تازہ تر ین

آئین و عدالتی فیصلوں کا احترام نہ کرتے تو گزشتہ دو تین سال کی تاریخ مختلف ہوتی، خواجہ آصف

مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ ہم میاں نواز شریف کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں، آئین، قانون اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو پچھلے دو تین سال کی تاریخ مختلف ہوتی۔

آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

عدالت کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کی جس میں سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بننے اور ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والی پارٹی کے لیڈر نے ایک ایسی مثال قائم کی جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی قابل تقلید ہو گی اور آج بھی جو فیصلہ آیا ہے نواز شریف اس کی 100فیصد تعمیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل عدالت عالیہ نے ان کو رخصت دی اور باہر جانے کی اجازت ملی، وفاقی اور صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں، میڈیکل بورڈ اور سرکاری ہسپتالوں کے ذریعے ان کی بیماری کی تشخیص کی تصدیق کی جبکہ ملک کے مایہ ناز ڈاکٹرز کی جانب سے توثیق اور تمام تر تسلی کے بعد ان کو باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ باہر جانے کے بعد نواز شریف چار پانچ ہسپتالوں میں زیر علاج رہے، جب علاج کی نوبت آئی تو کووڈ کی وجہ سے وہ نہ ہو سکا، آج بھی ان کی رپورٹس جمع کرائی گئی ہیں لیکن ہمیں عدالتی فیصلوں کا احترام ہے چاہے وہ ہمارے خلاف آئیں، ہم آئین، عدالتوں اور قانون کا احترام کرتے ہیں کیونکہ اگر ہم میں احترام کا فقدان ہوتا تو پچھلے دو تین سال کی تاریخ مختلف ہوتی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اب جو فیصلہ آیا ہم اس پر سرتسلیم خم کرتے ہیں لیکن نواز شریف صاحب کو جو بیماریاں ہیں اس کا حکومتی حلقے تمسخر اڑاتے ہیں اور اس کو وزیر اعظم کے اردگرد موجود غیرمنتخب شدہ لوگ عجیب و غریب نام دیتے ہیں کیونکہ منتخب شدہ لوگوں کی اتنی قسمت نہیں ہے کہ وہ وزیر اعظم کے اردگرد قربت حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت اور ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں غیرمنتخب شدہ لوگ مختلف ذرائع اور اپنی فنکاری کی وجہ سے حکمرانوں کے قریب ہو جاتے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے لیکن ہمارا عزم ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرمائی تو وہ قانون اور عدالتوں کا سامنا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت، آئین اور قانون کے فیصلوں کا احترام ہماری اساس ہے، ہم اپنی اساس کی نفی نہیں کر سکتے، اس اساس کی نفی کرنا اپنی سیاسی اور جمہوریت کی نفی کرنے کے برابر ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کی صورتحال ہماری تشخیص کردہ نہیں ہے، حکومت کی تشخیص کردہ ہے، انہیں ملک سے باہر مسلم لیگ ن نے نہیں بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ آج ان کے وزرا جو ناٹک اور ڈرامے کر رہے ہیں تو نواز شریف کی رپورٹ کو جھوٹا قرار دینے سے پہلے وزیر وفاقی مشیر صحت کا استعفیٰ پیش کریں جنہوں نے نواز شریف کی صحت کی تصدیق کی، صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کا استعفیٰ پیش کریں اور وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ پیش کریں جنہوں نے کابینہ کو بتایا کہ میں نے ذاتی طور پر تصدیق کی ہے کہ نواز شریف کی صحت اس قدر ابتر ہے کہ انہیں باہر بھیجنا ضروری ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved