تازہ تر ین

نوازشریف کب واپس آئیں گے؟

کامران گورائیہ
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے برطانوی شہر لندن میں قیام پذیر ہیں جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ پاکستان میں عدم موجودگی کے باوجود وہ اپنے سیاسی مخالفین کے حواس پر طرح سے چھائے ہوئے ہیں ۔ ان کی چہل قدمی کرتے یا کسی ریسٹورنٹ میں کافی یا چائے پیتے ہوئے بنائی گئی ایک تصویر ملکی سیاست میں ایسی ہلچل پیدا کردیتی ہے کہ حکمران جماعت اور نئے پاکستان کے دعویدار وں سمیت تمام مخالف سیاسی حلقے ان کی صحت کو متنازع بنانے کی کوششوں میں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایک نہ ختم ہونے والی بحث بھی چل نکلتی ہے۔طرح طرح کے تبصرے کئے جاتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ نوازشریف صحت یاب ہو چکے ہیں یا سرے سے بیمار ہی نہیں ہوئے تھے۔نوازشریف کب واپس آئیں گے؟دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان واپس لانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کا ر لائے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے کہ نوازشریف کو بیرون ملک جانے ہی کیوں دیا گیا۔یہ اور اسی طرح کے جملے اور بیانات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے ایک بار بار پھر میاں نوازشریف موضوع بحث ہیں،حکومتی صفوں میں خاصا اضطراب پایا جاتا ہے۔پاکستانی سیاست میں ایک ہلچل کا سا سماں بندھا ہوا ہے۔ کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرتا جس دن نوازشریف کا نام حکومتی بیانات اور پالیسی کا حصہ نہ رہتا ہو۔ ملک کے دگر گوں اور بدترین معاشی حالات کو پیش نظر رکھتے اور زمینی حقائق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے موازنہ کیا جائے تو یہ سمجھنا اور کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نواشریف ملکی سیاست کا ایک مضبوط ترین ستون ہیں۔ ان کی اہمیت اس شیر کی طرح ہے جو عمر رسیدہ ہوکر بھی جنگل کا بادشاہ کہلاتا اور سمجھا جاتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ن کے تمام مرکزی عہدیداروں نے نواز شریف کو علاج مکمل ہونے تک وطن واپس آنے سے روک دیا ہے۔ گزشتہ دنوںمسلم لیگ ن کا اجلاس شہبازشریف کی رہائشگاہ پر ہوا جس میں نوازشریف کی صحت کا یک نکاتی ایجنڈا زیر بحث رہا۔ اجلاس میں خواجہ آصف، رانا تنویر، احسن اقبال، رانا ثنااللہ خان، ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق سمیت اہم رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے تمام صوبائی عہدیداران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نوازشریف نے علاج ادھورا چھوڑ کر واپس آنے کی رضامندی ظاہر کر دی جبکہ سینئر لیگی ارکان انہیں منع کرتے رہے کہ آپ ہرگز واپس نہ آئیں۔ اجلاس کے دوران نواز شریف کی واپسی پرملکی صورتحال سے واقف کوئی رکن رضا مند نہیں ہوا اور مطالبہ کیا کہ جب تک صحت یاب نہ ہوں آپ پاکستان واپس نہ آئیں۔ اجلاس کے دوران لیگی صدر شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف کو ٹیلی فون پر ملک بھر کے لیگی عہدیداران کے فیصلوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ن لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نواز شریف علیل ہیں اور وہ اپنا علاج مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آئیں گے۔ احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنماﺅں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کو درخواست کی جائے گی کہ معالجین کی اجازت ملنے تک وہ اپنا علاج جاری رکھیں اور علاج مکمل کروانے کے بعد ہی واپس آئیں۔ نواز شریف بیرون ملک گئے تو کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں علاج کی سہولتیں معطل رہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ نواز شریف کی صحت پر عدلیہ بھی ان چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھے گی۔جوں ہی ڈاکٹروں نے ان کے مکمل علاج کا سرٹیفکیٹ دیا تو وہ فوراً واپس آ جائیں گے۔ نواز شریف کی غیرموجودگی میں ان کے مقدمات کی قانونی پیروی جاری رہ سکتی ہے۔ پارٹی کی متفقہ رائے سے یہ فیصلہ کر کے نواز شریف کو اپنا علاج مکمل کروانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔نواز شریف کی صحت و زندگی کا فیصلہ ٹی وی شوز میں نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت علاج کے لئے ملی تھی۔انہوں نے کہاکہ اے پی سی کے حوالے سے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں مسلم لیگ ن کی تجاویز پر دوبارہ اجلاس ہو گا۔ہم اس حکومت کو اتنا موقع دینا چاہتے ہیں کہ عوام ان حکمرانوں کی اصلیت دیکھ لیں۔ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کو درخواست کی جائے گی کہ معالجین کی اجازت ملنے تک وہ اپنا علاج جاری رکھیں اور علاج مکمل کروانے کے بعد ہی واپس آئیں۔مسلم لیگ ( ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑکر قانون کی عملدرای کے لئے وطن واپس آئے تھے، جوں ہی ڈاکٹروں نے ان کے مکمل علاج کا سرٹیفکیٹ دیا تو وہ فورا واپس آ جائیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کے علاج کی رپورٹس عدالت میں جمع کروا دی گئی ہیں اور آئندہ بھی کروا دی جائیں گی۔ آج عوام کو حکومت کی اصلیت پتہ چل گئی ہے۔
موجودہ حالات کو نظر میں رکھاجائے تو یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ نوازشریف پر قدرت ابھی مہربان ہے،یہ ان کی سیاسی طاقت کی کرشمہ سازی ہی تو ہے کہ وہ ملک سے دور رہ کر بھی اپنے سیاسی مخالفین کے حواس پر چھائے ہوئے ہیں جبکہ اپنے سیاسی رفقا اور کارکنان کے دلوں کی دھڑکن بھی تصور کئے جاتے ہیں۔نوازشریف کے سیاسی مخالفین کے دلوں کی دھڑکنیں تو ان کی محض ایک تصویری جھلک دیکھ کر بے ترتیب ہونے لگتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان مسلم لیگ ن ہی کو اپنی سب سے بڑی رکاوٹ اورنوازشریف کو اپنا سب سے بڑا سیاسی حریف سمجھتے ہیں۔ سیاسی آداب کا تقاضا تو یہ ہوا کرتا ہے کہ سیا سی مخالفین کو مات دینے اور اپنے عوام کے دلوں پر راج کرنے کے لئے کارکردگی دکھائی جائے۔نوازشریف کی کچھ عرصہ سے اختیار کی گئی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا جارہا ہے،اور اس حقیقت کو نظرانداز کردیا گیا ہے کہ نوازشریف کی یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے متعلق پچھلے کئی روز سے ایک بارپھر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ وہ وطن واپس آئیں گے یا نہیں؟ یہ بھی کہا رہا ہے کہ نوازشریف اگر پاکستان واپس نہ آئے تو ان کی جماعت مسلم لیگ ن دو تین یاچار چھ ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر رہ جائے گی اور اس اہم اور بڑی حقیقی سیاسی قوت کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔لیکن کچھ ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں جن کا مطلب نوازشریف کی ملک میں یقینی واپسی نکلتا ہے۔اور اب تو یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ نوازشریف وطن واپس بھی آئیں گے اور ان کی جماعت کسی قسم کے انتشار کا شکار بھی نہیں ہوگی۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا ووٹ بینک اتنازیادہ اور وسیع ہے کہ انھیں وطن واپس آنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی جبکہ اس ملک کے عوام بھی نوازشریف کے میگا پراجیکٹس اور ترقیاتی منصوبوں کو یاد کرکے ان کی جلد ازجلد واپسی کےلئے دعا گو ہیں۔قدرت کئی بار میاں نواز شریف پر مہربان ہوتی واضح نظر آئی ہے ۔ پرویز مشرف کے دور میں جب انہیں جلا وطن کر دیا گیا تو نواز مخالف قوتوں کا یہی کہنا تھا کہ ان کی سیاست ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئی ہے اور اب وہ کبھی وطن واپس نہیں آئیں گے لیکن وہ نہ صرف واپس آئے بلکہ تیسری بار ملک کے وزیراعظم بھی بنے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved