تازہ تر ین

مائنس آل !

شمع جونیجو
ڈیرن اور رابنسن اپنی کتاب “Why Nations Fail ” میں سمجھاتے ہیں کہ قوموں کے تباہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ اداروں کا کمزور یا متنازعہ ہونا ہے۔کسی بھی ملک میں اگر ادارے آپس میں تنازعات کا شکار ہوجائیں،انسٹی ٹیوشنل ہرارکی (Institutional Hierarchy)تباہ ہو تولاقانونیت بڑھنے لگتی ہے، احتساب نہیں ہورہا ہوتا،عدالتیں کمپرومائز ہو جاتی ہیں، مہنگائی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور جب مہنگائی ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو عوام میں فرسٹریشن بڑھ جاتی ہے، پھر مظاہرے اور انارکی شروع ہوجاتی ہے اور اگر جمہوریت بھی کمزور ہو توریاست کی رٹ کو چیلنج لاحق ہوجاتے ہیں کیونکہ ادارے ایک دوسرے کی بات نہیں مانتے اور یوں کولیپس کر جاتے ہیں۔اداروں کے کولیپس کرنے پر بھی ریاست غیر جانب دار نہیں ہوتیں اور یوں قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
میرے خیال میں تو پاکستان میں یہی ہورہا ہے۔ پچھلے تین سال سے ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے ۔ایسے لگ رہا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ کل کیپٹن صفدر کو جس مقدمے میں گرفتار کیا گیا اس کا مدعی خود دہشت گردی کے مقدمے میں مطلوب ہے لیکن جھوٹا مقدمہ خبر نہیں ۔ جس طرح سے بیان کیا جا رہا ہے کہ کیپٹن صفدر کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنے کےلئے ایک اعلیٰ پولیس افسر کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ انتہائی خوفناک صورتحال کی نشاندہی ہے جس پہ میں نے گزشتہ روز ایک ٹویٹ بھی کیا کہ کیا ہم مارشل لا ءکی طرف جارہے ہیں؟ کیونکہ مجھے یہ مائنس آل کی طرف جاتا نظر آرہا ہے کہ سب جائیں گے، ادارے ناکارہ ہوجائیں گے اور پھرانارکی ہوجائے گی۔عوام کا بہرحال رد عمل تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مختصر ترین مارشل لاءہوگا۔میری جب سندھ پولیس کے کچھ سینئر افسران سے بات ہوئی تو وہ نہ صرف دل برداشتہ تھے بلکہ مریم نواز کے کمرے تک پہنچنے والے اقدام پر انتہائی غصے میں بھی نظر آتے تھے۔ اداروں میں ڈائریکٹ تصادم انتشار کا باعث بن رہا ہے لیکن مین حیران ہوں کہ یہ سب کانفلکٹ impose کرنے والوں کو سمجھ میں کیوں نہیں آرہا؟
ہم کوئی بھی اسٹریٹجی سیٹ کرنے سے پہلے ٹارگٹ گولز کو مدنظر رکھتے ہیں کہ آﺅٹ کم کیا ہوگا۔ یہاں اپوزیشن کو مارنا مسئلہ نہیں ہے، یہاں عوام الگ سڑکوں پر آئی ہوئی ہے، بعض علماءبددل ہیں کہ ان کو ”وہاں بلا “کے ان کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے اور اگر عمران سے ملنے جائیں تو وہ انھیں ریاست مدینہ کا سبق پڑھانا شروع کردیتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو وہاں مستحکم صورتحال کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اور اگر عمران سے ملیں تو وہ انہیں اکنامکس سکھانا شروع کردیتا ہے۔ ایک سیاسی مخالف نے تو بپھر کے یہ بھی کہہ دیا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں بھی عمران کو سیکورٹی پڑھانے کےلئے بلایا جائے تاکہ ”انہیں “پتہ چلے کہ ملک پر کس کو مسلط کیا گیا ہے۔
مسئلہ کیا ہے ؟
میرے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی وہ کام نہیں کر رہا جس کی اسے تنخواہ مل رہی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ قانون سب کےلئے ایک نہیں ہے۔ اگر عمران خان مزار قائد پر نعرے لگائے تو ٹھیک، لیکن اگر کیپٹن صفدر نے وہی کیا تو بے حرمتی۔ اگر نواز شریف کہتا ہے کہ ادارے عمران خان کے ساتھ ہیں تو غداری ہے لیکن اگر عمران خان خود یہی کہے تووہ ایک پیج پر ہونا ہوتا ہے۔ یہ دہرا معیار ملک کو کدھر لے کر جائے گا۔ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک اہم ریاستی ادارہ کے سربراہ کا نام لیا جارہا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا نہیں دیکھا اور یہ بات خود ادارے کےلئے بھی پریشان کن ہونی چاہئے۔ میں نے 2017ءمیں پانامہ کیس کے حوالے سے’ خبریں‘ ہی میں کالم لکھا تھا کہ ادارے افراد سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔میں نے اپنے دسمبر کے ایک کالم میں لکھا تھا کہ میں نے جنرل ضیاءاور مشرف کے دور میں بھی اداروں کے خلاف نعرے نہیں سنے۔ اب جو ہورہا ہے وہ اس پوری محنت پر پانی پھیرنا ہے جو جنرل راحیل کے دور میں تھینک یو راحیل شریف کی صورت میں سامنے آئے تھی کیونکہ یہ پہلی حکومت ہے جو اپوزیشن کے ایک جملے کے جواب میں اداروں کو ملوث کرکے چار تھپڑ مار دیتی ہے اور یوں حالات خراب سے خراب تر ہوتے جار رہے ہیں۔ میاں نواز شریف پر بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا مطلب بات چیت کے دروازے بند کرنے کے مترادف تھا جس کے جواب میں میاں صاحب نے گوجرانوالہ میں ”نیا ایٹمی دھماکہ“ کر دیا ، ان کو کراچی جلسے میں روکا گیا تو چار مزید تقریریں ویسے ہی سامنے آگئی جیسے ہرکولیس ہائیڈرا کا ایک سر کاٹتا ہے تو چار اور نمودار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ آپ کتنے سر کاٹیں گے اور کتنوں کو باغی بنائیں گے۔
جنرل راحیل شریف جب تک چیف تھے تب تک کم از کم آج کل جیسا ڈیڈ لاک نہیں تھا،وہ یہاں برطانیہ تک آکے ہماری بات ضرور سنتے تھے اور اپنی بھی ”سناتے “ تھے۔ ان سالوں میں کوئی وزیر خارجہ نہ ہونے کے باوجود ”ڈو مور “ اور ”پاکستان ایک فیلڈ اسٹیٹ نہیں ہے “پر مکالمہ کیا جاتا تھا۔ میں نے کئی گوروں کو قائل بھی ہوتے دیکھا۔ روسی انسٹی ٹیوٹ جہاں سرتاج عزیز کسی سوال کا جواب دیے بغیر بھاگ لئے تھے وہیں جنرل عاصم باجوہ، عامر ریاض یا دوسرے….نہ صرف لندن کے تھنک ٹینکس میں آکر ملٹری ڈپلومیسی اور ضرب عضب پر بات کرتے تھے بلکہ ہماری تنقید پر بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیتے تھے۔ وہ دور آج کل کی بلیک اینڈ وائٹ پالیسیز سے بڑا مختلف ہے۔ جہاں پاور پلرز سے بات کرنے کےلئے انہی سے ”سرٹیفائیڈ محب وطن “ہونا ضروری ہے۔مجھے یاد ہے کہ 2015ءاور 2016ءمیں میری اپنی پی ایچ ڈی کے پروپوزل بنانے کے دوران ”ہاﺅ ٹو ری تھنک دا رول آف ملٹری ان پاور اینڈ گورننس“ پرفوج کے ایک نئے آئینی کردار پر بھی بڑی اوپن انڈیڈ بحثیں ہوئیں کہ کیا ایک نیا سوشل کانٹریکٹ ضروری ہے؟ میں نے نوٹ کیا کہ تقریباً ہر ایک کی نظر کرم عمران خان پر تھی کہ بس عمران آجائے تو ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی اور چوروں کا لوٹا ہوا پیسہ ملک واپس آجائے گا۔ مجھ جیسے کئی پولیٹکل سائنٹسٹس کےلئے اس پر اتنا وارفتہ ہوناحیران کن تھا ۔دوسرا جہاں ملکی پالیسیزکوورٹ طریقے سے چھپ کے بنائی جاتی ہیں وہاں سیدھا سیدھا اس کی لابنگ کرنا ایک غلط اسٹریٹجی تھی۔ اب تو یہ سب کچھ اتنا سامنے آچکا ہے کہ اگر میں یہ بات یہاں نہیں لکھوں گی تو کوئی اور کسی دوسری جگہ لکھ لے گا۔ریاستی اداروں کا کیا کردار ہے یہ سب کچھ میڈیا پر بھی آگیا ہے۔ یہ بھی بول رہے ہیں اور وہ بھی۔ جب سب کچھ اوپن ہوچکا ہے تو میں اپنی ہی ایک 2015ءوالی ملاقات کا احوال سناتی ہوں۔ پنڈی والے ایک پنڈت سے رائل اسکاٹ میں ایک تقریب کے دوران میں نے سوال کیا کہ کسی بھی گھوڑے پر سب کچھ داﺅ پر لگانے سے پہلے ”رسک اسیسمنٹ“بہت ضروری ہے۔آپ رسکس کو اسیس کیے بغیر اور کانسیکونسز کی پرواہ کیے بغیر ایک ایسے گھوڑے پر کیسے سب کچھ داﺅ پر لگا سکتے ہیں جو نہ پہلے کوئی ریس جیتا ہے اور نہ ہی اتنا قابل اعتبار ہے کہ اس پر عشروں کا کورب blow کر دیا جائے۔اس پنڈت نے تقریباً مذہبی ایمان کے ساتھ جواب دیا کہ ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی تعمیل کےلئے عمران ضروری ہے کیونکہ چوروں کو صرف عمران ہی پکڑ سکتا ہے۔ میں نے ان کو کہا تھا کہ عمران بہت مقبول ہے اسے organic طریقے سے آنے دیں لیکن یہ ہائبرڈ سسٹم نافذ کرنے کی ”انہیں“ بہت جلدی تھی ۔ جس کا نتیجہ ایک تباہی کی صورت میں یوں سامنے آرہا ہے کہ اکانومی ڈوب چکے ہیں اورادارے کولیپس کر رہے ہیں کیونکہ ایسے لگ رہا ہے کہ شخصیات اداروں سے زیادہ طاقتور ہوتی جارہی ہیں۔ جس طرح اکانومی کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے ، فارن پالیسی کو جس طرح سے چلایا جارہا ہے اور جس طرح سے اپوزیشن، میڈیا اور سول سوسائٹی کو دبایا جارہا ہے اس سے مجھے رابنسن کی تھیوری پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔ خدارا ایسا نہ کریں اور دس قدم آگے بڑھنے کےلئے دو قدم پیچھے ہٹ جائیں۔ پاکستان سے زیادہ کچھ اہم نہیں۔
(کالم نگارسینئر تجزیہ کارہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved