تازہ تر ین

عید قرباں کی یادیں

شاکر حسین شاکر
عید قرباں آئی اور آ کر چلی گئی۔ یہ عیدیں کہاں رکتی ہیں۔ سست روی سے آتی ہیں اور تیزی سے یوں گزرتی ہیں جیسے کوئی نان سٹاپ ریل گاڑی چھوٹے اسٹیشن کو تیزی سے خیر باد کہہ دیتی ہے۔ عید سے مراد چونکہ خوشی ہے لیکن آہستہ آہستہ ہمارے ہاں یہ خوشی بھی باقی خوشیوں کی طرح کم ہوتی جارہی ہے، خاص طور پر عیدین کی اصل روح بھی زندگی کے روزگارِ غم میں گم ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ سب باتیں اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ تین دن قبل ہی تو عید الاضحی گزری ہے تو اس حوالے سے محترم ضیا شاہد صاحب اور محترمہ سلمی اعوان نے اپنے کالموں میں بقر عید کی یادوں کو تازہ کیا ہے کہ پرانے وقتوں کی یادیں آج بھی سدا بہار کہی جاتی ہیں کہ ہم سب کو ماضی میں رہنا اچھا لگتا ہے، کہ جانوروں کے نام رکھے جاتے تھے، جانور اپنے مالکان سے اتنے مانوس ہوتے کہ مالک رسی کے بغیر جانور کے آگے چل رہا ہوتا تھا تو قربانی کا جانور اس کے پیچھے سرجھکائے آرہا ہوتا تھا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ جانور بھی انسانوں کی طرح خونخوار ہو گئے ہیں، ان کو قابو کرنے کے لیے رسی ڈالنی پڑتی ہے۔
عید کو گزرے تین دن گزرے ہیں۔ ابھی تو ہمارے گلی محلے الائیشوں سے اٹے پڑے ہیں، قربانی کے جانوروں کے چارے مرجھا کر آلودگی کا سبب بن رہے ہیں، کہیں کہیں بکروں اور مینڈھوں کی آوازیں یہ بتاتی ہیں کہ بہت سے جانور جان کی بازی کھیل کر اپنی جان بچائے ہوئے ہیں ۔ان کے بہت سے ساتھی ہمارے لئے لذت کام ودہن کر کے فانی جہان سے کوچ کر چکے ہیں جو بچ گئے ہیں ان کے لئے ہی تو کہا جاتا ہے ۔
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی
گزشتہ کئی برسوں سے ہم اپنے ہاں دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے تہوار بھی کمرشلائز ہو گئے ہیں۔ رمضان المبارک میں عبادات کی اصل روح عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ ہر طرف دکھاوا اور دھوکہ، اسی طرح عید قرباں کے موقعہ پر اس کی اصل روح کو چھوڑ کر ہم اپنی حیثیت دکھانے کیلئے مہنگی قربانیاں اور مقابلے کرنے کے چکر میں بہت کچھ کھو رہے ہیں۔ ایک دن میں نے اپنے بچوں کو بتایا کہ ہم اپنے بچپن میں عید قرباں کے موقعہ پر ذبیح کرنے کےلئے جانور عید الفطر کے فوری بعد لے لیا کرتے تھے تو وہ سن کر سوال کرنے لگے کہ اتنے ہفتے پہلے بکرا یاچھترا لا کر اس کے لئے چارہ کون لایا کرتا تھا؟
میں یا میرے بھائی۔ میں نے جواب دیا ۔
آپ چارہ اور گھاس خود لاتے تھے؟ بچوں نے حیران ہو کر دوبارہ سوال کیا ۔
نہ صرف گھاس اور چارہ خود لایا کرتا تھا بلکہ قربانی کے جانور کو صبح شام نہلا کر اس کے ساتھ ہم سارے بھائی اور کزنز کھیلا بھی کرتے تھے ۔ان کے پاﺅں میں جھانجھریں اور گلے میں گانی پہنا کر جب گھر سے لے کرگلی میں جاتے تو ہر گھر کے بچے اپنے قربانی کے جانوروں کواسی طرح سجا کر پورے محلے میں مٹر گشت کرایا کرتے۔ اگر کبھی بارش آجاتی تو سب کو قربانی کے جانور کی فکر ہوتی درختوں کی ٹہنیاں جب ہوا کے زور سے دہری ہونے لگتیں تو قربانی کے جانور کو محفوظ جگہ پر سب سے پہلے منتقل کیا جاتا ۔اگر بارش سردیوں کی ہوتی تو جانور کے اوپر گرم کپڑے ڈالے جاتے ۔بارش اگر ساون بھادوں میں ہوتی تو تب ابو جان کہتے کہ اس کو کوئی چیز نہ کھلانا کہ اس موسم میں یہ اپنی خوراک ہضم نہ کر سکے گا۔ قربانی کے جانور کو اگر بچہ مارتا یا چھیڑنے کی کوشش کرتا تو اسے سختی سے ڈانٹ کر منع کر دیا جاتا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اسے کچھ نہ کہا جائے ۔ جیسے جیسے عید قرباں کے قریب آنے کا وقت ہوتا تو پورا محلہ ہی بکرا منڈی میں تبدیل ہو جاتا ۔ہر قسم کے جانوروں کو سجانے کے مقابلے ہوتے ۔سینگوں پرسنہرا رنگ، مہندی سے جانور پر عید مبارک لکھا جاتا، کوئی کوئی جانور ٹڈ مارنے کا ہنر رکھتا وگرنہ اکثریت ایسے جانوروں کی ہوتی جو کولہوں کے بیل کی طرح اپنے بچوں یا بڑوں کے ساتھ مٹر گشت میں مصروف ہوتے ۔
