تازہ تر ین

سی پیک۔ ترقی وخوشحالی کا عظیم منصوبہ

چوہدری ریاض مسعود
چین کی معیشت جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس سے اسکی جامع اقتصادی منصوبہ بندی اور حکمت عملی واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ کرونا وائرس کے باوجود بھی چین کی معیشت اور شرح نمو کا گراف اوپر کی طرف ہی گیا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے ۔ بلاشبہ اس دوستی کو ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے بھی گہری قرار دیا جاتا ہے جس کی ایک جھلک ہمیں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ یعنی سی پیک میں نظر آتی ہے ۔ سی پیک میں میں چین نے اقتصادی ‘ فنی تکنیکی اور تحقیقی امداد دینے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے۔ جب سے یہ عظیم الشان منصوبہ شروع ہوا ہے امریکہ ،بھارت اور اس کے حوایوں کے ہوش اڑ گئے ہیں اور نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ سی پیک سے اس پورے خطے خاص کر پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔ اس خطے میں سی پیک کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ نیپال‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش پہلے ہی اس گیم چینجر ترقیاتی منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں اور اب تو ایران نے بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس میں اپنی شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔ ایران نے اپنے منصوبے ”چاہ بہار“ کے کئی پراجیکٹس سے بھارت کو نکال باہر کیا ہے اور بنگلہ دیش کا جھکاﺅ بھی بھارت کی بجائے چین کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ چین نے پاکستان کی حمایت سے افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کی مسلسل کوششیں کی ہیں اور چین پاکستان افغانستان پر مشتمل سہ فریقی گروپ پہلے ہی قائم ہے۔ افغانستان کی سی پیک میں شمولیت سے وسطی ایشیاءکی ریاستوں کیلئے بھی دروازہ کھل جائے گا اور پھر سی پیک کے ذریعے وسطی اور جنوبی ایشیا کے خطے کے ممالک کے درمیان علاقائی تجارت اور ترقی کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔گوادر بندرگاہ اور واہگہ بارڈر کے ذریعے شروع ہونیوالی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
اس وقت پوری دنیا سمیت اس خطے کے اہم ممالک کی نظریں چین پاکستان اقتصادی راہداری پر لگی ہوئی ہےں یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اس منصوبے کے مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے اور کام کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے سی پیک اتھارٹی قائم کی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ اس اتھارٹی کے چیئرمین ہیں۔سی پیک کی تکمیل سے بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغازہو گا۔ سی پیک کی وجہ سے اس علاقے کی عوام کو بھی آمدورفت کی عالمی سطح کی سی سہولتیں میسر آسکیں گی۔ اس وقت گوادر سے خنجراب تک ہر جگہ تعمیروترقی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہاں بیرونی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ گوادر سی پیک کے تحت ترقی یافتہ شہر کی شکل اختیار کرے گا۔ یہ پاکستان کا تجارتی حب ہوگا جس سے ملک بھر میں خوشحالی آئے گی۔ اس وقت سی پیک میں سب سے اہم منصوبہ 1877 کلو میٹر (M.L.ONE) ایم ایل ون ریلوے کا منصوبہ ہے جو ایکنک حکومت پاکستان سے باقاعدہ منظوری بھی حاصل کرچکا ہے۔ ا س کے علاوہ ابھی حال ہی میں 230 ملین ڈالر کے سرمائے سے گوادر کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر کا کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ گوادر پورٹ پر گودیوں کی تعمیر‘ فش ہاربر اور ساحلی علاقے پر متعدد منصوبوں پر کام ہورہا ہے اور منصوبے کے مطابق گوادر پورٹ اور گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہر لحاظ سے مکمل ہوکر اپنی استعداد کے عین مطابقیکساں طور پر مکمل فعال ہونگے، یاد رہے کہ اس وقت گوادرپورٹ موجودہ سہولتوں اور وسائل کےساتھ فعال ہوچکی ہیں جبکہ اس میں تعمیر و توسیع کا کام بھی جاری ہے ۔
سی پیک کے تحت توانائی کے متعدد منصوبوں پر بھی کام جاری ہے ، گوادر میں بجلی کے نظام کو بہتر بنانے اور اسکی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں 300میگاواٹ کے ایک منصوبے کی راہ میں حائل مشکلات اور مسائل کو بھی حل کرلیا گیا ہے، بلوچستان کے علاقے مانیل، تربت، واشو، فاران، کیچ سمیت دیگر مقامات کے بجلی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جارہے ہیں۔ علامہ اقبال صنعتی زون فیصل آباد میں بجلی کی پیداوار کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے کوئلے کو بھی استعمال میں لاجائیگا، پینے کے پانی کی سپلائی مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اب گوادر میں 12ملین گیلن صاف اور میٹھے پانی کی سپلائی شروع ہوچکی ہے۔بلوچستان کے علاقے زیارت اور چمن میں چلغوزے کے پراسینگ پلانٹس لگائے جارہے ہیں، اور کھجور کے پراسینگ پلانٹ لگانے کیلئے بھی چین سے بات چیت ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں بوستان کے مقام پر اقتصادی زون اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار ایکڑ رقبے پر مشتمل اقتصادی زون بھی سی پیک میں شامل ہے۔ سی پیک کے تحت صوبہ سندھ میں دھابیجھی کے مقام پر صنعتی زون پر کام جاری ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ حویلیاں (کے پی کے) میں ایک بڑی ڈرائی پورٹ قائم کی جائیگی جہاں چین سے آنے والاسامان پہنچے گا، اس سے بھی اس پورے علاقے میں تجارتی سرگرمیاں تیز ہو جائینگی۔
آج کے اس جدید دور میںذرائع آمدورفت کی بے حد اہمیت ہے، ان میں ایئرپورٹ، بندرگاہیں، ریلوے اور سڑکیں شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے تحت اس طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے، سی پیک کے مشرقی اور مغربی روٹس کے ساتھ ساتھ اس سے منسلکہ روٹس اور شہروں میں بھی شاہراہوں کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے، خاص طور پر بلوچستان میں ہوشاب سے آواران ، آواران سے خضدار، رتوڈیرو سے خضدار اور آواران سے بیلہ تک سڑکوں کی تعمیر سے اس خطے کی حالت ہی بدل جائیگی۔ جنوبی بلوچستان میں ان اہم شاہراہوں کی تعمیر سے یقینا ایک خاموش ترقیاتی انقلاب بلوچستان کے دروازے پر دستک دے رہاہے، ادھر مانسہرہ سے تھاکوٹ موٹروے بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جبکہ چکدرہ سے چترال روڈ بھی سی پیک کے منصوبے میں شامل ہے۔اب جبکہ سیاحت کو بھی سی پیک میںشامل کیا جاچکا ہے اس لئے سکردو، گلگت ، بلتستان، چترال سمیت بلوچستان کے سیاحتی مقامات تک عالمی معیار کی سڑکیں وقت کی اہم ضرورت ہے، مزید یہ کہ ان علاقوں میں بہنے والے دریاو¿ں کے کناروں کو مضبوط کرنے اور آہنی جنگلے لگانے کی بھی ضرورت ہے، اسکے علاوہ عوام کے دیرینہ مطالبے پر مالاکنڈ، دیر اور چترال کو بھی سی پیک میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے۔ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ ریلوے کا اہم منصوبہ ایم ایل ون پہلے مکمل ہوگا پھر ایران سے بھی ریلوے لنک بحال ہوگا جبکہ گوادر میں بھی ریلوے لائن کا منصوبہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے، ان کا کہنا تھاکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے اور سی پیک کی وجہ سے بلوچستان کی پسماندگی بہت جلد ختم ہوجائیگی، بلوچستان کی معدنی دولت سے اس خطے کی حالت بدل جائیگی، میرانی ڈیم سے زراعت کو فائدہ ملے گا، سی پیک کے بارے میں یہاں کے منتخب نمائندوں کے تحفظات کو دور کرکے اس منصوبے کی کامیابی کیلئے ان سے مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔ گوادر بندرگاہ کے آپریشنل ہونے سے اسکے ثمرات بلوچستان کو ملنے شروع ہو گئے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے درمیان سی پیک کے منصوبے میں تیزی آئی ہے، گوادر کے مقامی تعمیراتی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہر مشتاق حسین کھوکھر نے درست کہا ہے کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کو ون ونڈو کے ذریعے فعال او موثر بنایا ہے اور کام کی رفتار تیز ہوئی، اسکا کریڈٹ یقینا لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو جاتا ہے ، جس پر وہ پوری قوم کی مبارکباد کے مستحق ہیں، سکھر حیدرآباد 306کلو میٹر طویل موٹروے اور ژوب کچلاک روڈ کے منصوبے یقینا سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی کو مثالی بنادینگے۔ایک بات یقینی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مکمل ہونے سے پاکستان میں ہر سطح پر ترقی ہوگی ، یہ بات حوصلہ افزاءہے کہ سی پیک کے فنڈز پنجاب سے زیادہ بلوچستان پر خرچ ہورہے ہیں، اس لئے یہ بات ضروری ہے کہ ترقی کے ثمرات بھی بلوچستان اور اس کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ملنے چاہئیں۔بلوچستان کے عوام کو سی پیک کے منصوبوں پر زیادہ روزگار ملے اور اس علاقے میں صنعتی ادارے قائم کرکے یہاں کی قیمتی معدنیات کو استعمال کیا جائے تاکہ بلوچستان میں ہر طرف ترقی او رخوشحالی کا دور دورہ ہو، اس سے بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی بھی ختم ہو جائیگا اور قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کی فضا پروان چرھے گی اور ہم ایک متحد اور مضبوط قوم بن کر بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ کے خوابوں کے عین مطابق مملکت خداداد پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنا سکیں گے(انشاءاللہ) اس سے پاک وطن کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والوں کے ارادے بھی یقینا خاک میں مل جائینگے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved