تازہ تر ین

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

شفقت اللہ مشتاق
یوں تو کائنات حق گو اور بے باک لوگوں کے خون سے کلی طور پر رنگین اور عبارت ہے لیکن خونِ حسینؓ نے اس رنگ کو اتنا گہرا کر دیا ہے کہ اس کو جو بھی دیکھتا ہے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتا ہے۔ یہ رونا بے بسی کا رونا ہے، اس بے بسی کا جو کربلا کے حسینؓ کے سامنے لمحہ بھر کےلئے بھی نہ ٹھہر سکی۔ اگرچہ بظاہر عارضی طور پر یزیدی قوتیں تنومند ہو گئیں اور انسانیت عورتوں کی طرح بین کرنے لگ گئی ۔ فضامیں ہرروز ایک آواز گونجتی ہے کہ یہ انسانیت کس کام پہ لگ گئی ہے کبھی تو اس کی غیرت جاگے گی اور یہ اسلام کے پلو سے اپنے آنسو پونچھے گی ،ا تنے میں اس کا خون جوش مارے گا اور وہ خونِ حسینؓ کا بدلہ لینے انسانیت کے دروازے پر پہنچ جائے گی۔ انسانیت، انسانیت کے دروازے پر۔ پھر تڑ تڑ دروازے ٹوٹیں گے، حسینی اور یزیدی قوتوں کا آمنا سامنا ہوگا لیکن اس میدان کار زار میں یہ فیصلہ ضرور ہو گا کہ کون حسینؓ کے ساتھ ہے اور کون یزید کے ساتھ۔ مصلحتوں کے دروازے مکمل طور پربند ہوتے ہیں تب جا کے ظلم کی رات ختم اور حسینی سحر طلوع ہوتی ہے لیکن اس کےلئے ابھی تک انسانیت تیار نہیں ہوئی۔
حسینؓ استعارہ ہےں حوصلے کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں عزم و استقلال کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں عہد و وفا کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں صبر و رضا کا۔ حسینؓ استعارہ ہیں وارثِ علومِ مرتضیؓ و مصطفی کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں محافظ عز وآبا کا اور حسینؓ استعارہ ہےں معرکہ کرب و بلا کا۔ یونہی تو انسانیت حسینؓ پر نازنہیں کرتی۔ یقینا مٹائے جانے والے مٹا نہیں کرتے بلکہ مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں۔اُس وقت یزید کو متفقہ طور پر بلا شرکت غیر خلیفہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رب کے بندے غیرکی بات کیسے سن سکتے ہیں وہ تو ایک کے ہیں اور ایک کی ہی بات سنتے ہیں اوراسی نے خلیفہ کا ایک معیارخود قائم کردیا تھا۔لہٰذا اسی ایک کے ماننے والے اس معیار کو برقرار رکھنے کےلئے کربلا تک بھی جا سکتے ہیں اور ہر چیز لٹا بھی سکتے ہیں۔ ہر چیز کی قربانی اور وہ بھی اتنی بڑی قربانی آخر کیوں؟ ایک کے سامنے ایک ایک ہو کر پیش ہونا ہے اور اس مینڈیٹ کا حساب دینا ہے جو مینڈیٹ انسان کو دنیا میں دے کر بھیجا گیا تھا۔
حضرت امام حسینؓ کے ہاں بہت بڑا مینڈیٹ تھا۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے گھر پیدا ہونے والے بچے حسینؓ کی مبارکبادیں تونبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں سے بھجوائی گئی تھیں اور اس بچے کا نام اللہ تعالی نے خود رکھا تھا۔ شادیانے ملائکہ نے بجائے اور عرش اور فرش پر چراغاں کا اہتمام کیا گیا اور تعلیم وتربیت اللہ تعالی کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کی گئی۔ آخر یہ سب کچھ کرنے کا کوئی تو مقصد تھا۔ اللہ پاک کے ہر کام میں حکمت ہے۔ پال پوس کر ایک ایسا مرد تیار کرنا مقصود تھا جو شریعت کے تحفظ کو یقینی بناتا اور اس عمل کی تکمیل کےلئے اس کو حد سے گزر جانا تھا۔ یزید فاسق و فاجر ہے اور فاسق و فاجر کے ہاتھ پر شریعت محمدی نے بیعت ممنوع کردی ہے۔ شریعت کی پاسداری حسینؓ کا مینڈیٹ تھا۔ یزیدی قوتیں مصرہیں کہ حسینؓ یزید کی بیعت کرےں تاکہ حجت تمام ہو جائے لیکن حسین ؓ ایسا خلاف شرع فعل کرنہیں سکتے کہ کل دلیل کے طور پر یہ بات پیش کی جائے کہ اگر نبی برحق کی آغوش اطہر کا پروردہ اور تربیت یافتہ اس کی بیعت کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ اس اجتہادی مسئلہ کو امام عالی مقام نے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے حل کرنا تھا۔ اسی لئے انہوں نے مدینہ چھوڑا کہ کہیں یزیدی قوتیں مدینہ کو تاخت و تاراج نہ کردیں۔ پھر مکہ چھوڑا کہ رب کے گھر میں کشت و خون نہ ہو جائے۔ پھر عرب کی ساری آبادیوں کو بچانے کےلئے کرب و بلا میں جا کر اپنا ،اپنے بچوں کا،اپنے بھائیوں کا، بھتیجے اور بھانجوں کا، عزیز و اقارب کا،اپنے دوستوں کا بلکہ اپنی ہر چیز کا خون پیش کرنا گوارہ فرما لیا لیکن شریعت کا خون نہ ہونے دیا۔ اس ساری صورتحال کا انسانیت نے تماشہ دیکھا اب آنے والی نسلوں تک انسانیت کا تماشہ دیکھا جائیگا ۔ حسینؓ کل بھی باطل کے مقابل کھڑے تھے، حسینؓ آج بھی کھڑے ہیں اور حسینؓ کل بھی کھڑے ہوںگے اور انتظار کر یںگے اندھی اور بہری انسانیت کا۔ اور یہ انتظار اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ اس انسانیت کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور یہ یقینا کھلیں گی۔ پھر تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔ حسینیت کل بھی زندہ تھی اور آج بھی زندہ ہے۔
درج بالا سطور ایسے وقت میں قلمبندکی جا رہی ہیں جب ایام محرم الحرام گزر رہے ہیں۔ امام حسینؓ کا ہر عقیدت مند اپنے اپنے انداز میں مظلوم کربلا کو پرسہ پیش کر رہا ہے، کہیں سوزو سلام کی محفلیں منعقد کی جارہی ہیں اور کہیں مجالس برپا ہو رہی ہیں اور ایام محرم اس چیز کو واضح کر رہے ہیں کہ معرکہ حق و باطل میں فتح تلوار پر خو ن کو ہی حاصل ہوئی تھی۔ تعداد میں 72لیکن عزم و ارادے اس قدر پختہ کہ کسی ایک بھی جانثار کو اندیشہ¿ خوف و ہراس لاحق نہ تھا۔ ایک مرحلے پر یوم عاشور سے ایک رات قبل جب آپ نے دانستہ چراغ گل کیا اور اپنے احباب سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ میری موت یقینی ہو چکی ہے، آپ نے اب تک میرا جو ساتھ دیا ہے اس کے نتیجے میں جنت آپ سب پر واجب ہو چکی ہے اور آپ جانا چاہیں تو بے شک جا سکتے ہیں مجھے بہرحال کسی سے کوئی گلہ نہ ہوگا۔ مگر قارئین تاریخ کربلا کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ کسی ایک بھی جانثارِ حسینؓ نے شب کی سیاہی کا سہارا نہ لیا اور چراغ کے دوبارہ روشن ہونے پر امام حسینؓ نے دیکھا کہ آپ کا کوئی ایک بھی جانثار ساتھی ساتھ چھوڑ کر نہیں گیا حالانکہ ان سب کو پتہ تھا کہ موت ہم سب پر اپنا سایہ کر چکی ہے اور صبح ہم میں سے کوئی ایک بھی شخص دنیا میں نہیں رہے گا لیکن تین دن کی بھوک پیاس اور ریگزار ِکربلا میں بے سروسامانی کا عالم کچھ بھی جانثار ان امام حسینؓ کے پائیہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکا۔ 72شہید مر کر بھی امر ہو گئے۔
(ممتاز دانشور اورمحکمہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved