تازہ تر ین

خفیہ ملاقاتیں!

عثمان احمد کسانہ
ایک عرصے سے ہمارے ملک کی سیاست الزامات اور ایک دوسرے کے متعلق حیران کن انکشافات کے گرد گھوم رہی ہے جس کا شائد اب آخری مرحلہ ہے کیونکہ جس رفتار سے یہ سلسلہ چل نکلا ہے اب یہ اپنے انجام کے بالکل قریب دکھائی دیتا ہے ۔ملاقات دن کی روشنی میں ہو یا رات کے اندھیرے میں ،اس کو اب اس طرح سے خفیہ رکھنا محال ہے جو آج سے چند سال پہلے تک ممکن تھا ۔ البتہ باجودیکہ سیاست میں اخلاقیات نہ ہونے کے برابر رہتی جارہی ہے پھر بھی مشورہ ہے کہ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ہر دو اطراف کے سیاسی زعما کو اس بات کی اہمیت ضرور پیش نظر رکھنی چاہئے کہ سیاستدان اگر کسی سے ملاقات کرتا ہے اور اس کی خبر نہیں بننے دینا چاہتا تو اس کی اس معصوم خواہش کا احترام ضرور کیا جانا چاہئے ، کیونکہ وقت اور مقام بدلتا ہے ملاقاتی وہی رہتے ہیں۔ آج جن لوگوں کو منت سماجت کرتے دیکھا جا رہا ہے یہ کل کو پھر اپنی پوزیشن بدل کر اقتدار کی سیڑھی تک پہنچنے کی کامیاب یا ناکام کوشش ضرور کریں گے جبکہ آج جو لوگ ملاقاتوں کو موضوع سخن بنائے ہوئے ہیںہو سکتا ہے بلکہ مجھے توسیاست و صحافت کا طالبعلم ہونے کے ناطے کامل یقین ہے کہ کل کلاں کو یہ ملاقات کا وقت مانگنے والوں کی قطار میں سر فہرست ہونگے ۔
ہماری سیاسی تاریخ میں سب سے غیر اہم موضوع یہ ہے جسے آج اتنا اہم بنا دیا گیا ہے کہ ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار پر بس یہی خبر ہے کہ کون کب کس سے ملا اور کیوں ملا اس پر پھر مفروضوں سے لیکر اندازوں اور قیافوں تک کو پورے وثوق کے ساتھ خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ خفیہ ملاقاتوں کا ایجنڈا کیا ہوتا ہے ، ان کے مقاصد کیا ہوتے ہیں اور ان کا ماحصل سوائے اس کے کیا ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کو خاموش پیغام دیا جائے یا اپنی پوزیشن واضح کی جائے ۔وطن عزیز پاکستان اپنے قیام سے لیکر اب تک اپنے ہمسایہ ممالک کی منافقت اور دشمنی کا بری طرح سے شکار ہے ۔ خاص طور پر بھارت جیسا کمینہ اور گھٹیا دشمن تو خدا کسی کو بھی نہ دے ہمیں تو اس کی ناپاک ہمسائیگی سے بھی دن رات نمٹنا پڑتا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ سیاست سیاست کھیلتے اتنا آ گے نکل جاتے ہیں کہ اپنا فائدہ تلاش کرتے کرتے دشمن کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بننے لگتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر سیاست صرف سیاستدانوں کا کام ہے تو پھر ملک کا دفاع اور اس کی اندرونی و بیرونی سلامتی بھی صرف ان ادروں کے ذمہ ہے جن کو اکثر بے جا سولات کی زد میں رکھ کر دشمن کے موقف کو تقویت دی جاتی ہے۔ایسی ہی کسی بھی صورتحال کے پیش آمدہ خطرات اور بھارت کی چالبازیوں پر پیشگی منصوبہ بندی کرنے کیلئے سیاستدانوں کا اپنے ہی ملک کے محافظوں سے مل بیٹھنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔
بہر حال سیاسی طور پر ہر روز نت نئے موضوعات تلاش کرنے والے کچھ نہ کچھ ایسا نکال لاتے ہیں کہ بازار سیاست کی گہما گہمی اور حرارت میں کمی نہ آنے پائے ۔ حالیہ ملاقاتوں کے ضمن میں یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی کہنے والوں یا اسے مہروں کی حکومت کہنے والوں نے اور کسی کو نہیں اپنے موقف کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے ،ان کے اپنے بیانیے کی خود ساختہ عمارت میں دراڑ آگئی ہے ،اب ایک ہی جماعت میں دو طرح کے نظریات کا اشکال حقیقت بن کر سامنے آیا ہے ۔ باقی اب اس ملاقاتی ہتھوڑے کو جس پر چاہے چلاتے جائیں سب ایک ایک کر کے زمین بوس ہوتے جائیں گے حالانکہ اس موقف میں اپنی جگہ بڑی طاقت ہے کہ قومی سلامتی اور ملکی مفاد کسی ایک جماعت یا ادارے سے نہیں جڑا ہوا ، وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کی خاطر کوئی بھی کسی بھی وقت کسی سے بھی مل سکتا ہے اور ملنا بھی چاہئے اس میں کوئی عیب یا ندامت نہیں ہونی چاہئے ۔ کیا اپنے ہی ملک کی سلامتی کے محافظوں سے ملاقات کرنے والے سیاستدانوں پر سوالیہ نشان لگانا دانشمندی کا تقاضا ہے ؟ ہاں البتہ سیاستدانوں یا کسی بھی باشعور شہری کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ملک کے مفاد اور اپنے ذاتی وقار کے منافی کوئی بیان بازی یا سودے بازی کرے ۔
جہاں تک تعلق ہے حکومت کا تو اسے ہر اس معاملے پر متعلقہ ادراوں کی رائے ضرور لینی چاہئے جس کی آئین اجازت دیتا ہے جبکہ اپوزیشن کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی اسی طرح آئین پاکستان کی پابند ہیں جس طرح کوئی اور ہے ۔ یہ کیا کہ اگر کسی مسئلے پر وہ اپنی رائے دینے کیلئے اکٹھے ہوں تو غصے میں سب کے لتے لے جائیں ، پبلک کے سامنے ان کا موقف اور ہو اور تنہائی میں ملنے والوں کے سامنے موقف اور ہو اس دو رنگی سے نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں ہاتھ آئے گا ۔ملک میں حکومت کرنے اور اس حکومت کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر اس کی مخالفت میں اپنا موقف دینے کے مواقع بھی کثیر ہوتے ہیں اور طریقے بھی ان گنت ۔اگر ہم محض اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین کو ہی غلط اور بددیانت ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں تو پھر رد عمل کے طور پر وہ اے پی سی بھی نہ کریں تو کیا کریں ۔ حکومت کو ابھی اپنی اداﺅں پہ خود غور کرنا ہے کہ کیا دھرا ان کا کھاتے کسی اور ادارے کے پڑ رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ چھپ چھپ کے ملنے والے بھی سیاستدان ہیں ، ان کو بے نقاب کرنے والے بھی سیاستدان ہیں اور پھر مفت کی ترجمانی کرنے کو بھی سیاستدان ہی آسانی سے میسر ہیں۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved