تازہ تر ین

کیا کرے کوئی!

ڈاکٹر نبیل چودھری
بات تو سچ ہے وہ کیا کہتے ہیں شمع کی آخری لَو تیز ہوا کرتی ہے۔ اگلے سال مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے پہلے اپوزیشن جسے ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہے وہ حکومت کا بازو مروڑنا چاہتی ہے لیکن بد قسمتی سے اس نے جو محاذ چنا ہے اس نے اسے مزید گرا کے رکھ دیا ہے۔ فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں لے رکھا ہے، اس نے جو اہداف حکومت پاکستان کو دیے ہیں اس میں منی لانڈرنگ اور دیگر انتہائی اہم قوانین بنانے کا کہا ہے، جو دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ہیں۔ذرا سوچئے کہ حکومت کو یہ بل پاس کرنا ہے جس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے اگر وہ یہ قوانین نہیں بناتاتو بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے۔ایسے موقع پر اپوزیشن کا کہنا ہے جی ہم ووٹ اس صورت میں دیں گے کہ ہمارے اوپر کرپشن چارجز ہٹا دئیے جائیں ۔
قارئین! یہ وہ الزامات اور کیسز ہیں جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اپنے ادوار میں بنائے تھے اور نیب میں چل رہے ہیں ۔نیب بھی انہی کے دور کا اور اسکے چیئرمین بھی ان دو پارٹیوں کے نامزد کردہ، کیسز بھی ایک دوسرے کے خلاف بنائے گئے اور اب چونکہ ایک تیسری طاقت جس کے بارے میں انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ وہ بر سر اقتدار آئے گی اس نے کیس واپس لینے سے انکار کیا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں ۔مزے کی بات یہ ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر قومی دولت کی واپسی کے نعرے لگانے والوں نے اب ایک دوسرے سے جپھی ڈال لی ہے ۔عمران خان نے تو الیکشن جیتا ہی احتساب کے نعرے پر ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے لوٹی ہوئی دولت سے ایک پائی بھی واپس نہیں کرائی، یہ بات بھی جھوٹ ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ دولت لوٹنے والوں کو در بدر کر دیا ۔کیا آپ کو یاد ہے جو کہا کرتے تھے کہ ہم نے رہنا ہے تم نے چلے جانا ہے ۔ اگر لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں آئی تو یہ خوشخبری کیا کم ہے کہ چھیچھڑوں کی راکھی کرنے والے ہسپتالوں میں رل رہے ہیں۔ یہ وہ واحد ٹرائکا ہے جو رل بھی گئی اور چس بھی نہیں آئی۔
یہ عمران خان ہے ، اس نے جو وعدہ کیا ہے وہ نبھا رہا ہے۔ اس کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کی لمبی لائن ہے مگر ہے کوئی جو اس کو اس کے مصمم ارادے سے باز رکھ سکے ۔پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت دو سال پورے کر چکی ۔میں سمجھتا ہوں آپ معاشی اعشاریوں کو چھوڑیے جو پاکستان کے غلے سے چوری ہو رہا تھا اللہ کے کرم سے اب اس پر کڑے پہرے ہیں ،وہ مداری جو ڈالر کو عارضی طور پر کھڑے کیا ہوا تھا وہ لندن کی شاہراہوں پر گھوم رہا ہے۔ اب تو یہ مل بیٹھ کر بین کرنے کےلئے ایک اے پی سی منانے جا رہے ہیں ۔سچ کہا ہے کسی نے کہ یہ چلے ہوئے کارتوسوں کا اجتماع ہو گا ۔ایک اے پی سی پہلے بھی ہو چکی تھی۔ لیکن 2008ءمیں ان لوگوں نے جو چیزیں طے کیں ان سے منہ موڑا۔ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کو دھوکہ دیا۔ پی ٹی آئی جو اس وقت کے پی کے میں حکومت بنا سکتی تھی اسے باہر کیا گیا ۔اس بائیکاٹ کافائدہ پیپلز پارٹی کو ملا،ا گرچہ زرداری گروپ کو اس کام میں وصیت کا سہارا لینا پڑا۔ بات لمبی ہو جائے گی لیکن یہ کہانی پھر سہی۔
اب تو ہم بات کریں گے پاکستان کو در پیش سب سے بڑے مسئلے کہ اسے اس آگ کے دریا سے کیسے نکلنا ہے؟ علی محمد خان جو پی ٹی آئی کا اصل چہرہ ہیں انہوں نے کیا خوب بات کی کہ اللہ مدد کرے گا ہم اس دریا سے کود کے پار ہوں گے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو گا اور بہت سے لوگوں کے ضمیر جاگیں گے ۔کل کلاں اگر پاکستان کسی مشکل میں پھنستا ہے تو قارئین یاد رکھئے اس کا سبب یہ تین لوگ ہوں گے جن میں فضل الرحمن، آصف زرداری اور نوز شریف ہوں گے۔ شہباز شریف کی بات نہ کیجئے وہ کبھی لیڈر نہیں رہے ،وہ ایک اچھے منیجر ضرور ہو سکتے ہیں جو کسی کمپنی کو آمرانہ انداز میں تو چلا سکتے ہیں لیکن لیڈر نہیں ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے، نواز شریف کی شخصیت ایسی ہے جو اپنے گرد لوگوں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔ مجھے بعض اوقات ماتم کرنا پڑتا ہے کہ ایک اچھا خاصا بندہ ملک دشمنوں کے ہاتھ لگ گیا ۔نام مسلم لیگ کا کام سرخوں والے، اس بندے کو پٹڑی سے اتارا گیا۔ میں نے تو جدہ میں بڑا وقت گزارا ہے ۔ہم اس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں آمریت کے دنوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرد کا جبر ادارے پر قہر کی صورت میں نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے ہمیں سکون دیا ۔کل کوئی سوچ سکتا تھا کہ کراچی کی رونقیں بحال ہوں گی ۔سیلاب، بارشیں اور ان سے ہونے والی تباہی کا ہمیں علم ہے کہ آبی گزر گاہوں پر زمین فروشوں نے پلازے کھڑے کئے۔ یہ سیلاب تو جدہ والا سیلاب ہے جو شارع تحلیہ پر موجود نہر پر فلیٹ بننے کی وجہ سے جدہ کے مکینوں پر قہر بن کر ٹوٹا تھا ۔محمد بن سلمان نے کمال کام یہ کیا کہ جدہ کے تما م سابقہ میئرز کی کٹ لگا دی، لوگوں کو عبرت ناک سزائیں دیں ۔کاش میں پاکستان میں بھی وہ دیکھوں جو محمد بن سلمان نے کیا ۔
قارئین ہم لوگ چپ رہنا سیکھ گئے ہیں۔ ہمارے ارد گرد گرد زیادتی ہو رہی ہو ہم خاموش رہتے ہیں ،بس کے اڈے پر لاوارث گٹھڑی پڑی رہتی ہے کوئی یہ سوچتا تک نہیں کہ یہ ہے کس کی اور پھر وہ جب دھماکہ کرتی ہے تو دیواروں کے ساتھ لپٹے چیتھڑے ہمارے ہی ہوتے ہیں۔ اس ملک عظیم کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی۔ یہاں لوٹنے والوں کی تصویریں ڈرائنگ روموں میں آویزاں ہوتی ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ لٹایا ہو اس کی کوئی بات نہیں کرتا ،اس کی وجہ سے نیکی کے رحجانات میں کمی ہو گئی ہے۔ مجھے کوئی بتا دے کہ کس کے ڈرائنگ روم میں میجر راجہ عزیز بھٹی، راشد منہا س ،چودھری رحمت علی، محمد علی جوہر آویزاں ہیں؟ یہ ایک سوال میرے ذہن میں مدت سے آ رہا ہے کہ کیا یہ ہمارے ہیرو وقت کے ریلے میں بہہ جائیں گے ۔اس اہم نکتے پر غور کریں۔
اب ذرا ان ٹیکنالوجسٹوں کی بات بھی کر لیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ٹیوٹا کے علی سلمان اور انجینئر افتخار کی کوششیں قابل ستائش ہیں لیکن میں شفقت محمود کی شفقت کو کہیں نہیں دیکھ رہا اور نہ فواد چودھری نظر کرم ڈال رہے ہیں ۔ایک آدھ سطر میں فواد چودھری کو سلام پیش کرنا ضروری ہے جو ایک قانون دان ہوتے ہوئے ٹیکنالوجی میں پاکستان کو آگے بڑھا رہے ہیں۔بس ایک کام کریںاسلام اوردو قومی نظریہ اس سے جڑے معاملات کو نہ چھیڑا کریں ۔یہ اس گھرانے سے ہیں جہاں سید مودددی آتے رہے جہاں ہمارے بہت ہی پیارے انکل چودھری شہباز حسین رہتے ہیں جنہیں مدینے والی سرکار کے در پر دیکھا ہے، ہم ان کے ہاتھوں میں پلے بڑھے۔ اللہ سلامت رکھے ایک محبت کی خوشبو ہے شہباز ہے جس کا نام ۔چودھری صاحب ٹیکنالوجسٹوں کی بھی سنیں ۔جب ٹیکنالوجی کے ان بنیادی ستونوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو ان کی توقیر کریں ترقی کے راستے کھولیں ،ٹیکنالوجی کونسل کو آزاد کریں ان کی بنیادی ضروروتوں کا خیال رکھنا اب چودھری صاحب کی ذمہ داری ہے۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved