تازہ تر ین

عثمان بزدار پر تنقید کیوں؟

سجادوریا
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جب سے منصب پر فائز ہوئے ہےں،ان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ بننے پر وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہےں،اللہ کا احسان سمجھتے ہےں اور وزیر اعظم عمران خان کے بھی مشکور ہےں جنہوں نے وزیراعلیٰ کی دوڑ مےں شامل طاقتور امیدواروں کو چھوڑ کرایک نسبتاً کمزور اور گمنام اےم پی اے عثمان بزدار کا انتخاب کیا۔جہاں مےں نے عثمان بزدار کی خوش قسمتی کا ذکر کیا ،وہاں کئی حوالوں سے بدقسمتی بھی ان کے پیچھے لٹھ لے کر پڑی ہوئی ہے۔ بدقسمتی ےہ ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ،اپوزیشن اور ”کئی اپنے“ بھی ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہےں۔کئی بہانوں سے تنقید کرتے ہےں،سازشےں بھی تےار ہوتی ہےں۔کئی تو باقاعدہ”اب گئے“، ”کل گئے“ ، ”جانے والے ہےں“ کا ڈھول گلے مےں لٹکائے سوشل میڈیا اور میڈیا کے گلی بازاروں مےں اےسے گھومتے ہےں کہ عام آدمی سوچنے لگتا ہے کہ’ عثمان بزدار ‘جانے والا ہے۔میڈیا کے بعض نامور لوگ ان سے محض اسلئے ناراض رہتے ہےںکہ وزیراعلیٰ ان کے شاےان شان پروٹوکول نہیں دےتے،ان کے احکامات کی تعمیل نہیں ہو پاتی،ان کے پسندیدہ افسران کو تعینات نہیں کرتے،ان سے ملاقات نہیں کرتے،حالانکہ وہ اپنا مقام اورمرتبہ ثابت کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی تصاویر بھی ان کو واٹس اپ کرتے ہےں۔لےکن خاموش طبع وزیر اعلیٰ ٹس سے مس نہیں ہو تے ،اپنی دُھن مےں مگن ،میڈیا کے تمسخر کو اپنی خاموشی وسادگی کے تفاخر سے اُڑا کے رکھ دےتے ہےں۔تنقید سے بالکل نہیں گھبراتے بلکہ خود کو زےادہ بااعتماد سمجھتے ہےں۔ان کی باڈی لےنگوے¾ج ان کے اعتماد کا پتہ دےتی ہے،ان کے اعتماد کے اہم محرکات مےں وزیر اعظم کی تھپکی،ان کا شفاف کام اور ان کی باسلیقہ خاموشی شامل ہےں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب اےک شریف النفس انسان ہےں،چرب زبانی کے سامنے سے بچ کے گزرتے ہےں۔جب ان کو وزیر اعلیٰ بناےا گےا تو سےاسی جادوگروں اور صحافتی جغادریوں کی خےالی دنےا تو چوپٹ ہو گئی،انہوں نے تجزیوں اور تبصروں کے کدال جن جگہوں پر برسائے تھے وہاں سے’خام خےالی‘ کی رےت کے ڈھےر نکلے۔ان کے اندازے اور تخمینے ’کج بحثی‘ ثابت ہو گئے۔انہوں نے جن نامور امیدواروں کے نام پےش کیے،ان کے فضائل بےان کئے،جب وہ نام مسترد ہو گئے تو ان کو اپنی دانشوری کی سُبکی محسوس ہو ئی اور آج تک اس غصے کو چھپا نہیں سکے۔کبھی سازشوں ،کبھی جھوٹی خبروں اور کبھی اپنے سےاسی آقاﺅں کی خوشنودی کی خاطر عثمان بزدار کو ٹارگٹ کرتے ہےں۔
اگر سےاسی صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو چند سوالات اُٹھتے ہےں،جن کا جواب ڈھونڈا جائے تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ عثمان بزدار کیوں ابھی تک موجود ہےں ،اورخود کو مزید مضبوط بنا رہے ہےں۔مےں سمجھتا ہوں کہ ان کی شرافت و کم گو شخصیت ان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ان کی اس طاقت نے صوبے مےں اےک اتحادی حکومت کو کامےاب بنا رکھا ہے،انہےں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پروےز الٰہی کا اعتماد حاصل ہے، گورنر پنجاب سے بھی اچھی بنتی ہے۔سب سے بڑی بات ےہ کہ تحریک انصاف کے اندر دھڑوں مےں بھی تعلقات کا ذریعہ ہےں۔جےسا کہ خےال کیا جاتا تھا کہ پارٹی مےںعلیم خان،جہانگیر ترین اور شاہ محمود قرےشی کے گروپوں مےں وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی کے حصول کے لئے مقابلہ تھا،اگر کوئی اےک گروپ اگر جیت جاتا تو پارٹی تقسیم ہو جاتی ۔عمران خان نے سےاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ،اےک نےوٹرل اور کمزور اےم پی اے کا انتخاب کیاجس پر کسی طاقتور گروپ کو اپنی شکست کا احساس نہیں ہوا،بلکہ سب نے بخوشی قبول کیا اور کہنے لگے کہ ےہ وزیر اعظم اور پارٹی چےئرمےن کا اختےار ہے جس کو چاہے نامزد کرے۔اب ےہ تمام گروپ وزیر اعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہےں اور اپنے حلقے کے مسائل کے حل کے لئے رابطے مےں رہتے ہےں۔
وزیر اعلیٰ کو اےک بار پھر میڈیا کے ایک حصے اور اپوزیشن نے خوب لتاڑا ،جب انہےں ایک کےس مےںنےب نے طلب کیا۔ دانشوران قوم تو جھوم اُٹھے،کئی تو فےصلہ سنا بےٹھے کہ پی ٹی آئی خود سازش کرکے وزیر اعلیٰ کو ہٹانا چاہتی ہے۔اس کےس مےں بےوروکرےسی کی منافقت کا پردہ چاک ہوا ۔ جب وزیر اعلیٰ نےب مےں پےش ہوئے ،ان کا اعتماد بتا رہا تھا کہ کچھ غلط نہیں کیا۔ کیا شراب کا لائسنس پہلی بار دیا گےا؟ کیا ایک سابق بیوروکریٹ نے اپنی اخلاقی ساکھ کو برباد نہیں کیا جب ریٹائر ہونے کے بعد وعدہ معاف گوا ہ بننے کی پےشکش کر دی اور الزام وزیر اعلیٰ پر لگا دیا ؟وزیر اعلیٰ کے رشتے دار نے دباﺅڈالا اور رشوت لی تو اس اعلیٰ افسر کا ضمیر کہاں سوےا ہوا تھا؟اس وقت ےہ خبر میڈیا کو جاری کر دےتے ،کسی ذریعہ سے سوشل میڈیا پر خبر ڈال دےتے۔لےکن ان کے عمل نے ان کی دےانت کو مشکوک بنا دیا ۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے دستاویزات پےش کر دیں کہ لائسنس پہلے جاری ہوا اور منظوری کے لئے خط بعد مےں لکھا گےا۔ابھی معاملہ نےب کے پاس ہے دےکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ابھی تک میڈیا مےں سامنے آنے والے حقائق اور خبروں سے ےہی رائے بن رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے خود کو دستاویزات کے ذریعے شفاف ثابت کر دیا ہے۔اس کےس کا زےادہ بوجھ بےوروکرےسی کے کاندھوں پر پڑتا نظر آرہا ہے۔بظاہر اس کےس نے عثمان بزدار کو زےادہ مضبوط کر دیا ہے۔حالانکہ ےہ کےس عثمان بزدار کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔
بہر حال دوسالہ دور اقتدار مےں عثمان بزدار نے کئی اتار چڑھاﺅ دےکھ لئے ہےں۔ وہ بلےک مےلنگ اور الزام تراشیوں کو سمجھ چکے ہےں۔اپنے اختےارات کو سمجھ گئے ہےں،بےوروکرےسی مےں اپنا اثرورسوخ بنا چکے ہےں۔جنوبی پنجاب سےکرٹرےٹ کو قائم کر چکے ہےں۔اب عوامی سطح پر ان کا اپنا امےج بن چکا ہے۔ان کی اپنی شناخت اور جگہ بن چکی ہے۔اسلئے ان پر تنقید کرنے والوں کواپنے رویے پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔عثمان بزدار نے اپنی اہلیت اور کارکردگی سے اپنے ناقدین کو شرمندہ کر دیا ہے۔سےاسی مخالفین ان کا مذاق اڑا تے ہےں تا کہ شہباز شریف کو پنجاب کا نجات دہندہ پےش کیا جا سکے۔عثمان بزدار اےک نےا نام،گمنام چہرہ تھا اور پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں،غےر تجربہ کاراور محدود علاقے مےں سےاست کرتے تھے،جب انہےں صوبے کا چیف منسٹر بناےا گےا تو انہےں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو گا،انہےں گرومنگ کا مسئلہ رہا ہو گا۔لےکن ان دوسالوں مےں عمران خان کی سپورٹ اور اعتماد کی وجہ سے چیف منسٹر مضبوط پوزیشن مےں آ چکے ہےں۔
مےرا”گمان“ ہے کہ جب تمام مسائل اور نےا چہرہ ہونے کے باوجود عثمان بزدار نے اپنا کِلہ مضبوط کر لیا ہے،اب تو ان کی پوزیشن با اعتماد ہے ،اب ان پر تنقید بھی کم ہو گئی ہے،اس لئے مےں سمجھتا ہوں بزدار صاحب کو ترقےاتی کاموں پر توجہ دےنی چاہیے۔خاص طور پر جنوبی پنجاب کی پسماندگی پر توجہ دےنا ہو گی۔اس خطے کی سب سے بڑی سڑک اےم اےم روڈ کی فوری تعمیر کا آغاز کرنا چاہئے،موٹروے سے اتر کر بلکسر،تلہ گنگ،میانوا لی اور مظفر گڑھ ،ملتان تک عوام شدید ذہنی،جانی اور مالی پرےشانیوں کا شکار ہےں۔انہےں موٹروے کی متبادل اےک بڑی سڑک اس علاقے کے لوگوں کا حق ہے جس کو اےک عرصے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔چیف منسٹر نے اگر اپنے عوام اور علاقے کی ترقی و خوشحالی پر توجہ مرکوز رکھی تو خود کو سازشوں اور تنقید سے بالاتر کرنے مےں کامےاب ہو جائےں گے۔کھل کر کھےلنے کا حوصلہ کر پائےں گے۔پھر ہم بھی پوچھےں گے ےہ تنقید کیوں؟
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved