تازہ تر ین

دو وقت کی روٹی

لقمان اسد
پرانے وقتوں میں یہ چیزیں عام تھیں اور یقیناہمارے معاشرے کی یہ خوبصورت ترین روایات تھیں کہ گھر میں بھلے کوئی بھی چیز کھانے کے لئے تیار ہوتی سب سے پہلے اس ہمسائے کا دراوزہ کھٹکھٹایا جاتا جن کے حالات مالی طور پر بہتر نہیں ہوتے تھے۔ گھر کے بزرگ اپنے کسی بچے کو حکم صادر کرتے کہ جاو¿ بیٹا یہ کھانا فلاں ہمسائے کے گھر دے کر آو¿پتہ نہیں آج ان کے گھر کچھ کھانے کو ہے بھی سہی یا نہیں۔وہ بچہ جا کر کھانا دے آتا اور واپس جیسے ہی گھر پہنچتا والد یا والدہ بچے سے پہلا سوال یہی کرتے بیٹا کھانا پہنچا کر آگئے ہو ۔جواب ملتا جی ماں جی وہ بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دے رہے تھے۔ ان مہذب روایات کے بہت فوائد تھے دینِ اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے یہ ہمارا فریضہ ہے جبکہ اس عمل کا بڑا فائد ہ تو یہ بھی ہے کہ بچوں کے اذہان و قلوب سے دولت جمع کرنے کی حرص نکل جاتی ہے، ان کی بچپن سے یہ تربیت ہونے لگ جاتیہے کہ جو چیز بھی ہم نے اپنے پہننے اور کھانے کے لےے خرید کرنی ہے ہمارے ارد گرد رہنے والے ان افراد کابھی اس میں حصہ ہے جو ان چیزوں کے حصول و خرید کی قوت نہیں رکھتے۔
اگر پچھلے زمانے یا وقت کا آج سے موازنہ کیا جائے تو آج ہر طرف دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلو تو لمبی لمبی گاڑیوں پر نظر پڑتی ہے جن کی قیمت لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے۔ پہلے وقتوں میں انسان سادہ گھروں میں رہتے تھے اور زندگی بھی سادہ بسر کرتے تھے ان کے دل بہت نرم تھے وہ اپنی ضرورت سے زائد آمدن ضرورت مند لوگوں پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ وقت اور زمانے نے کروٹ بدلی ایک دوسرے کا دکھ سکھ مشترکہ سمجھنے والے انسان اچانک بدلنا شروع ہوگئے ۔وہ سرمایہ دار اور زمیندار جو اپنے علاقوں اور شہروں کے غربا کے پاس خود چل کر ان کا دکھ سکھ بانٹنے جاتے اب انہیں ان کا کچھ خیال نہیں ہے۔ ایسے لوگ اب بھی معاشرے میں موجود ضرور ہیں مگر بہت کم ۔گزشتہ دنوں شہر سے تھوڑا دور ایک علاقے میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک کم عمر بچہ ہوٹل پر برتن دھونے میں مصروف تھا میں اس کے قریب پہنچا دعا سلام کے بعد پوچھا کیا مجبوری ہے اتنی گرمی میں ہوٹل پر کام کیوں کر رہے ہو کیا آپ کے والد حیات نہیں ہیں؟ کہنے لگا میں اپنے والد کے ساتھ ہی تو کام کرتا ہوں۔ اتنی دیر میں بچے کے والد بھی آگئے۔ میں نے ان سے سوال کیا اس بچے کی ابھی پڑھنے کی عمر ہے اسے کیوں آپ نے اس کام پر لگا دیا ہے۔ بچے کا والد گویا ہوا کرائے کا گھر ہے مل کر مزدوری نہیں کریں گے تو دو وقت کی روٹی کیسے کھائیں گے ،جوان بچیوں کی شادی کرنی ہے ان کا جہیز اکٹھا کرنا ہے یہی سوچتا ہوں کہ بچیوں کی پہلے شادی کرلوں پھر اپنا گھر نصیب میں ہوا تو بناو¿ں گا۔ میں نے کہا کہ بیٹے کو پڑھاو¿، ہوسکتا ہے یہ اچھا پڑھنے لگ جائے اور کہیں اچھی ملازمت اسے مل جائے ۔مایوسی کے عالم میں اس نے جواب دیا ہم غریبوں کے بچوں کو نوکری کون دیتا ہے۔ ان سطور کی وساطت سے مجھے وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے یہ عرض کرنا ہے کہ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرکی ہی اگر وہ ڈیوٹی لگا دیں کہ کم از کم وہ ہر ضلع کے ایسے افراد کا تو ڈیٹا اکٹھا کریں جن کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہے اور ان کے وہ بچے جن کی عمر ابھی سکول میں جا کر زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے کی ہے وہ محنت، مشقت اور مزدوری کرنے پر مجبور ہیں حکومت اس حوالے سے اور کچھ نہیں کر سکتی محکمہ بیت المال سے تو انہیں امداد دی جاسکتی ہے۔ وطن کارڈ کے اجرا سے لے کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور موجودہ حکومت کے احساس پروگرام تک آخر یہی ایک کمزوری خامی اور ناقص پالیسی ہی کیوں چلی آرہی ہے کہ حقداروں تک یہ حکومتی امداد کیوں نہیں پہنچ پاتی۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حال ہی میں احساس پروگرام سے مستفید ہونے والے 50%افراد ایسے ہیں جو صاحبِ ثروت ہیں وزیرِ اعظم سے ملک کے غریب عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہےں کہ وہ تقریروں میں تو غریبوں کے حق میں پر اثر انداز میں بولتے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ غریبوں کے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے ۔وہ غریب جن سے موجودہ حالات اور مہنگائی نے دو وقت کی روٹی تک بھی چھین لی ہے۔ مہنگائی کا عفریت بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ اشیائے ضروریہ کے نرخ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں تو غریب کیا کھائے گا۔ دیہاڑی دار مزدور طبقہ پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ ادویات کی قیمتوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔متعلقہ ادارے، انتظامیہ اور حکومت سب کا رویہ غیر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عوامی فلاح و بہبود کی کسی کوئی پروا نہیں۔
وزیراعظم ملک میں پناہ گاہیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ قوم سے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ بھی پورا کریں۔مافیاز نے قوم کا جینا محال بنا دیا ہے، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ عام ہو رہی ہے جبکہ ایسے لگتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے۔ حکومت غریب عوام کیلئے اتنی سہولت تو میسر کردے کہ وہ دو وقت کی روٹی آرام سے کھا سکیں۔ کرپٹ مافیا خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہئے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ عوام کو دووقت کی روٹی میسر نہ آ سکی اور وہ احتجاج کیلئے نکل آئے تو حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جائیگا۔ قوم کو عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ابتک کی حکومتی کارکردگی نے انہیں مایوس کیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ انہیں تبدیلی کے نام پر بیوقوف بنایا گیا تھاکیونکہ ان کی زندگی تو پہلے سے زیادہ سخت ہو گئی ہے۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا از حد ضروری ہے۔
خوشبوو¿ں کی شاعرہ پروین شاکر نے کہا تھا ۔
پھر ایک بار تجھی سے سوال کرنا ہے
نگاہ میں تیرا منصب بحال کرنا ہے
لہو سے سینچ دیا اور پھر یہ طے پایا
اسی گلاب کو اب پامال کرنا ہے
اس ایک مرہم نوروز و لمس تازہ سے
پرانے زخموں کا بھی اندمال کرنا ہے
یہ غم ہے اور ملا ہے کسی کے در سے ہمیں
سو اس شجر کی بہت دیکھ بھال کرنا ہے
(کالم نگارسیاسی و قومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved