تازہ تر ین

ویل ڈن۔ عاصم سلیم باجوہ

سارہ شمشاد
پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے کہ جب عوامی عہدے رکھنے والے اپنے پر اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب بلاچوں و چراں دے رہے ہیں بلکہ ثبوتوں کے ساتھ کسی بھی قانونی فورم پر خود کو پیش کرنے کی بھی پیش کش کر رہے ہیں۔ یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر مسائل کے انبار تلے دبی قوم 7 دہائیوں سے دیکھ رہی تھی کہ ان کے منتخب نمائندوں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بااختیار افراد جوابدہ ہوں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے حوالے سے بعض سوالات اٹھائے گئے تو انہوں نے انتہائی خندہ پیشانی سے ان سوالوں کے جوابات دیئے اور ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان کو مشیر اطلاعات کی حیثیت سے استعفیٰ بھی پیش کر دیا۔ عاصم سلیم باجوہ کے جوابات سے مطمئن ہو کر وزیراعظم نے ان کے استعفیٰ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ،جو انتہائی خوش آئند ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سب خود کو بلاتخصیص عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں آج تک جتنی بھی قوموں نے ترقی کی اس کی بڑی وجہ قانون کی حکمرانی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے ٹھوس شواہد سامنے رکھنے کے باوجود بعض سیاسی جماعتیں کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آتیں اور اسے سیاسی بنانے کی خوا مخواہ کوشش کی جا رہی ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری پر تیزی سے کام جاری و ساری ہے ایسے میں عاصم سلیم باجوہ کے تسلی بخش جواب کے باوجود اسی پر سیاسی رسہ کشی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
کورونا جیسی آفت کے باوجود پاکستانی معیشت مثبت اعشاریے پیش کر رہی ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے نتیجے میں ملک میں ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں تو ایسے موقع پر عاصم سلیم باجوہ کی کردار کشی کا مقصد سی پیک کو نشانہ بنانا بھی ہو سکتا ہے اور میرے خیال میں اس کے پیچھے ہمارے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ویسے بھی ہمارے میڈیا میں عاصم سلیم باجوہ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کے تانے بانے بھارتی ایجنسی را کے ساتھ ہونے کی خبریں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ایسے نازک حالات اور حساس موقع پر سیاستدانوں کو بھی چاہئے کہ وہ انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیں اور اپنی صفوں میں چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کو پہچانیں کیونکہ اس نازک موقع پر پاکستان کسی سازشی تھیوری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اس پر کوئی اور رائے نہیں ہو سکتی کہ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ادارے کی ٹریننگ کا بھی بھرپور عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بلاتاخیر خود پر لگائے گئے الزامات کا بھر پور جواب دیا۔ اس سے ان کے ادارے کی توقیر اور ان کے قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کا عہدہ عاصم سلیم باجوہ نے انتہائی مشکل حالات میں جس مہارت کے ساتھ نبھایا تھا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی دشمن ان کا نام سن کر ہی کانپ جاتا ہے۔ قوم کا یہ سپوت سرائیکی وسیب سے تعلق رکھتا ہے جس پر وسیب کے باسی بجا طور پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے حقائق عوام کے سامنے رکھے۔ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے احتساب کے نعرے کو نہ صرف تقویت بخشی ہے بلکہ خود احتسابی کا بھی عملی مظاہرہ کیا ہے۔ غیر منتخب اراکین کابینہ کے اثاثوں کی تفصیلات کی فراہمی موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے جبکہ عاصم سلیم باجوہ نے خود احتسابی کا مظاہرہ کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ احتساب اور بلاامتیاز پاکستان کے لئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ نیب کرپٹ عناصر کے قلع قمع کے لئے اپنا کردار مزید بہتر انداز میں ادا کرے۔ اسی طرح ایف آئی اے اور دیگر محکموں کو بھی چاہیئے کہ وہ احتساب کے نظام کو بہتر بنائیں اور کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو وطن عزیز کو لوٹنے کی جرا¿ت نہ ہو سکے۔
(کالم نگارقومی امور پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved