Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ریئلٹی شو ’دی چیلنج‘ سے شہرت پانے والی اداکارہ 34 برس کی عمر میں چل بسیں
    • کچا بادام‘ کی گلوکارہ انجلی اروڑا کو ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس
    • حوثی حملے، سعودی عرب کے لیے امارات، پاکستان اور بنگلا دیش کی متعدد پروازیں منسوخ
    • خیبرپختونخوا؛ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
    • کراچی میں جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈاؤن، 10 سے زائد بلدیاتی نمائندے گرفتار
    • گھنی مونچھوں والا نومولود بچہ، سوشل میڈیا صارفین حیرت میں مبتلا
    • صدر اور وزیراعظم کی انگلینڈ کے خلاف شاندار فتح پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد
    • سہ ملکی سیریز: شاداب خان کی سنچری کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے دی
    • چیف آف دی نیول اسٹاف امیچورز گالف کپ کا ٹائٹل احمد سلطان کیانی نے اپنے نام کر لیا
    • اسرائیل کا غزہ میں یونیورسٹی پر حملہ،4 شہید ، 8 زخمی اسلامی یونیورسٹی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا
    • کراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں مبینہ غیرقانونی امیگریشن کی کوشش کرنے والے مسافر ایف آئی اے کی تحویل میں۔
    • فیصل آباد:ٹریفک وارڈن غلط طریقے پر پارک کی گئی کار کو لفٹر کے ذریعے اٹھا رہا ہے۔
    • پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، روزگار کی فراہمی بڑا چیلنج بن گئی
    • گل پلازہ آتشزدگی کیس: حتمی چالان اور عمارت مسمار کرنے کی درخواست پر فیصلہ نہ ہوسکا
    • جی ٹی روڈ پر ایکسیڈنٹ گاڑی کی ٹکر سے شاہ زیب موقع پر جابحق سہالہ
    • سعودی عرب ،خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث سعودی عرب جانے والی بیشتر پروازیں منسوخ
    • راولپنڈی پولیس کی کاروائیاں 4 افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • چوآ سیدن شاہ و گرد و نواح میں کوئلے کی کان کنی کا معاملہ بنیادی سوال کو جنم دیتا
    • اٹک:منشیات فروشی اور شراب فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمان پولیس کی حراست میں ۔
    • گوجرخان میں مبینہ ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت جاری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    تحریک آزادیئ کشمیر کی جدوجہد کا تاریخی دن

    By Daily Khabrainجولائی 13, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ایس ایم رضوان
    13 جولائی کا تاریخی دن تحریک آزادی کشمیر کے ہیروز کو یاد رکھنے کے لئے منایا جاتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے بھارتی افواج کے خلاف دنیا بھر میں کشمیری سراپا احتجاج ہیں.وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے قانونی اور اخلاقی اختیار کا استعمال کرے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، مقبوضہ علاقے کو کالونی بنانے کی بھارت کی غیر قانونی مہم، اور سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں سمیت، پاکستان کے خلاف بھارت کے امن و سلامتی کے لیے خطرناک متشدد اور دشمنانہ اقدامات کی طرف مبذول کروائی ہے۔
    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھ کر بھارتی قابض فوجوں کی کشمیر میں جاری ‘سنگین صورتحال’ اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں سمیت بھارت کے ‘پاکستان کے خلاف دشمنانہ اقدامات’ سے آگاہ کیا۔تحریک آزادی کشمیرکے حوالے سے13جولائی1931ء کادن بڑی اہمیت کاحامل رہا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 22کشمیری اذان کی تکمیل کرتے کرتے جام شہادت نوش کرگئے تھے۔ بلاشبہ تاریخ میں شعائراسلام کے ساتھ محبت کایہ اپنی نوعیت کامنفردواقعہ ہے۔ 13 جولائی کے دن سری نگرجیل کے سامنے لاکھوں کامجمع تھااتنے میں اذان کاوقت ہوگیاایک نوجوان اذان کہنے کے لئے دیوار پر چڑھا ابھی اس نے اذان کاپہلا کلمہ… اللہ اکبر… اداکیا تھا کہ بھارتی فوجی نے بغیر کسی انتباہ کے نشانہ باندھ کر اس کے سینے پرگولی ماری۔ جوان گولی کھاکرنیچے گرپڑاتڑپنے لگااورجام شہادت نوش کرگیا۔پھراسی دیوار پر ایک دوسرا نوجوان اچھل کر کھڑا ہو اور پہلے نے جہاں سے اذان چھوڑی تھی اس سے آگے شروع کردی۔ فوجی نے اسے بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا اور وہ بھی شہید ہو گیا۔چنانچہ یکے بعددیگرے22لوگ شہیدہوئے لیکن برستی گولیوں اورمیدان کارزار میں بھی اذان مکمل کی۔اذان کی تکمیل کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں میں 19سال کے بچے سے لے کر75سال کے بزرگ شامل تھے۔مہاراجہ ہری سنگھ کے وزیراعظم ویک فیلڈ نے اس واقعہ کے متعلق اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ 13 جولائی کو جتنے بھی کشمیری مسلمان شہید ہوئے سب کی چھاتیوں پر زخم تھے ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا کہ جس کی پشت پر گولی لگی ہو۔
    امرواقع یہ ہے کہ ہماری آزادی میں اہل کشمیر کی قربانیاں بھی تاریخ سازہیں اب ہوایہ کہ ہم تو 1947ء کے وقت آزادی کی نعمت سے ہمکنارہوگئے لیکن کشمیری ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ کہاجائے توبے جانہ ہوگا کہ مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی قبضہ ڈوگرہ راج کا تسلسل ہے۔ڈوگرہ راج کی ابتدا 16 مارچ 1846ء کو اس وقت ہوئی تھی جب جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ نے انگریزوں سے ساز باز کر کے تاوان جنگ کے طور پر کشمیر کو اس کے باشندوں اور وسائل سمیت صرف 75 لاکھ نانک شاہی روپوں،چند بھیڑوں اور کمبلوں کے عوض خرید لیا تھا۔
    توہین قرآن مجید کے واقعہ اور گرفتاری کے بعد بغاوت کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ جموں کی ا س تحریک کے روح رواں چوہدری غلام عباس تھے تو وادی کشمیر میں اس تحریک کی قیادت میر واعظ مولانا محمد یوسف اور شیخ عبداللہ کے ہاتھ میں تھی۔ وادی کشمیر میں اس تحریک کے دوبڑے مرکز تھے یعنی جامع مسجد سری نگر اور خانقاہ معلی۔ سری نگرکی جامع مسجد کا منبر میر واعظ خاندان کے پاس تھا۔جب احتجاج اپنے عروج پر پہنچا تو مہاراجہ ہری سنگھ نے توہین قرآن کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا اور مہاراجہ کا وزیر اعظم بذات خود تحقیقات کیلئے جموں آیا۔ ویکفلڈ نے بعد از تحقیق یہ بات تسلیم کر لی کہ قرآن مجید کی توہین ہوئی ہے لیکن ویکیفیلڈ نے یہ بھی ساتھ کہہ دیاکہ قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب دانستہ نہیں کیا گیا۔ویکفیلڈ نے ایک طرف مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ وفد کی صورت میں مہاراجہ سے ملیں اور اپنے مطالبات پیش کریں دوسری طرف ویکفیلڈ نے یہ عیاری کی کہ ہندؤوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا کر کے فرقہ وارانہ فسادات شروع کروادیئے۔ بعد ازاں مہاراجہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے غیر جانبدار رہنے کا مصنوعی بھرم قائم کرنے کے لئے اعلان کردیں کہ مہاراجہ نے جس طرح ہندؤوں کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا ہے ایسے ہی وہ مسلمانوں کے وفد سے ملنا نہیں چاہتے یہ اعلان مہاراجہ کی صریحاََ جانبداری تھی۔
    بہرحال مہاراجہ کے اس اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ خانقاہ معلی میں ایک وسیع جلسے کا اہتمام کیا گیا اس جلسہ میں ایک غیر ریاستی باشندہ عبدالقدیر خان بھی موجود تھا۔عبدالقدیرخان نے سٹیج پر کھڑے ہو کر نہایت ہی غضبناک پرجوش اور مدلل قسم کی تقریر کی اس کی تقریر نے مجمع میں آگ لگادی۔جلسہ کے اختتام پر ریاستی پولیس نے عبدالقدیر خان کو گرفتار کر لیا وہ چونکہ کشمیری عوام کے حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے گرفتار ہواتھالہٰذا کشمیری عوام کو اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ عبدالقدیر پر مقدمہ چلا تو کشمیری عوام ہزاروں کی تعداد میں کاروائی سننے کے لئے جمع ہوگئے۔اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیاجس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔ ایک وقت میں 32 افراد کی شہادت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔13 جولائی کی بازگشت ریاست جموں کشمیر کے علاوہ پورے ہندوستان میں سنائی دینے لگی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب ہندوستان بھر کے مسلمان اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ 25 جولائی 1931ء کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کانفرنس طلب کی گئی جس میں حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمداقبال، خواجہ سلیم اللہ، نواب آف ڈھاکہ، مولانا ابوالکلام آزاد، خواجہ حسن نظامی، نواب سر ذولفقار علی خان،میاں نظام الدین، مولانا شوکت علی خان، مولانا عبدالمجید سالک، سید حبیب شاہ، مولانا اسماعیل غزنوی، مرزا بشیر الدین، اے آر ساغر، مولانا عبدالرحیم درد اوران جیسے بیسیوں زعماء نے شرکت کی۔ اس موقع پر کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا اور 14 اگست 1931ء کو اظہار یکجہتی کشمیر کادن منایا گیا۔ گو کہ مرزا بشیرالدین محمود کی وجہ سے کشمیر کمیٹی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس کے اثرات بہت دیرپا ثابت ہوئے اور پورے ہندوستان کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔
    ڈاکٹراسلام الدین نیاز کے بقول”اظہار یکجہتی کشمیر کی ہمہ گیری نے تحریک حریت کشمیر میں اتنی حرار ت پیدا کردی کہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی داستانِ مظلومیت ہر ذی شعور کی زبان پر آگئی۔“ 13 جولائی کے شہدا کی قربانیوں نے پہلی دفعہ مہاراجہ کو مسلمانوں کے سامنے جھکنے اور دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا اس سے پہلے ریاست میں کشمیریوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر تھی 13 جولائی کی قربانیوں کی وجہ سے انہیں زندہ انسان تسلیم کیا گیا اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ڈوگرہ راج کے ظلم کا سیاہ سورج 13 جولائی کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت غروب ہوا اورپاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر کا خطہ بھی اس دن کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کشمیری قوم 13جولائی کا دن آج بھی پورے جوش وخروش سے مناتی ہے۔اس لئے کہ ان کی آزادی کا سفر ابھی ادھورا ہے ڈوگروں کے بعد بھارتی استعمار مقبوضہ جموں کشمیر پر قابض ہے 13 جولائی کادن کشمیری قوم کے لئے سنگ میل اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتاہے۔ 13 جولائی کا تاریخی دن تحریک آزادی کشمیر کے ہیروز کو یاد رکھنے کے لئے منایا جاتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے بھارتی افواج کے خلاف دنیا بھر میں کشمیری سراپا احتجاج ہیں ……
    (کالم نگار مختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.