یہ سب اس زمانے کی باتیں ہیں جب ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت کی فصل نہیں پھوٹی تھی ۔گھر چھوٹے، لیکن دل بڑے ہوتے تھے ۔قربانی کا جانور اگر چھوٹا بھی ہوتا تھا تو کسی کو شرمندگی تک نہ ہوتی تھی کیونکہ تب عید قرباں کی اصل روح سے ہمارے بزرگ واقف تھے۔ قربانی کا جانور خریدتے وقت رزق حلال وحرام کی تمیز کی جاتی تھی۔ تب بااثر لوگ رشوت میں قربانی کے لیے جانور نہیں لیا کرتے تھے، بلکہ وہ کوشش کرتے تھے کہ جتنی آمدن ہے اس کے مطابق قربانی کی جائے۔ اگر کوئی وسائل سے بڑھ کر عید قرباں پر نمود و نمائش کرتا تو محلے میں اس کی شہرت پر حرف آنے لگتا ۔
قربانی کا گوشت شرع کے مطابق تقسیم کیا جاتا گھروں میں تب نہ فریج ہوتے تھے نہ ڈیپ فریزر ۔ حالت تو یہ تھی اگر رات کو استعمال کے باوجود برف بچ جاتی تو اسے بوری میں لپیٹ کر محفوظ کرنے کی سعی کی جاتی۔ صبح کو جب بوری سے برف نکالی جاتی تو وھاں پر برف کے بڑے ٹکڑے کی بچائے چھوٹا سا ٹکڑا منہ چڑا رہا ہوتا ایسے حالات میں کون عقل مند ہو سکتا تھا جو قربانی کے گوشت کو گھر میں سٹور کر کے رکھتا۔اب تو یہ حالت ہے کہ عید الاضحی کے موقعہ پر فریج اورڈیپ فریزر کی قیمتیں آسمان تک پہنچ جاتی ہیں، لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر قربانی کا جانور خریدتے ہیں یا کسی کو حکم جاری کرتے ہیں کہ فلاں نسل کا جانور آپ کی طرف سے تحفہ آجانا چاہیے۔ اس برس تو ہم نے ایک تصویر یہ بھی دیکھی کیری وین پر قربانی کا جانور اور ڈیپ فریزر اکٹھا جا رہا تھا تو معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور کی اصل میچنگ تو یہی ہے۔ اس سال تو ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مبینہ طور پر اعلی افسران نے کہیں پر مفت اور کہیں پر بہت سستے داموں قربانی کے جانور وصول کیے ہیں کہ اب آہستہ آہستہ آوے کا آوہ ہی بگڑ رہا ہے۔ مستحق اور نادار لوگ سارا دن دھکے کھا کر بھی اتنا گوشت اکٹھا نہیں کر پاتے کہ وہ عید قرباں کے موقعہ پر بھی گوشت چکھ سکیں ۔قربانی کے جانور اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ متوسط طبقہ یہ شرعی فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ دوسری جانب صاحب حیثیت کے پاس اتنا بڑا دل نہیں کہ وہ مستحق لوگوں کو قربانی کا گوشت دے سکیں۔ اس دوران رضا علی عابدی نے فکر انگیز سوال اٹھایا عید کے پانچ دنوں کے بعد غریب گوشت کیسے کھائیں گے؟
اب سے تین چار عشرے قبل کتنا اچھا دور تھا۔ حق دار کو اس کا حق بغیر مانگے مل جاتا تھا۔ تب سیلاب ،زلزلے، وبائی مراض اتنی عام نہیں تھیں ۔ بس کبھی کبھار کسی بڑے حادثے کی خبر سننے یا پڑھنے کو مل جاتی تھی، یہ کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دنیا میں کورونا نام کی ایک ایسی بیماری آئے گی، جوسارے کاروبار زندگی کو معطل کر کے رکھ دے گی،ہمارے تمام تہوار، رسوم و رواج خواب ہو جائیں گے۔ اس کورونا کی بابت کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ہماری دعائیں مستجاب کیوں نہیں ہو رہی ہیں، خوشیوں کی رفتار سست کیوں ہے اور غموں کے طوفانوں کے سائے گہرے کیوں ہوتے جا رہے ہیں، اچھے لمحے یادوں کی البم میں کیوں سجتے جا رہے ہیں ؟ بقول نجم الاصغر شاہیا
سکوں کے لمحے کب آئیں گے
دل کی بے قراری کو خبر کیا ہے
پھریں گے میرے دن کب تک
مری سجدہ گزاری کو خبر کیا ہے
(کالم نگار، کئی کتابوں کے مصنف
اور صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved