تازہ تر ین

سینیٹ و بلدیاتی انتخابات، پیچیدگیاں دور کی جائیں

کنور محمد دلشاد
سینٹ کے انتخابات اب تک خفیہ رائے شماری کے تحت ہوتے رہے ہیں،تاہم وفاقی حکومت نے اس طریقہ کار کو تبدیل کرکے اوپن بیلٹ کا طریقہ متعارف کرانے اور اس کے لیے آئینی ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی کابینہ اس کی منظور ی دے چکی ہے۔ 1973 ءکی آئین ساز اسمبلی کے ارکان نے خفیہ رائے شماری کا طریقہ اس لئے طے کیا تھا کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان جو سینٹ انتخابات میں ووٹر ہوتے ہیں سیاسی پارٹیوں کی قیادت کے مفاد پرستانہ اثر سے آزاد ہو کر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ لیکن خفیہ رائے شماری عملًا ووٹروں کی خرید و فروخت اور یوں بازارِ سیاست میں ضمیروں کی نیلامی ، خیانت اور بدعنوانی کی ترویج و فروغ کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی۔ سینٹ کے گزشتہ انتخابات فروری 2018 ءمیں اس کے باعث نہایت حیران کن نتائج سامنے آئے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے لئے ووٹروں کی خریدوفروخت 80 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی تھی اور تحریک انصاف کی بعض خواتین ارکان نے ووٹوں کی خرید و فروخت میں حصہ لے کر عمران خان کو بھی حیرت زدہ کردیا تھا جس پر عمران خان نے جمہوری طریقے کے مطابق ان خواتین کو پارٹی سے بھی خارج کر دیا تھا۔ بطور اپوزیشن لیڈر عمران خان نے تسلیم کیا کہ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں صرف تین نشستیں رکھنے والی جماعت نے اپنے دو سینیٹرز منتخب کر وائے اور اس طرح فروری 2018 ءکے سینٹ الیکشن میں جس پارٹی کا ایک رکن بھی صوبائی اسمبلی میں نہیں تھا اس کی جانب سے بھی امیدوار لانے سے دھاندلی کی واضح نشاندہی ہوتی ہے۔ لہٰذا سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے کھیل کو دفن کرنے کے لیے نیشنل ڈیموکریٹک فاﺅنڈیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں قانونی پٹیشن اپنے وکیل محمد باقر ایڈووکیٹ کے ذریعے داخل کرائی اور مارچ 2018 ءسے کیس کی سماعت وقفے وقفے سے جاری ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی میرے نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔
قانون سازی کے ماہرین کے لیے یہ بتاتا چلوں کہ جب فروری 2009 ءمیں سینٹ کے الیکشن میں ریکارڈ توڑ ہارس ٹریڈنگ دیکھنے میں آئی تو میں نے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق کی منظوری سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو 11 مارچ 2009 ءکو الیکشن کمیشن کی سفارشات پیش کیں کہ سینیٹ کے انتخابات کو خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹ کا طریقہ متعارف کراتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کی جائے اور سینٹ کے ارکان کا انتخاب وزیراعظم اور وزیر اعلی کے انتخابات کی طرز پر عوام میں ڈویژن کے ذریعے کروایا جائے۔ اس وقت کے وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان اور صدر آصف علی زرداری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے موقف کی تائید کی تھی۔ صدر آصف علی زرداری کی یہ آرا ءریکارڈ پر ہےں کہ سینیٹ انتخابات میں سودے بازی ختم کرکے شو آف ہینڈ کا طریقہ رائج کیا جانا چاہئے اور میں نے بطور وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان جواصلاحات کی رپورٹ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی،صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوائی تھی اب بھی یقینا الیکشن کمیشن میں محفوظ ہوگی لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ضمیروں کی نیلامی کے راستے کھولنے والے طریقے کو تبدیل کرکے سیاسی کرپشن کے ایک بڑے دروازے کو بند نہ کیا جا سکے ۔ حکومت نے سینیٹ کے انتخابات کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا جو فارمولا وضع کیا ہے اس کے مطابق سینیٹ کے بیلٹ پیپرز پر ووٹرز کے نام درج ہوں گے اور اس کے آگے امیدوار کا نام ہوگا اور ووٹر کو لازمی طور پر پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینا ہوگا۔ میری رائے میں یہ طریقہ کار بین الاقوامی جمہوری اقدار کے خلاف اور مضحکہ خیز ہے ۔میری تجویز ہے کہ سینیٹ کے ارکان کے انتخابات کے لیے وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے جو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے انتخابات کے لیے آئین میں درج ہے ۔سیاسی جماعتوں میں ماہرین کی کمی نہیں ہے لہٰذا آسان طریقہ اختیار کرتے ہوئے سیاسی ماحول کو خیانت سے پاک کرنے کی جانب نتیجہ خیز پیش رفت ممکن بنائی جائے۔
اب کچھ ذکر پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کا ، نئے بلدیاتی ایکٹ 2019 ءکے تحت پنجاب کے شہروں میں یونین کونسل جبکہ دیہات میں تحصیلوں اور دیہی کونسلوں کے قیام کے لیے انتخابات کا پہلا مرحلہ نومبر دسمبر میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مشینری فعال ہوچکی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تمام قانونی مرحلے 25 اکتوبر 2020 ءتک مکمل ہو جائیں گے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی کسوٹی صحت مند با اختیار بلدیاتی ادارے ہوا کرتے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے ستر برسوں میں سب سے زیادہ تجربات بلدیاتی اداروں پر ہی کیے گئے۔ یہ ادارے طویل دورانیے کے لیے معطل بھی رہے جب کہ بحالی کے زمانے میں بھی سیاسی مداخلت نے انہیں کامیابی سے چلنے نہیں دیا۔ بلدیاتی سسٹم میں استحکام نہ ہونے کا نتیجہ یہ رہا کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں شہری پینے کے صاف پانی سے لے کر صحت و صفائی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ کھیلوں کے میدانوں سے لے کر عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کا فقدان بھی دیکھنے میں آیا۔ اسی پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے متذکرہ سہولتوں کی گراس روٹ لیول تک فراہمی کی غرض سے یہ نظام متعارف کروایا ہے ۔اس کے تحت صوبے کے بجٹ کا تینتیس (33) فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو ملے گا جو خوش آئند ہے ۔تاہم اس کا موثر نفاذ وزیراعظم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ جو زمام اقتدار بلدیاتی اداروں کے انتخابات اور طریقہ کار کو ضع کر رہے ہیں ان بیوروکریٹس پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ الیکشن کمیشن آئینی و قانونی طور پر غیر جانبدار ہے لیکن پنجاب حکومت میں وزیر اعلیٰ کے ترجمان اور وزراءلوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءکی جو تشریح کر رہے ہیں اس سے ابہام پیدا ہو رہا ہے ۔ پنجاب حکومت نے دو الگ الگ قانون متعارف کرائے ہیں جن کی رو سے ایک مقامی حکومتوں کے بارے میں اور دوسرا ویلیج پنچایت اور اور نیبر ہڈکونسلوں کے بارے میں ہے ، جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ خیبرپختونخواہ میں ایک ہی منظم نظام ہے جہاں مقامی حکومتیں ہیں اور ویلج و نیبر ہڈ کونسلیں ہیں جو باہم مربوط ہیں۔ ایک نیا تصور تحصیل کونسل کا متعارف کرایا گیا ہے جسے سٹی کونسل کہیں گے ،مگر یہ بھی پرانے نظام میں نیا اضافہ ہے۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءآئین میں وضع کردہ ہدایات آرٹیکل 140 اے کے برعکس معلوم ہوتا ہے جو صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ ایسی مقامی حکومتوں کو قائم کریں جس میں منتخب نمائندے ہوں اور آرٹیکل 32 کے تحت ان لوکل حکومتوں کو مکمل سیاسی ،مالیاتی اور انتظامی اختیارات منتقل کریں۔پنچایت ، نیبرہڈ والے قانون میں مقامی حکومت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے کیونکہ مقامی حکومت کا لفظ استعمال کیا جائے تو پھر 140 اے کے تحت صوبوں کو اختیارات مل جاتا ہے ۔ موجودہ حالت میں شاید وفاق مستقبل میں اس طرح کا کوئی وفاقی قانون بنانے کا ارادہ رکھتا ہو۔بہر کیف یہ دونوں قوانین ایک دوسرے سے مکمل مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ دونوں قانون حکومتی اور ریاستی اداروں کے اختیارات کی بالادستی نمایاں کرتے ہیں۔ کنٹرول، بالا دستی، نگرانی اور برخاستگی و معطلی کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور حکومت کا یہ اختیار شرائط سے بالاتر ہے۔ حکومت کے پاس اختیار ہوگا کہ مقامی حکومتوں کو ہدایات اور نگرانی کے لیے جوائنٹ اتھارٹی قائم کرے جس میں پبلک سرونٹ اور منتخب نمائندے شامل ہوں ۔
نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم ماضی کے ماڈلوں کا چربہ بھی لگتا ہے البتہ چند پہلو نئے ہیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن ،میونسپل کارپوریشن ،میونسپل کمیٹیاں،قانون کمیٹیاں، تحصیل کونسلیں ماضی کے مختلف ماڈل میں بھی رہی ہیں جو نئے ماڈل میں بھی موجود ہیں۔ ماضی کے تمام ماڈلوں میں دیہی آبادی کے لیے ضلع کونسلیں اور صدر پرویز مشرف کے ماڈل میں ضلعی حکومت کا تصور موجود تھا۔ پنجاب ویلیج پنچایت اینڈ نیبرہڈ کونسل ایکٹ 2019 ءکے تحت پنجاب بھر میں دیہی علاقوں میں ویلیج پنچائیت اور شہری علاقوں میں نیبرہڈ کونسل متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہیں مقامی حکومت نہیں کہا گیا ،ان کا کوئی قانونی اور تنظیمی تعلق مقامی حکومتوں کے ساتھ ہوگا ، الیکشن ایکٹ 2017 ءمیں بھی اس کا تصور موجود نہیں ہے اور مئیرکے براہ راست انتخابات کے لیے بھی وفاقی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کرنا ہونگی۔ یہ بالکل نیا تجربہ ہے اور انڈیا کے لوکل گورنمنٹ سسٹم سے ملتا جلتا ہے جہاں پنچایتی راج آئین کے تحت ہے اور مقامی حکومتیں سٹیٹ قوانین کے تحت ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ اپوزیشن اس تاک میں ہے کہ نومبر اکتوبر 2020 ءمیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءکو عدالتوں میں چیلنج کر کے انتخابات ملتوی کروادیے جائیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا موقف ہے کہ انتخابات سے قبل آئینی و قانونی پیچیدگیاں دور کی جائیں ۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved