تازہ تر ین

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں غلط فہمیاں دور ہوچکیں، شیخ رشید

شیخ رشید نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا آزمودہ تاریخی اور دل کے قریب دوست ہے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تھوڑی بہت غلط فہمیاں تھیں جو دور ہوچکی ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ کل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید سعودی عرب کے دورے پر جارہے ہیں، جو ذرا بہت کمی بیشی رہ گئی ہوگی وہ بھی دور ہوجائے گی اور پاکستان پہلے سے بھی زیادہ اس دوستی کو آگے لے کر بڑھے گا۔

انہوں نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کہیں نہیں جارہے، وزیراعظم عمران خان عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک وہ کھڑے ہیں عثمان بزدار کے لیے سب ٹھیک ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ مریم نواز نے پتھراؤ والا جلوس نکالا، دراصل وہ خود نااہل ہوچکی ہیں اس لیے وہ چاہتی ہیں کہ شہباز شریف کیوں اس طرح اہل پھر رہے ہیں، اور اس کے لیے سارے پاکستان سے پتھراؤ گروپ اکٹھا کیا گیا، راولپنڈی سے گاڑیاں کرایے پر لی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب پر پتھراؤ کیا گیا اس کے جواب میں نیب ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور نہیں کرے گا، انہوں نے الزامات کا رخ موڑنے کے لیے پتھراؤ کی حکمت عملی بنائی۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پہلے بھی مریم نواز نے نواز شریف کو یہاں پہنچایا ہے، آج نواز شریف جہاں ہیں وہ مریم کی وجہ سے ہیں اور شہباز شریف کو بھی جہاں پہنچانا چاہتی ہیں وہ مریم پہنچانا چاہتی ہیں۔

شیخ رشید نے کہا جو وتیرہ مسلم لیگ (ن) نے اختیار کیا اب پیپلز پارٹی بھی سوچے گی ، پیشی پر لوگ جارہے ہیں تو ایسے جارہے ہیں جیسے قلعہ فتح کر کے جارہے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ محرم شروع ہونے والا ہے ابھی تک آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس کے بعد ربیع الاول آجائے گا، یہ سوچ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کو استعمال کریں گے اور مولانا سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیاسی طور پر بچوں کو ورغلا سکیں گے، دونوں بھول میں ہیں اور اندر سے بہت سیانے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک اپوزیشن کی بات اگر ان کے آسرے پر کررہے ہیں تو ایک مرتبہ پھر پچھتائیں، میں انہیں کہتا ہوں کہ فضل الرحمٰن صاحب جاگتے رہنا انہوں نے پچھلی مرتبہ بھی استعمال کیا ہے، انہیں صرف این آر او چاہیئے، اگر این آر او نہیں تو کیسز سے نجات چاہیئے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ کیسز سے ہماری جان چھڑائی جائے جس کے لیے اس حد تک بیان دیتے ہیں کہ نیب کو ہی ختم کردیا جائے، نیب کو ختم کرنے کے پیچھے ان کا مقصد یہ ہے کہ ان کے کیسز ختم کردیے جائیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سیاست وقت ضائع کرنے کے مترادف کے ان کے لوگ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو سینیٹ میں ووٹ ڈالنے کھڑے ہوتے ہیں تو 65 ہوتے ہیں اور اندر جاتے ہیں تو 44 ہوجاتے ہیں یہ ووٹ کی عزت ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved