تازہ تر ین

اسلاموفوبیا کا شکار مغربی معاشرہ

عارف بہار
مغرب میں ایک بار پھر اسلامو فوبیا کا جن بو تل سے باہر آکر چہار سو دندناتا پھرتا ہے ۔ایک رائے تو یہ ہے کہ مغرب میں یہ جن کبھی بوتل میں بند ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچانے کےلئے ہمیشہ آزاد رہا ۔فرق صر ف یہ ہے کہ کبھی اس کی تشہیر ہوتی رہی تو کبھی اس پر اخفاءکا پردہ پڑ ا ہے۔یہ پردہ سرک جائے تو مغرب کا اسلامو فوبیا برہنہ حالت میں دنیا کے سامنے آتا ہے۔ نائن الیون کے بعد اس عارضے نے ایک وباءکی شکل اختیار کرلی کیونکہ اسلام کو بدنام کرنا اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ بریکٹ کرنا مغرب کی ریاستی پالیسی بن گئی ۔اگر یہ ریاستی پالیسی نہیں بھی تھی تو حکومتوں نے جم کر اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے لئے ان کے پاس آزادی ¿ اظہار کا گھڑا گھڑایا بہانہ موجود تھا ۔اسلامک ٹیررسٹ اور مسلم ٹیررسٹ کی جو اصطلاحات نائن الیون کے بعد مغربی میڈیا نے بے دردی سے استعمال کیں اس نے اسلامو فوبیا کے اثرات مغربی ذہنوں میں پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔نائن الیون کے فوراََ بعد جن مغربی ملکوں میں مسلمان آبادی کے بڑھنے پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے ان میں اسلاموفوبیا کو ایک منظم انداز میں ہوا دی دی گئی ۔فرانس ان میں سرفہرست تھا جہاں الجزائری مسلمان بہت تیزی سے ریاست میں سرایت کررہے تھے ۔الجزائر چونکہ فرانس کا غلام رہا تھا اس لئے دونوں معاشروں میں قریبی ربط وتعلق مدتوں قائم رہا۔اسی تعلق کی وجہ سے فرانسیسی معاشرے پر الجزائری نژاد باشندوں کا اثر رسوخ بڑھتا جارہا تھا ۔نائن الیون کے بعد ایک مصری نژاد یہودی دانشور خاتون نے امریکی اخبار میں لکھے گئے ایک طویل مضمون میں یورپ کے یوریبیا یعنی عرب کلچر کے غلبے کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا ۔ اس خاتون نے خبردار کیا تھا کہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یورپی باشندے مسلمان حاکموں کے ”ذمی “ بننے اور انہیں ” جزیہ“ دینے کی تیاری شروع کردیں۔
مغربی میڈیا میں یہ سوچ شدت سے اُبھری کہ اگر عرب اورمسلمان دنیا سے آبادی کا انخلاءاسی انداز سے جاری رہا تو یورپ کچھ عرصہ بعد مسلمان اکثریتی معاشرہ بن جائے گا اور اس کا مطلب مغرب سے فرد کی آزادی ،ترقی ،روشن خیالی ،معاشی خودکفالت سمیت ایک پورے کلچر کا خاتمہ ہوگا۔اس انداز کی ذہن سازی نے مغرب میں جنونیوں کی ایک فوج تیار کر لی ہے ۔ آزادی اظہار کی جو نیلم پری مغرب نے ہولو کاسٹ سمیت بہت سے معاملات میں خود مغرب نے مقید اور محدود کر رکھی ہے اس کو مسلمانوں کے آنگن میں رقص کرانے پر اصرار کیا جاتا ہے ۔چند دن قبل ڈنمارک میں ایک سفید فام فاشسٹ نے بھرے بازار میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا ۔ اس واقعہ کی وائرل ہونے والی وڈیو کودیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ سفید فام جنونی پورے اطمینان سے ایک پبلک مقام پر آیا قرآن پاک کو زمین پر رکھا تیل چھڑک کر آگ لگائی اور اس دوران وہ مسلمانوں ، اسلام اور پیغمبر اسلام کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا(نعوذ باللہ) ۔قریب کھڑے کچھ لوگ اس سے بحث کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر سفید فام شخص اپنے حلیے اور رویے سے پاگل اورخوں خوار دکھائی دیتا تھا۔ ویڈیو میںصاف نظر آرہا ہے کہ اس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں نے اس سے بحث تک محدود رہنے میں ہی عافیت محسوس کی۔اب بدنام زمانہ فرانسیسی میگزین ”چارلی ہیبڈو “ نے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کرنا شروع کئے ہیں۔چارلی ہیبڈو نے2015ءمیں گستاخانہ خاکے جاری کئے تھے جس پر عالمگیر سطح پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا ۔اس مذموم حرکت نے مسلمانوں کو غصے اور اشتعال سے بھر دیا تھا اور اسکے نتیجے میں میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا تھا جس میں کچھ کارٹونسٹس سمیت بار ہ افراد مارے گئے تھے ۔اس کے کچھ ہی دیر بعد پیرس میں ایک اور حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان حملوں کے الزام میں فرانسیسی حکومت نے جن افراد کو گرفتار کر رکھا ہے ان کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہونے کے موقع پر میگزین نے پرانے خاکے دوبارہ شائع کیے ہیں۔کیپشن میں لکھا گیا ہے ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔یہ خاکے 2005ءمیںسب سے پہلے ڈینش اخبار گیلینڈ پوسٹن نے شائع کئے تھے ۔ایک سال بعد یہی خاکے فرانسیسی اخبار نے بھی شائع کئے اوراب برسوں بعد یہ خاکے دوبارہ شائع کئے جارہے ہیں۔مغرب میں یہ سب کچھ آزادی¿ اظہار اور آزادی¿ صحافت کے نام پر ہو رہا ہے۔اسی لئے وہاں کے قوانین بھی ان مذموم حرکات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور حکومتیں اپنی بے بسی کا رونا روتی ہیں۔
حقیقت میں یہ آزادی ¿ اظہار کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کو چھیڑنے اس کی توہین کرنے اور اسے ردعمل اور غصے کا شکار بنا کر فساد پیدا کرنے کی منظم اور سوچی سمجھی سکیم ہے۔جس کا پہلا مقصد سکتے کے مریض کا امتحان لینے کے لئے اس کے منہ پر آئینہ رکھنے جیسا ہے ۔آئینہ اگر دھندلا ہوجائے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ سانس چل رہی ہے اور مریض میں زندگی کی رمق باقی ہے ۔اس طرح کے آثار نظر نہ آنا مریض کی موت واقع ہوجانے کا اعلان ہوتا ہے ۔ مغربی محققین اور مشترقین بخوبی جانتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں پیغمبر اسلام کا مقام کیا ہے اور مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کا معیار کیا ہے ؟ عقیدت اور محبت کے اس فلک بوس مینار پر وقفوں سے سنگ باری کرکے حقیقت میںیہ امتحان لیتے ہیں کہ مسلمان معاشرہ غیرت ایمانی کے کس مقام اور معیار پر موجود ہے ۔یہ وہ معاشرہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ،خدا کا بیٹا اور نجانے کیا کچھ بھی کہتا ہے مگر فلموں میں ان کامذاق اُڑا کر اہانت رسول و پیغمبر کا ارتکاب بھی کرتا ہے(نعوذ باللہ) اور اس قبیح فعل کو آزادیوں کے پردے کے پیچھے چھپاتا ہے ۔یوں توایسے معاشرے سے گلہ گزاری بے سود ہے مگر معاملہ غیرت و حمیت کا ہو تو پھر ردعمل دکھانالازمی ہوتا ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے مغربی معاشرہ اور نام نہاد دانشور طبقہ حقیقت میںجہاں ایک طرف مسلمانوں کی غیرت وحمیت کا امتحان لیتا ہے وہیں مغربی معاشروں میں اسلام کے پھیلاﺅ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے ۔یہ ایک منظم مہم ہے اور اس کے پیچھے سفید فام فاشسٹ رویے اور صلیبی جنگوں کی یادیں ہیں ۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اس ذہنیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اسی عالمی فورم پر نفرت کی ان لہروںکو کنٹرول کرنے کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک سال ہوگیا یہ ذہن پوری طرح دندناتا پھر رہا ہے ۔اس مفتن اور مفسد ذہن کا مقابلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سطح پر قوانین کی تیاری اور عمل درآمد کی پالیسی بننا لازمی ہے وگرنہ یہ جنونیت دنیا کو یونہی مضطرب اور فساد کا شکار کرتی رہے گی۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved