تازہ تر ین

نظریات ، مفادات اور خدشات

عثمان احمد کسانہ
آج کے کالم کے مندرجات کا اطلاق کسی ایک طبقہ پر کرنے کے تاثر کو میں ابتدا میں ہی زائل کیے دیتا ہوں کہ صرف سیاست ہی نہیں ہماری پوری سیاسی، معاشرتی ، ملی اور سماجی زندگی کے تمام گوشے انہی تین الفاظ کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں ۔پہلا لفظ ” نظریات “ کہننے سننے کو تو بہت حسین ، با معنی اور باوزن محسوس ہونے والا لفظ ہے مگر اس کا عملی اطلاق کہاں ہوتا ہے اس کیلئے کامل یکسوئی اور مکمل انہماک کیساتھ پورے معاشرتی ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔یہ کہہ دینا بھی مایوسی اور نادانی کے زمرے میں آتا ہے کہ ہم نظریات سے عاری قوم بنتے جا رہے ہیں ۔ ہمارا ماننا تو یہ ہے کہ ہمارا وجود اور ہمارے وطن عزیز کاتو قیام ہی ایک نظریئے کا مرہون منت ہے ۔ ہمارے ملک کا اساسی نظریہ ایک مقدس و متبرک سوچ پر مبنی ہے اور ہمارے بزرگوں نے اسی نظرئیے کو ہی اپنا رہبر و رہنما مان کر اپنا تن من دھن قربان کیا تب جا کر یہ پاک سر زمین معرض وجود میں آئی ۔پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا ہم قومی سطح پر جیسے جیسے تقسیم کے عمل کا شکار ہوتے گئے ویسے ویسے ہمارے نظریات بھی جدا جدا ہوتے گئے ۔پہلے پہل ایک دوسرے کے نظریات سے صرف اختلاف ہوتا تھا پھر کیا ہوا کہ آہستہ آہستہ برداشت کا کلچر اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہوا اور برداشت کو بزدلی سے تعبیر کیا جانے لگا ۔ سیاست میں عدم برداشت نے جو گُل کھلائے ہیں اس کااندازہ ہم آجکل ہونے والے جلسوں کی تقاریر اور پھر ان پر ہونے والے رد عمل سے بخوبی لگا سکتے ہیں ۔مذہب کی بات یہاں اس لئے نہیں کی جا سکتی کہ اس کا تعلق نظرئیے نہیں عقیدے کیساتھ ہے اور عقیدہ برداشت نہیں کیا جاتا یا تسلیم کیا جاتا ہے یا تبدیل ۔ بہر حال بات برداشت کی نہیں نظرئیے کی کرتے ہیں کہ نظریہ کسی بھی قوم کیلئے راہ عمل متعین کرتا ہے اور پھر یہی راہ آنے والی نسلوں کیلئے نشان منزل بن جایا کرتی ہے ۔ اگر ہم ایک خاندان اور گھرکے یونٹ کو ہی بنیاد بنا کر اس سے پھر مجموعی قومی مزاج کی تشکیل کی بات کریں تو یہاں بھی اجتماعیت کیساتھ انفرادیت کی اہمیت اپنی جگہ مسلم رہے گی ۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے کوسُنے ، سمجھے اور اس کو گنجائش دئیے بغیر ہم ایک اجتماعی نقطہ نظر تشکیل دے لیں ۔
اس نقطے پر میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر فرد کا اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے اور وہی اسے سب سے عزیز ہوتا ہے ۔اس فردکا تعلق کسی خاندان سے ہو ، جماعت یا گروہ سے ، فرقے اور طبقے سے ہو یا ملک و قوم سے بہر صورت اس کی تمام ترجیحات اس کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں نظریات اور مفادات کا ٹکراﺅ ہوتا ہے ۔مفاد کا ہونا یا اس کے حصول کیلئے کاوش کرنا کوئی مذموم فعل نہیں ہاں البتہ نظریات کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دینا نامناسب عمل ہے ، ایسی سوچ پر قدغن ہونی چاہیے اور ایسے طرز عمل پر سوال بھی اٹھایا جانا چاہیے۔ یہاں یہ پہلو بھی غور طلب اور قابل توجہ ہے کہ کسی ایک کا مفاد کسی دوسرے کے نقصان کی قیمت پر ہو تو ضد اور انا کی جنگ چھڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ اور جب کسی فرد واحد یا جماعت کے مفادات براہ راست ریاست کو نقصان پہنچانے والے بن جائیں تو پھر بغاوت سے لیکر غداری تک ہر طرح کے خدشات کا جنم لیناکوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ پاکستان کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی سیاسی چپقلش کے نتیجے میںپاکستانی قوم ان دنوں جس صورتحال سے دوچار ہے اس کی وضاحت کیلئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ہم نے اپنا تاریخی سفر نظریات کو بنیاد بنا کر شروع کیا تھا کہ درمیان میںاشرافیہ کے مفادات نے ایسے روڑے اٹکائے کہ پوری قوم بلا تفریق خدشات میں گھِرگئی ہے ۔ ہر کسی کو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ عام آدمی جو اپنی حیات سے جڑے کئی طرح کے مسائل نما خدشات میں جکڑا ہوا ہے وہ بے چارہ جسم و روح کا رشتہ بحال رکھنے کے چکر میں صبح سے شام جس طرح اپنی لاش کو اپنے کندھوں پہ اٹھائے پھرتاہے اس کا حال وہ جانتا ہے یا اس کا خدا ۔ چلیں عام آدمی کو اس کے حال پہ چھوڑتے ہیں یہ جو جاری سیاسی محاذآرائی نظر آتی ہے یہ بھی تو بچوں کے مستقبل کا تنازعہ ہی تو ہے ۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت قومی افق پر موجود تقریباً تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں میں ہر سطح پر اپنی آئندہ نسلوں کی بقا اور قیادت کے تحفظ کا رونا ہی تو رویا جا رہا ہے ۔ قابلیت و اہلیت کے تمام من گھڑت معیارات کو ایک طرف رکھ کے دیانتداری سے پرکھا جائے کہ کونسی قیادت ہے جس نے اپنے بعدیا اپنی جگہ پر اپنے کارکنان کیلئے کوئی جگہ چھوڑی ہو یا کارکنان کی صلاحیتوں کو نکھار کر یا ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کر کے ان کے ہاتھ اپنی جماعت کی باگ ڈور پکڑائی ہو ۔ دوسرے اور تیسرے درجے کی بات کرنے کی بجائے اعلیٰ قیادت کو یکھا جائے تو انگلیوں پر گن لیجئے کہ کس قیادت میں اتنا حوصلہ اور دم خم ہے کہ اپنے بعد کسی اور کو جگہ دے ۔
یاد رکھئے !جماعتیں نظریات پر پنپتی اورکارکنوں کی بدولت پروان چڑھتی ہیںاور بے لوث محنتی ، مخلص کارکن ہی اصل اثاثہ ہوتے ہیںجبکہ اولادیں مفادات کے تحفظ کیلئے تیار کی جاتی ہیں ۔ یہ کوئی نہ سمجھ آنے والا فلسفہ نہیں بڑی سادہ سی بات ہے کہ جہاںقیادت سے غیر مشروط وفاداری کا رواج ہو گا ، جہاں جی حضوری کا کلچر ہوگا، جہاں قائد اِبن قائد ہو گا وہاں نظریئے کی بجائے مفادات کی ہی فکر کی جائیگی ۔یہی نہیں بلکہ کسی بھی طرح کا خدشہ ظاہر کرنے والا کارکن بغاوت کے اعزازسے نواز دیا جاتا ہے ۔ سوال اٹھانے اور اصلاحات کی بات کرنے والے کو اپنے انجام کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔ اسی تسلسل کو جماعتوں کی اندرونی سیاست سے نکال کر قومی و ملکی معاملات پر پرکھ لیجئے ۔ یہ سلسلہ بہت دور تک چلتا ہے اور ہر جگہ یہی اصول کار فرما نظرآتا ہے کہ اگر آپ اپنی روایتی جدوجہد سے اچانک ہٹ کر انقلاب یا اس جیسی کسی اور نئی چیز کو مارکیٹ میں پیش کرنا چاہتے اور پھر اسے مقبول بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے سب سے پہلے موزوں ماحول اور بے داغ کردار تلاش کرنا ہوگا اور اس کیساتھ ساتھ معروضی حالات کا بھی لحاظ رکھنا ہو گا ۔ ہمارے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بالکل واضح بتا رہی ہے کہ کسی کی طاقت کو چیلنج کر کے محض غم و غصہ تو نکالا جا سکتا ہے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ نظریئے کی بات کرنے والے کو پہلے اپنا دامن مفادات کے دھبوں سے پاک کرنا چاہیے ، پھر اپنی ذات کو ہرطرح کے خدشات سے مبرا کرنا چاہئے وگرنہ بغاوت اورغداری تو لازم آتی ہی ہے الٹا انارکی پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ پھر نتیجہ کیا ہو گا اس کا اشارہ کل اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے اپنی گفتگو میں یہ کہہ کر دے دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے اور نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے ۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved