تازہ تر ین

کراچی میں تیسرے روز بھی بارش، بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق

سندھ میں مسلسل تیسرے روز بھی مون سون کی چوتھی بارش ہوئی اور کراچی میں مختلف واقعات میں بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ریسیکیو ذرائع اور انتظامیہ کے مطابق دو بچے بجلی کا کرنٹ لگنے اور ایک لڑکا ندی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا جبکہ دو افراد چھت گرنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

اس ضمن میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق نارتھ کراچی کے سیکٹر 2 میں ایک کم سن بچہ بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

خواجہ اجمیر نگری کے ایس ایچ او نے بتایا کہ 6 سالہ بچے کی ہلاکت کا واقعہ سیکٹر 2 میں پیش آیا جب بچے نے گیلے پیروں میں پیڈسٹل پنکھے کو ہاتھ لگایا جس میں کرنٹ تھا۔

علاوہ ازیں ایک اور جان لیوا حادثہ اتحاد ٹاؤن میں پیش آیا جس میں 18 سالہ پرویز بھی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا۔

متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او عابد نے بتایا کہ بجلی کے تار کی وجہ سے کرنٹ دیوار پر پھیل گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ لڑکے نے دیوار پر ہاتھ رکھا تو کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

بارش کے باعث دیگر واقعات میں چھت گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

مذکورہ واقعہ پاک کالونی میں پیش آیا۔

اس حوالے سے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او رحمت اللہ خان مروت نے بتایا کہ جہان آباد کے مگسی محلہ میں 40 سالہ محمد انور اور 45 سالہ مزدور رضا محمد گھر کی مرمت میں مصروف تھے کہ چھت گر پڑی۔

پولیس افسر نے بتایا کہ مسلسل بارش کے باعث مکان کو نقصان پہنچا تھا اور جب واقعہ پیش آیا تب مالک اپنے گھر کی دیواروں کی مرمت کرارہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو ڈاکٹر روتھ پاؤ سول ہسپتال کراچی منتقل کردیا گیا۔

ایک اور جان لیوا حادثہ ملیر ندی میں پیش آیا جس میں 14 سالہ لڑکا ڈوب گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر عرفان بہادر نے بتایا کہ متوفی اسد جان گوٹ کے مقام پر ندی میں نہاتے ہوئے ڈوبا۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ واقعہ 3 بجے پیش آیا، لاش کی تلاش لیے ایدھی کے علاوہ بحریہ کے غوطہ خوروں نے بھی امدادی کارروائی میں حصہ لیا تاہم رپورٹ فائل ہونے تک اسد کی کوئی معلومات موصول نہیں ہوئی۔

حکام کی جانب سے خیال کیا جارہا ہے کہ اسد ڈوبنے سے جاں بحق ہوگیا اور اس کی لاش تیز پانی کے بھاؤ کی وجہ سے دور جا نکلی ہے۔

علاوہ ازیں ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا کہ ان کے غوطہ خوروں نے 2 افراد کو بچایا جو قیوم آباد ندی میں پھنس گئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بارش میں مختلف واقعات میں کم از کم 8 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل تھا جو بارش سے جمع ہونے والے پانی میں ڈوب کر انتقال کرگیا تھا۔

علاوہ ازیں 3 افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ چوتھے اسپیل کی پہلی بارش میں کرنٹ لگنے سے ایک شہری کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 3 اگست کو محکمہ موسمیات نے جمعہ اور ہفتہ (7 اور 8 اگست) کو کراچی اور حیدرآباد میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

اس حوالے سے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ جمرات کی شام یا رات سے ہفتے کے دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈواللہ یار، مٹیاری، ٹنڈومحمد خان، جامشورو، دادو اور شہید بینظیر آباد میں تیزہواؤں/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ کہیں کہیں موسلا دھار بارش کی بھی توقع ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ کے اوائل سے آخر تک شہر قائد نے 3 مون سون کے اسپیل دیکھے، جس میں شہریوں کو انتظامی عدم توجہی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں ہونے والی بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے نالوں کی صفائی نہ ہونے اور نالے بپھرنے کی وجہ سے زیرآب آگئی جس کے باعث لوگوں کے لیے باران رحمت، زحمت میں تبدیل ہوگئی۔

جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کراچی کے تمام بڑے نالوں کی صفائی کا آغاز 4 اگست سے کردیا تھا۔ ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved