تازہ تر ین

سانچ کو آنچ نہیں

خدا یار خان چنڑ
کسی مسلمان کا برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہونا بلاشبہ برا ہے لیکن کسی پر گناہوں اور برائیوں کا جھوٹا اِلزام لگانااِس سے کہیں زیادہ برا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو برائیاں ناسور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک تہمت وبہتان بھی ہے۔تہمت، الزام تراشی، بہتان، اور بد گمانی ہمارے معاشرتی سکون کے لئے زہر قاتل ہیں۔ بے بنیاد خیالات، غلط فہمیاں، شک اور دوسروں کے بارے از خود کوئی رائے قائم کرلینا یا دوسروں کی غلط معلومات اور الزام تراشی کو تصدیق کئے بغیرسچ جان لینا بدگمانی اور نفرت کا باعث بن جاتا ہے ۔تہمت، بہتان اور جھوٹے الزام لگانے کو اللہ تعالی نے بدترین گناہ قرار دیا ہے۔ ایسا کرنے والا کمینہ خصلت ، بد ترین کردار اور پست ذہنیت کا حامل ہوتا ہے۔
کسی کی عزت اور کردار کو پورے معاشرہ میں رسوا کرنے کے بعد اگر معافی طلب کربھی جائے تو جو نقصان ہو چکا ہوتا ہے اس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔انہی سماجی رویوں کے باعث دلوں میں دوریاں اور نفرتیں پروان چڑھتی ہیں اوریہ دین اسلام کی تعلیمات کے سرا سر منافی ہے جو دلوں کو جوڑنے آیا تھا ۔اسلامی تعلیمات میں ہے کہ خود جرم کا مرتکب ہونا اور اس کا بہتان دوسروں پر لگا دینا سخت گناہ ہے۔ ایک دوسرے کی غیبت مت کرو، یہ نہایت ناپسندیدہ بات ہے۔ ایک دوسرے کا تمسخر نہ اڑاو ، ایک دوسرے کو ذلیل نہ کرو،ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔ باری تعالیٰ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی مت کرو۔ کسی سے حسد نہ کرو۔ خوامخواہ افواہیں نہ پھیلاﺅ اور غلط باتوں کا چرچا نہ کرو۔ کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔بعض اوقات کسی پر ایسا الزام لگادیا جاتا ہے کہ اسے سننے اور پڑھنے والا حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی پیش آیا جب میری نظر ایک ایسے کالم پر پڑی جس میں کالم نگار نے ایک معزز اور قابلِ احترام ہستی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلرڈاکٹر اطہر محبوب پر بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگا رکھے تھے جس کا ایک ایک لفظ ان کے ذاتی عناد کو عیاں کر رہا تھا۔اسلامیہ یونیورسٹی میں دو بار اسسٹنٹ پروفیسر کی تعیناتی کے لیے انٹرویو میں ناکامی نے شایدانہیں ذہنی مریض بنا دیاہے اوران کی ذہنی پراگندگی ایک اخبار میں شائع ہونے والے کالم میں واضح طور پر سامنے آئی جس میں انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے وائس چانسلرڈاکٹر اطہر محبوب کے بارے میں ایسی زبان استعمال کی جو ایک مہذب انسان کو بالکل زیب نہیں دیتی بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اگر اپنی ناکامی کا غصہ وہ سلیکشن بورڈ پر نکالتے تو پھر بھی بات سمجھ میں آنے والی تھی مگر وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی کیونکہ جامعات کا سلیکشن بورڈ کسی بھی طرح پبلک سروس کمیشن کے سلیکشن بورڈ سے کم نہیں ہوتا جہاں پر دو دو وائس چانسلرز، پبلک سروس کمیشن کا نمائندہ، سینئر بیوروکریٹ اور اپنے شعبے کے ممتاز پروفیسر بیٹھے ہوتے ہیں۔ کسی بھی امیدوار کی تعلیمی قابلیت اور تجربے پر طویل بحث ہوتی ہے جس کے بعد امیدوار کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے اور پورا پینل علیحدہ علیحدہ نمبر لگاتا ہے اور وائس چانسلر سمیت کوئی ایک شخص بھی انفرادی طور پر فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2012ءمیں نیوی انجینئرنگ کے شعبے میں بے مثال خدمات پر تمغہ امتیازحاصل کرنے والے بہترین ماہر تعلیم اور ایڈمنسٹریٹر وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اطہرمحبوب کی ذات کو نشانہ بنایا ہے اور وہ بھی انتہائی غیر مناسب انداز میں۔ اس ذہنی مریض کو کون سمجھائے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں تین یونیورسٹیوں کے معمار پروفیسر ڈاکٹراطہر محبوب کی تعیناتی بہت بڑا اعزاز ہے۔ ایک برس کے عرصے میں ہی یونیورسٹی کا ماحول اس قدر مثبت ہو گیا ہے کہ جہاں ہر روز کسی لڑائی جھگڑے اور سکینڈل کی خبر آتی تھی اب وہاں سے ہر روز تعلیمی کامیابیوں، ترقی، نئے شعبہ جات کے کھلنے اور مستقبل کی روشن امیدوں کی خبریں آتی ہیں۔ ایک برس میں شعبہ جات کی تعداد تین گنا ہو جائے، طلبا کی تعداد دو گنا ہو جائے، یونیورسٹی کی آمدن دو گنا ہو جائے، یہ صرف ان کی لیڈر شپ کا کمال ہے۔
مخالفین ایک بات یاد رکھیں، اسلام میں کسی انسان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے باز آجاﺅ اور جس ہستی پر تم نے تہمت لگائی ہے اس سے معافی مانگو تاکہ آخرت میں تمہاری گرفت نہ ہو۔ان عناصر کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی سرزمیں پر موجود ہے اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کا مستقبل اسلامیہ یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ ہے ۔یونیورسٹی ہو یا ایڈمنسٹریشن پر وار، بہاول پور کی دھرتی کے لوگ برداشت نہیں کریں گے۔ میں چیئرمین بحالی¿ صوبہ بہاولپور کی حیثیت سے ان عناصر کو کہوں گا کہ آپ اپنی تحریر میں کالم کی تردید بھی کریں ورنہ بہاول پور کے لوگ آپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کا تحفظ ہمارا حق ہے۔ ان پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved