تازہ تر ین

سچی لگن گوہرِ مقصود ڈھونڈ لاتی ہے

اعجاز احمد بٹر
زندگی جتنے موڑ لیتی ہے یا جتنے بھی رنگ بدلتی ہے ہمیں بھی ساتھ وہی موڑ مڑنا پڑتے ہیں اور انہی رنگوں میں ڈھلنا ہوتا ہے۔ کہیں محنت و مشکلات کی دھوپ تو کہیں غم کے مہیب سائے ،کہیں آرام و سکون کی چھاﺅں تو کہیں دکھوں کے کڑے پہرے ہوتے ہیں۔ زندگی کے یہ سب حقیقی کردار ہمارے راستوں میں پڑتے ہیں ہمیں ہر موسم کی شدت کے ساتھ ان راستوں سے گذرنا ہوتا ہے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ہم عزم مصمم اور پختہ ارادوں کے ساتھ حالات کا دھارا بدل سکتے ہیں۔ کچھ معاملات نصیبوں سے وابستہ ہوتے ہیں جن کا شکوہ بھی کر لیا جائے تو کیا ہوگا ؟ لیکن محنت شاقہ سے زندگی کی تلخیوں میں کچھ نہ کچھ تو حلاوتیں گھولی جا سکتی ہیں۔ مجھے اپنے قارئین کی طرف سے مسلسل فون کالز،ای میلزاور ایس ایم ایس موصول ہورہے تھے، کہا جارہا تھا کہ میں اپنے عدالتی واقعات کو بھی قلمبند کروں ، میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ عدلیہ میں نئے آنے والے دوستوں اور قانون کے طالب علموں کےلئے قانونی موشگافیوں کو بیان کیا جائے۔ اگرچہ راقم بھی ہنوز علم کا طالب ہے تاہم مجھے اپنے قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ محنت ، لگن اور قوی ارادوں سے کامیابیوں کے زینے چڑھے جا سکتے ہیں ۔مجھے یاد ہے جب میں 1973ءمیں نامساعد حالات کے باعث قانون کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے گاﺅں سے اپنے چچا محمد صفدر( سیکشن افسر وزرات داخلہ) کے پاس اسلام آباد منتقل ہوا جن کی شفقت سرپرستی ورہنمائی مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی رہی ۔
میرے باپ نے ہجرت کی تھی میں نے نقل مکانی
اس نے ایک تاریخ لکھی تھی میں نے ایک کہانی
سفارش نہ ہونے کے باعث تین ماہ کے مختصر عرصہ میں شارٹ ہینڈ کورس کرکے رجسٹریشن آرگنائزیشن جو کہ نادرا کا پیشروادارہ تھا ۔ میں بطور کلرک ملازمت کی وہاں سے استعفیٰ دے کر وزارت داخلہ میں سٹینو کی ملازمت کی اسی دوران شبانہ روز محنت سے قانون کی تعلیم مکمل کی سیاست میں ماسٹر کیا 1982ءمیں بطور سول جج جائن کیا جہاں سے سیشن جج تک ترقی پائی۔ اس سے قبل اسلام آباد میں بطور سٹینو 9سالہ ملازمت کے دوران آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجائے تگ و دو کرتا رہا لیکن کبھی اسلام آباد سے مری یا کسی دوسرے تفریحی مقام پر جانے کی فرصت ملی نہ اس طرف دھیان ہی گیا۔ بقول رفیق سندھیلوی
یہ آسماں کے مناظر تجھے مبارک ہوں
ہماری آنکھیں دبی ہیں چٹان کے نیچے
میں بھی محنت اور مجبوریوں کی بھاری چٹان کے نیچے دبا ابھرنے کی سعی کرتا رہا مجھے یاد ہے وزرات داخلہ کی ملازمت کے دوران میری ڈیوٹی اسلحہ برانچ میں تھی۔ ایک صاحب کو لائسنس حاصل کرنے کی جلدی تھی اور وہ اس وقت مجھے پانچ ہزار روپے دینے پر آمادہ تھا تب (1974) میں وہ رقم میری کئی ماہ کی تنخواہ کے برابر تھی لیکن دل نے ایک بار بھی ان پانچ ہزار روپوں کی تمنا نہ کی، شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ کریم نے اس دیانت اور سچے جذبوں کے انعام میں مجھے اس چٹان کے نیچے سے نکال دیا ۔
محترم قارئین ! آپ نے کم کم ہی ججز کو رکشوں ، لوکل بسوں میں سفر کرتے دیکھا ہوگا لیکن اس ناچیز نے اکثر رکشوں اور لوکل بسوں کے سفر سے حظ اٹھایا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں بعض اوقات ماں جی سے بڑے بھائی کو آٹھ آنے اور مجھے چار آنے ملتے ۔میں نے ایک بار ماں جی سے پوچھا کہ ماں جی بڑے بھائی کو زیادہ پیسے اور مجھے کم کیوں تو ماں کہتی کہ ’میرا جج پتر وی تے توں ای آں ناں،( میرے جج بیٹے بھی تو آپ ہی ہو ناں )۔ ماں کم پیسے دینے پر مجھے ’جج پتر‘ جج بیٹا ۔ کہتی حالانکہ اس وقت میری عمر چھ سات سال ہوگی لیکن اللہ نے واقعی مجھے جج بنا دیا۔ یہ ایک ماں کے منہ سے نکلے الفاظ کی دعا کی صورت بارگاہ الہی میں شرف قبولیت ہے ۔ پھر جب میں جج کے عہدے پر فائز ہوا تو اللہ نے مجھے بیٹی عطا کی۔ سچ ہے بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں اللہ نے بیٹی اور جج کا عہدہ تقریبا ایک ساتھ عطا کئے۔ مجھے یاد ہے وزارت داخلہ میں سٹینو کی ملازمت کے دوران ماں مجھے دوپہر کے کھانے کےلئے ایک پراٹھا بنا دیتی جس میں اچار کی ایک ڈلی رکھی ہوتی میں دوپہر کو کنٹین کے سالن وا لے گرم پتیلے کے ساتھ پراٹھا لگا کر گرم کرتا اور اچار کی ڈلی کے ساتھ کھا لیتا اور خدا کا شکر ادا کرتا۔ کبھی حالات کا شکوہ تک نہیں کیا۔ صرف اللہ تعالی سے التجا کی دعا کی اور اللہ کی ذات مبارکہ نے مجھے عزتوں کی رفعتوں پر فائز کر دیا جس پر اللہ کی ذات پاک کاہمیشہ شکرگذار رہا ہوں کہ اللہ بڑا مہربان ہے ۔
قارئین کرام ! اس کالم میں عدلیہ کے قابل رشک و قابل عزت شعبہ سے وابستہ ہونے سے پہلے کی کچھ روداد بیان کردی ہے جس کے چیدہ چیدہ واقعات آئندہ بھی پیش کرتا رہوں گا۔ میری کوشش ہے کہ ایسے دلچسپ مگر منفرد عدالتی واقعات کو سامنے لاﺅں جن کو سن اور پڑھ کر ایک طرف قانون کے طالب علموں کی رہنمائی ہو سکے کہ یہ کس قدر مقدس پیشہ ہے۔تو دوسری طرف عام لوگوںتک بھی یہ بات پہنچائی جا سکے کہ ایک جج کسی کیس کوسنتے اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے کن چیزوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
(سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved