنڈز دینے کا یہ سلسلہ سابق صدر ضیاالحق نے متعارف کروایا تھا تاکہ یہ فنڈز ممبران کو دیے جا ئیں اور ان کی توجہ بس انھی معاملات میں پڑی رہے اور وہ قانون سازی پر اتنی توجہ نہ دے سکیں ۔کئی لوگوں نے ان فنڈز کی مخالفت کی لیکن آج تک کو ئی بھی ممبر حکومت سے یہ فنڈ لینے سے انکار کرنے کی ہمت نہیں کر سکا ہے ۔ انھی وجوہات کی بنیاد پر ملک میں قانون سازی کے عمل میں وہ جان نہیں رہی جو کہ ہو نی چاہیے تھی ۔
اگر ملک میں صحیح طریقے سے قانون کی حکمرانی ہو اور حکمران قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہوں توکوئی فیصلہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر نہ کیا جائے ۔ہمارے ملک میں جمہوریت کی جدو جہد تو آج بھی جاری ہے لیکن وہ جمہوری سپیس پیدا نہیں ہو سکی جس کی ضرورت ہے ۔ اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں کے اجلاس ہوتے ہیںاور گزشتہ دنوں جس ما ر دھاڑ کے انداز میں قانون سازی کی گئی ہے اس طریقے سے تو قانون سازی کرنے کا کو ئی فائدہ نہیں ہے ۔اس طرح تو قانون کی منشا بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ہر قانون کا مطلب ہوتا ہے اور ہر قانون کی ایک منشا ہو تی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آخر قانون بنایا کس مقصد کے لیے جا رہا ہے ؟اس قانون کو بنانے والے اس قانون سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ،عوام کو اس قانون کا کیا فائدہ ہے ؟ جب تک کہ عوام کو قانون کا مقصد پتہ نہ ہو تب تک قانون کی حکمرانی ممکن نہیں ہے ۔اور اب تو ممبران صاحبان کی تربیت کے لیے ایک legislative developmentانسٹیٹیوٹ بھی بنا ہوا ہے جس پر بہت محنت کی گئی ہے اور بہت کام بھی ہو ا ہے ۔ممبران کی تربیت اور آگاہی اس ادارے کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے ۔امریکہ جیسے ممالک میںایوان نمائندگان کے الیکشن ہر دو سال کے بعد ہوتے ہیں ۔اور جو بھی ممبران منتخب ہو تے ہیں ان کی تربیت اور کپیسٹی بلڈنگ کی جاتی ہے ۔ان کو بتایا جاتا ہے کہ حکومتی اختیارات کہاں تک ہیں، حکومت کس حد تک شہریوں سے ٹیکس لے سکتی ہے یعنی کہ حکومت کے اختیارات کا ممبران کو بتایا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں لا تعداد مسائل ہیں۔ یورپ میں میونسپل واٹر کو 8سے 9 مرتبہ ری سائیکل کیا جاتا ہے اور استعمال کیا جاتا ہے یعنی کہ ایک ہی پانی کو متعدد مرتبہ استعمال کیا جاتا ہے۔جبکہ ہم لو گ ہیں جو کہ گندا پانی دریاﺅں اور سمندر میں ڈال رہے ہیں ۔قدرت نے ہمیں بہت سارے وسائل اور قدرتی نعمتیں دی ہیں جن سے فائدہ اٹھانا حکومت کا فرض ہے ۔لیکن ہماری حکومتیں 70سال سے اس کام میں ناکام ہو تی آئی ہیں ۔
آج اگر ہم صرف کراچی شہر کے مسائل پر ہی نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ کراچی دو پارٹیوں میں تقسیم ہے اور بربادی کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور ایک دوسرے کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے ۔کراچی کا نقصان پورے ملک کا نقصان ہے ۔اس کھینچا تانی سے نہ وفاقی حکومت نہ صوبائی اور نہ ہی شہری حکومت کو کوئی فائدہ ہو گا ۔یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑےں اور کراچی کے مسائل حل کریں ۔کراچی پاکستان کااہم ترین شہر ہے ۔کراچی آباد ہو گا صاف ستھرا ہو گا تو ہی پاکستان بھی ترقی کرے گا ۔سیاسی پا رٹیوں کا کراچی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔میں کراچی میں لگ بھگ 27سال رہا ہوں اور وہ دور ملک میں ون یونٹ کا دور تھا۔ کراچی کمشنر کے حوالے تھا اور شہر میں ایک ڈی سی تھا اور اس کے علاقے میں لسبیلہ بھی شامل تھا اور شہر میں نہ بجلی جاتی تھی اور نہ ہی صفائی کا کو ئی مسئلہ تھا ۔بارش بھی تنگ نہیں کرتی تھی ۔نہ رش کا مسئلہ تھا ،شہر میں صنعتیں لگ رہی تھیں اور ملک بھر سے لو گ کراچی میں آباد ہو رہے تھے ۔کراچی کا موسم بھی بہترین تھا نہ گرمی میں بہت زیادہ گرمی اور نہ ہی سردی میں بہت زیادہ سردی ہو تی تھی ۔گیس بھی ہر گھر میں پہنچ رہی تھی ۔ہلکی پھلکی چوریاں ہوتی تھیں لیکن ڈاکے نہیں پڑتے تھے لوگ گیٹ بند نہیں کرتے تھے ۔او ر پھر شہر میں سیاسی مقاصد کے لیے ایم کیو ایم کا قیام کیا گیا اور ساتھ ہی کراچی میں فساد شروع ہو گیا اور آج تک یہ فساد ختم نہیں ہو سکا ۔کراچی کا امن پاکستان کے لیے ضروری ہے ۔کراچی کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ تمام ایکسپورٹ انڈسٹری کراچی میں ہی لگنی چاہیے تھی۔ہم نیشن بلڈنگ میں ناکام رہے ہیں ۔کراچی کے عوام کے ساتھ انصاف اوران کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے ۔کراچی کے امن میں ہی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی پنہاں ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved