تازہ تر ین

تہذیب و روایات کا زوال

محمد فاروق عزمی
دور حاضر میں مسلم امہ کی زبوں حالی اور اصل بربادی کا ایک سبب مغرب کی غلامی ، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اور بے جا پیروی بھی ہے۔ ہم نے بلا سوچے سمجھے مغرب کی ہر وہ چیز اپنا لی جو ہمیں چمکتی نظر آئی، لیکن ہر چمکتی شے سونا نہیں ہوتی۔ آج جس درد کی ٹیسیں مسلم امہ کے بدن سے اٹھ رہی ہیں۔ یہ انہی مغربی اداﺅں پر مرمٹنے کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اپنی روایات اور اپنی تہذیب کو یکسر فراموش کر دیا جس کے نتیجے میں ملنے والے درد سے اس وقت پوری امتِ مسلمہ کراہ رہی ہے۔
تہذیب اسلامی کے ساتھ ہمارا رشتہ جب تک مضبوط رہا، باطل کے ایوانوں میں مسلم روایات اور تہذیب اسلامی کے خلاف زبان کھولنا بھی آسان نہ تھا۔ اب یہ رشتہ کمزور تو ہوا سو ہوا الٹا ہم نے اپنی ہی تہذیب اور روایات کے ساتھ دشمنی اختیار کر لی۔
مسلمان کی شان تو یہ تھی کہ اس کا ہر گزرتا دن اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر ہوتا۔ مگر دردناک حقیقت یہ ہے کہ ہر نیا طلوع ہونے والا سورج ہمیں تاریکیوں اور پستیوں میں دھکیل کر غروب ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ سے وطن عزیز میں عجب ہوا چلی ہے۔ عوام الناس کی دل آزاری اور ان کے مذہبی جذبات سے کھیلنا خواص کا دل پسند مشغلہ بن گیا ہے۔ صدیوں پرانی اسلامی روایات اور تہذیب اسلامی کی بنیادوں کو کھود کر کمزور کرنے کے لئے پورا زور لگایا جا رہا ہے اور اس کے لئے تمام حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی بھی دور میں اسلامی تہذیب نے شکست نہیں کھائی، شکست اگر کھائی ہے تو مسلمان نے کھائی ہے۔ تاریخ اسلام کے سرد خانے میں رکھے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے تابوت دلِ مسلم میں ہمیشہ اس غم کو زندہ رکھیں گے کہ مسلمانوں کی ساری شان و شوکت کا زوال مسلمانوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے ہوا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک ہم نے قرآن کو سینوں سے لگائے رکھا اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنا کامل ایمان سمجھا ۔ نہ عسکری میدانوں میں مسلمان کو شکست ہوئی اور نہ علم و عرفان کی امامت اس کے ہاتھ سے گئی۔
مساجد کو اسلامی تہذیب میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ سب مسجدوں سے افضل مسجد حرام شریف(مکہ معظمہ) پھر مسجد نبوی شریف (مدینہ منورہ) پھر مسجد قدس (بیت المقدس) اور پھر مسجد قبا (مدینہ طیبہ)۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کو سب جگہوں سے زیادہ محبوب مسجد یں ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بازار ہیں۔
اب یہ میرے وطن عزیز میں کیا غضب ہو رہا ہے کہ مساجد کے تقدس کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ کس کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے؟یہ کون لوگ ہیں اور کس کی اجازت سے اپنے کیمرے اور باجے گاجے اٹھائے مسجدوں میں گھس آتے ہیں اور ناچ گانوں کی عکس بندی کرتے ہیں ایک تسلسل کے ساتھ مساجد کو اس ناپاک اور قبیح حرکتوں کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے۔ مسجد جہاں داخل ہونے کے لئے بتا دیا گیا کہ بدن اور کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے۔ کون سا پاﺅں پہلے اندر رکھنا ہے اور کون سا پاﺅں پہلے باہر نکالنا ہے ، آواز کتنی بلند رکھنی ہے ، اور آداب نشستِ و برخاست کیا ہیں۔ان مسجدوں میں جوتوں سمیت کیمرے اٹھائے عکس بندی کرنے اور مقدس مقامات کے تقدس کو پامال کرنے، اور دوران شوٹنگ مسجد کے اندر خواتین اور مردوں کے لباس تبدیل کرنے جیسے قابل مذمت اقدام کی اجازت دینے والے جان لیں کہ اگر ہم اپنی اقدار و روایات پر واپس نہیں آئے تو باطل قوتیں اسی طرح ہم پر غلبہ پاتی رہیں گی۔
کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو فیس بک اور یو ٹیوب پر مسلسل مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنی رہی ۔ محو حیرت ہوں کہ کیا ضروری ہے کہ مسجدوں کے میناروں کے سائے میں ہی رقص کیا جائے۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟اور کیوں ہو رہا ہے؟ احکام شریعت کے حصہ اول میں صفحہ پر درج ہے کہ مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیری لاتا ہے ۔ احادیث میں اس کی سخت ممانعت وارد ہے کُجا یہ کہ مساجد میں رقص کیا جائے اور گانے فلمبند کیے جائیں۔مسجد یں اللہ کا گھر ہیں اور عبادت کی جگہ ہیں۔ یہ ہر گز ہرگز پکنک پوائنٹ اور سیر گاہیں نہیں ہیں۔ لاہور کی تاریخی مساجد خصوصاً بادشاہی مسجد یا فیصل مسجد اسلام آباد اور دیگر بھی کئی مساجد بلاشبہ طرز تعمیر کی عمدہ مثال ہیں۔ مسجد قرطبہ کی طرح دیگر مشہور مساجد بھی مسلمانوں کے جمیل و جلیل ماضی کا شاہکار ہیں اور جلال و جمال اسلام کا آئینہ ہیں۔ مسلمان اس آئینے میں اپنے ماضی کا عکس دیکھ سکتا ہے لیکن ان مقدس مقامات کو تفریح گاہوں میں تبدیل ہوتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
کہتے ہیں جس قوم کا دانش ور طبقہ اپنے قول و فعل اور کردار سے غافل ہو جائے اس قوم کا زوال بہت جلد اس کی دہلیز پر دستک دینے لگتا ہے۔ جو حق کے راستے میں سرخرو ہو گا اسی کا نام زندہ رہے گا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ ارباب اختیار اس رواج پاتی ”ہوا“ کو روکیں، مساجد عبادت کی جگہ ہیں۔ یہاں فلموں اور گانوں کی عکس بندی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور آزاد خیالی کے پردے میں چھپی ان سازشوں کو پہچانیں جو ہماری نظریاتی، تہذیبی اور اسلامی روایات کے قلعوں میں نقب لگا رہی ہیں۔ ارباب اقتدار و اختیار سے گزارش ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح ہونے سے بچائیں۔ عوام الناس کی دل آزاری نہ ہونے دیں۔ لوگ بے روزگاری، مہنگائی برداشت کر لیں گے ، کر رہے ہیں لیکن ان کے عقائد سے کھیلنا ، مقدس ہستیوں کی تکذیب ، مقدس مقامات کی بے حرمتی ناقابل برداشت عوامل ہیں ۔ ٹوٹے دلوں کے مجروح آبگینوں میں پکنے والا لاوا بہہ نکلا تو سب کچھ جل کر خاکستر ہو جائے گا، وقت کو پہچانیں ورنہ وقت آپ کی ہر شناخت ختم کر دے گا۔
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کرنہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved