تازہ تر ین

قائداعظم ؒکا تصورِ پاکستان…. (1)

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد
قوم ، ملک، جائے پیدایش اور زبان عموماً کسی گروہِ انسان کو اپنے تشخص اور وجود کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ مشرق ہو یا مغرب ، قبل اسلام کا دور ہو یا تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کے ادوار اور بعد میں آنے والے روشن خیالی ، نشاتِ ثانیہ اور انسان پرستی کے ادوار، ہرزمانے میں اقوام عالم نے اپنی شخصیت اور وجود کو ان میں سے کسی نہ کسی تصور سے وابستہ کر کے خود اپنی تعریف بطور ایک خطہ میں بسنے والے افراد کے (یونانی اقوام، افریقی اقوام ، ایشیائی اقوام) یا رنگ ونسل کی بنیاد پر (زرد اقوام ، سفید اقوام ، سیاہ اقوام)یا اپنی علاقائی زبان( انگلش ، فرنچ، جرمن، ڈچ) کی بنیاد پر اپنا تعارف کرایا۔حتی کہ بحری راستوں کو بھی ان میں سے کسی ایک تصور سے منسوب کر دیا ، مثلاً بحیرہ عرب، ساوتھ چائنا سی وغیرہ ۔
قوم پرستی اور رنگ و نسل یا کسی خطے کی بنا پر اپنی پہچان کا تصور ، اسلام کے بنیادی عالم گیریت اور الہامی دین ہونے کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مسلمان فرماں روا جنھوں نے طویل عرصے تک برصغیر پرحکومت کی ، اسلام کے دعوتی پہلو پر بہت کم توجہ دی۔تاہم اپنے اقتدار کو اقلیت میں ہونے کے باوجود تقریباً آٹھ صدی سنبھالے رکھا۔ اگر وہ دین کی اشاعت کے لیے حکمت عملی بناتے تو بہ آسانی آبادی کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہوجاتی، یا وہ اسلام کے ان اصولوں کو جو شریعت نے بیان کیے تھے، نافذ کرتے تو اسلام کے عدل اجتماعی سے متاثر ہو کر بے شمار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے لیکن بدقسمتی سے اکثر فرماں روا ، موروثی بادشاہت کے تحفظ کے علاوہ کسی اور اعلیٰ مقصد سے دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ بہرصورت مغلوں کی حکومت کے زوال اور انگریز سامراجیت کے یہاں پر غلبے کے بعد برصغیر میں جو غالب رجحانات پائے جاتے تھے،انھی میں سے ایک رجحان یہ تھا کہ انگریزی طور طریقوں کی پیروی کو اس تعبیر کے ساتھ اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ انگریز نے اکثر اچھائیاں اسلام سے ہی سیکھی ہیں، گو اسلام قبول نہیں کیا۔ ایک طبقے نے انگریز کی ہر بات کو کفر اور شرک قرار دیتے ہوئے مسلسل جہاد کی حالت کا اعلان کیا۔ ایک طبقے نے انگریز سے نجات کےلئے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کی، لیکن بہت جلد ان حضرات کو تجربات نے یہ سکھایا کہ یہ اتحاد ان کی نجات کی جگہ مقامی ہندو اکثریت کی مستقل غلامی پر جا کر ختم ہو گا۔اس لیے مسلمانوں کے دین ، تہذیب و ثقافت اور مفاد ات کے تحفظ کی صرف ایک ہی شکل ممکن ہے کہ ان کےلئے ایک آزاد خطہ وجود میں آئے ۔ یہی وہ شعور تھا، جو تصورِ پاکستان کی شکل میں دو قومی نظریہ کی صورت میں وجود میں آیا اور جس کی تعمیر میں سر سید احمد خان، علامہ محمد اقبال ، مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا مودودی اور سب سے بڑھ کر قائداعظم محمد علی جناح نے قیادت کا کردار ادا کیا۔
برصغیر میں اسلام کا تعارف محمد بن قاسم کی فتح سندھ کے علاوہ بےشمار تاجروں اور صوفیائے کرام کی مساعی جلیلہ سے ہوا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں تصوف آمیز اسلام، جو ظاہر کے مقابلے میں قلب اور داخل کی اصلاح کو فوقیت دیتا تھا، اور جو بادشاہت اور عوام کےلئے زیادہ سہولت مند تھا، رواج پا گیا ۔اس زمینی حقیقت کی بنا پر وہ علمائے کرام بھی جو اعلیٰ سیاسی شعور رکھتے تھے اور جو حاکمیت الٰہیہ کے تصور کو سمجھتے تھے، غالباً مصلحت عامہ کی بنا پر بادشاہت کی مخالفت کی جگہ نصیحت کے ذریعے اس کی اصلاح کی طرف راغب رہے ۔حضرت مجدد الف ثانیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور اور صوفیا نے بادشاہت کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ دعوتی اور اصلاحی سر گرمیوں سے نظام میں بہتری کی کوشش کی۔ اس پس منظر میں اسلام کا جو تصور برصغیر میں رواج پا یا، وہ ایک محدود مذہبیت کا تصور تھا، جو چند عبادات اور شخصی معاملات تک محدود ہو گیا ۔اسی لیے انگریز کی آمد سیاسی قیادت کی تبدیلی سے زیادہ نہیں سمجھی گئی اور برصغیر میں کم از کم مسلمانوں نے یہی سمجھا کہ جب تک ہند میں مسلمانوں کو سجدے کرنے کی اجازت ہے، ان کا دین بھی آزاد ہے ۔ وہ عبادت کی آزادی کو نہ صرف مذہبی بلکہ دینی آزادی بھی سمجھتے رہے ۔اور ایک مذہبی طبقہ ہندو کانگریس کے ساتھ مکمل تعاون کے ذریعے ہندوستانی قومیت، یا ایک قومی نظریہ کا علم بلند کیا۔ اس طرح یہ فکر برصغیر کے مسلمانوں کے ایک طبقے میں سرایت کر گئی۔اس کے برعکس علامہ محمد اقبال ، قائد اعظم اورمولانا مودودی نے دوقومی نظریہ کو تحریک پاکستان کی بنیاد بنایا ۔ علامہ اقبال نے فکری طور پر اپنے خطبات اور شاعری کے ذریعے اور خصوصاً اپنے کل ہند مسلم لیگ کے الٰہ آباد میں صدارتی خطاب میں یہ بات واضح کی کہ اسلام محض عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ مکمل نظامِ ہدایت ہے ۔ اسی طرح قائد اعظم نے1930ءکے بعد اپنے تمام خطبات اور بیانات میں ایک ہی بات کو پیش کیا کہ مسلمان اپنے دین ، اپنی ثقافت ، اپنی تاریخ ، اپنے نام وران و مشاہیر کے لحاظ سے ہندوﺅں سے بالکل مختلف ہونے کی بنا پر ہر لحاظ سے ایک مکمل اور الگ قوم ہیں، جو زمین ، رنگ اورنسل کی قید سے آزاد اور صرف اور صرف عقیدہ و ایمان کی بنا پر ایک قوم ہیں، اور ان کے دین کا تحفظ صرف اور صرف اسی شکل میں ہو سکتا ہے جب وہ آزادانہ طور پر اپنے نظام حکومت ، نظام معیشت ، نظام معاشرت، نظامِ قانون ، نظام تعلیم غرض زندگی کے تمام معاملات میں قرآن و سنت کی بنیاد پر عمل کرنے کےلئے آزاد ہوں ۔ظاہر ہے یہ عمل آزاد خطہ اور سر زمین کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے پاکستان کا وجود میں آنا، ایک منطقی ضرورت تھا ۔
تصورِ پاکستان، یعنی ایسی سرزمین کا حصول جس پر زمین کے اصل مالک کا نظام اس کی مرضی کے مطابق نافذ ہو ۔ جنگ آزادی1857ءسے بہت پہلے ،اسی وقت وجود میں آچکا تھا، جب برصغیر میں پہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ اس کی توثیق بعد میں پیش آنے والے واقعات نے کی ۔ 1857ءکی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد برصغیر کے مسلمان بڑی حد تک مایوسی کا شکار ہو گئے اور اب انھیں آسان راستہ یہی نظر آیا کہ وہ انگریز کے اقتدار کو مانتے ہوئے اپنے ذاتی فوائد کے حصول کے لیے مفاہمت کارو یہ اختیار کریں۔ جو مسلمان اس پر آمادہ نہ تھے،انھیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ان کی زمینیں، ان کے کاروبار ختم کردیے گئے اور ہندو زمینداروں نے بڑھ چڑھ کر مسلمانوں کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کرنا شروع کیا ۔بہت سے مقامات پر”داڑھی ٹیکس“ لگایا گیا۔ گائے کی قربانی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مساجد کو تاراج کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی ۔یہ سب انگریز کی سرپرستی میں ہوا اور حکومت نے اس پر کوئی گرفت نہ کی۔ انگریز سامراج نے مسلمانوں کو غلام بنانے کےلئے عسکری وانتظامی قوت کے ساتھ تعلیمی قوت کو بھی استعمال کیا اور سرکاری زبان فارسی اور عربی اور عوامی زبان اردو کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر ان تمام مسلمانوں کےلئے جو کل تک تعلیم یافتہ تھے اور حکومت کے مختلف شعبوں عدالتوں، انتظامیہ اور تعلیمی ذمہ داری ادا کر رہے تھے، ایک لمحے میں تعلیم یافتہ سے ناخواندہ میں تبدیل کردیا ۔ ہندو اس سے بہت پہلے انگریز کے ساتھ ساز باز اور تعاون کرنے میں پیش پیش تھے اور انگریزی تعلیم کو اختیار کر چکے تھے اور سرکاری مناصب کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے سرسید احمد خان نے علی گڑھ میں ایک مدرسے کا آغاز کیا، جو آگے چل کر اینگلو محمڈن اورینٹل کالج اور پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے نام سے مشہور ہوا۔ دوسری جانب ہندو 1831ءسے انگریزی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور راجا رام موہن رائے کی کوششوں سے برطانوی حکومت ان کے ساتھ کھل کر تعاون کر رہی تھی۔ تعلیم، کاروباراور پیشہ ورانہ شعبوں میں ہر طرف ہندو چھائے ہوئے تھے، خصوصا ًبیوروکریسی میں ہندو عمل دخل غیر معمولی تھا۔ انیسویں صدی میں برصغیر میں مسلمانوں کا سیاست میں کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آ رہا تھا۔اس صورتِ حال میں 1885ءمیں بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس انگریز حکمرانوں کی مشاورت اور حمایت کے ساتھ قائم ہوئی تاکہ عوامی سطح پر بھی انگریز کی حمایت حاصل کی جائے اور مسلمان جو انگریز حکومت کے رویے سے غیر مطمئن اور شاکی تھے، ان کے مقابلے میں ایک توازن پیدا کرنے والی عوامی قوت انگریز کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ انڈین کانگریس کے ذمہ داران نے کھلے عام انگریز سے اپنی وفاداری کی بنیاد پر اس تنظیم کی بنیاد رکھی۔
مسلمانوں کو جگانے والا ایک واقعہ اس دوران میں یہ پیش آیاکہ 1905ءمیں برطانوی وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے اپنی اصلاحات میں بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، ایک حصہ مشرقی بنگال اور آسام کا جس میں مسلمان اکثریت تھی اور اس کا مرکز ڈھاکاتھا ،مشرقی بنگال بعد میں مشرقی پاکستان بنااور دوسراحصہ مغربی بنگال جس کا مرکز کلکتہ تھا ۔یہ تقسیم ہندوﺅں کو گوارا نہیں ہوئی ۔انھوں نے مسلسل مہم چلا کراور حکومت میں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا۔ ان حالات نے ہر صاحب ہوش مسلمان کو یہ بات باور کروا دی کہ برصغیر میں بسنے والے قطعاً ایک قوم نہیں ہیں بلکہ یہاں صدیوں سے دو اقوام موجود رہی ہیں جن کے مفادات ،عقائد، دین، تاریخ ،ثقافت، زبان ہر چیز دوسرے سے ممتاز ہے اور کوئی بھی حکومت جس کی بنیاد محض کثرت تعداد پر ہو مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی ۔ 1906ءمیں ڈھاکہ میں نواب وقارالملک کی صدارت میں کل ہند مسلم لیگ کا قیام اسی شعور کا اظہار تھا۔ (جاری ہے )
(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved