All posts by admin

کرنل (ر) مبشر بلا مقابلہ لاہور کے میئر منتحب …. پی ٹی آئی کے امیدوار کے کاغذات مسترد

لاہور (نیوز ڈیسک )مسلم لیگ ن کے امید وار کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید بلا مقابلہ لاہور کے میئر منتخب ہو گئے۔پاکستان تحریک انصاف کے امید وار عفیف صدیقی کے کاغذات مسترد ہو گئے جس کے بعد حکمران جماعت کے امیدوار کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید بلا مقابلہ لاہور کے میئر منتخب ہو گئے۔واضح رہے کہ راولپنڈی ،ساہیوال اور سیالکوٹ سے بھی حکمران جماعت کے امید وار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔راولپنڈی سے سردار نسیم ،سیالکوٹ سے توحید اختر اور ساہیوال سے اسد بلوچ بلا مقابلہ لارڈ میئر منتخب ہوئے۔دوسری جانب نو منتخب لارڈ میئر لاہور مبشر جاوید کی اہلیت کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہو گئی۔

پارٹی قیادت کے کہنے پر 34 لاشیں گرائیں …. 2 گرفتارملزمان کا خوفناک انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) سانحہ 12 مئی میں متحدہ قیادت کے کہنے پر مجموعی طور پر ہم نے 34 شہریوں کو قتل کیا ۔ یہ بات حساس اداروں کے زیر حراست دو ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا۔ ملزمان نے مزید کہا کہ ہمیں افتخار چوہدری کو کراچی آنے سے روکنے کے احکامات بھی ملے تھے۔ سنسنی خیز انکشافات متوقع۔

جنرل راحیل شریف کا ریٹائرمنٹ سے پہلے ایسا کارنامہ کہ پاک فوج ہمیشہ فخر کرے گی…. جان کر آپ بھی داد دیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جنرل راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ سے قبل پاک فوج کیلئے بغیر رن وے سپر مشتاق طیارے کو تیار کرنے کی ہدایت دی تھی جس پر سو فیصد عمل درآمد ہوا۔ ایئر مارشل ارشد ملک نے بتایا کہ ابتدائی تربیت کیلئے 3 سپر مشتاق طیارے بنائے گئے ہیں۔ یہ رن وے کے بغیر کام کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ دفاعی معاہدوں سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ ملے گا۔

دنیا میں کسی بھی اور ملک سے زیادہ آسٹریلیا میں بولنگ کرنا پسند ہے

کینز(ویب ڈیسک) وہاب ریاض پیس ہتھیار سے کینگروز کا شکارکرنے کیلیے تیار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی کنڈیشنز سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں،رفتار کے ساتھ بہتر لائن اور لینتھ برقرار رہے تو وکٹیں ملتی ہیں،پاکستانی اٹیک میں ہر طرح کی ورائٹی موجود ہے، بیٹسمین بھی جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ٹور میچ کے دوسرے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وہاب ریاض نے کہا کہ میزبان الیون کیخلاف اپنی برق رفتاری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیل اینڈرز کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوگیا،دنیا میں کسی بھی اور ملک سے زیادہ آسٹریلیا میں بولنگ کرنا پسند ہے،یہاں اچھی رفتار کے ساتھ بہتر لائن اور لینتھ برقرار رہے تو وکٹیں ملتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی اٹیک میں ہر طرح کی ورائٹی موجود ہے،میرے پاس اسپیڈ ہے، محمد عامر سوئنگ اور راحت علی سیم بولنگ مں ماہر ہیں، عمران خان بھی حریفوں کو پریشان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہاں باو¿نس والی پچز پر بولرز کو اچھی کارکردگی دکھانے تو بیٹسمینوں کو رنز بنانے کا موقع ملتا ہے، پیسر نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ برسبین کی پچ اور کنڈیشنز دیکھ کر فیصلہ کرے گی کہ 3یا 4پیسرز کو شامل کرنا ہے تاہم جس کو بھی موقع ملے گا، بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریگا۔ایک سوال پر وہاب ریاض نے کہا کہ ٹور میچ میں گوکہ رن ریٹ اچھا نہیں رہا لیکن بیٹسمین کریز پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتے رہے، ا?سٹریلیا میں جارحانہ کرکٹ کھیلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،ٹیسٹ میچ شروع ہوا تو ہماری حکمت عملی بھی مختلف ہوگی،ہمارے پاس ایسے بیٹسمین موجود ہیں جو جوابی حملہ کرتے ہوئے حریف کو دباو¿ میں لاسکیں۔ انھوں نے کہا کہ یاسر شاہ بہتری محسوس کررہے ہیں، امید ہے کہ فٹ ہوکر پہلے ٹیسٹ کیلیے دستیاب ہونگے۔

ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کی کوئی واضح شکل موجود نہیں

کراچی (ویب ڈیسک)ائیرچیف مارشل سہیل امان کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے حوالے سے مسلح افواج کا کردار نہایت اہم ہے جب کہ دشمنوں کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں۔کراچی میں پاک بحریہ کی 106 ویں اور15 ویں شارٹ سروس کورس کی پاسنگ آو¿ٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ائیرچیف مارشل سہیل امان نے کہا کہ کیڈٹس شاندارروایات برقراررکھنے کیلئے کوشاں رہیں اورملکی سرحدوں کی جان سے بڑھ کرحفاظت کریں، پاک بحریہ ملک کی دفاع کیلئے کوشاں ہے، ملک کے دفاع کیلئے مسلح افواج کا کردارانتہائی اہم ہے، پاکستان کواندرونی اوربیرونی محاذوں پربڑے چیلنجزکا سامنا ہے لیکن ہم کسی بھی مہم جوئی کا جواب اچھی طرح دینا جانتے ہیں اوردہشتگردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ایئرچیف مارشل سہیل امان کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری کیلئے گوادرپورٹ بہت اہمیت رکھتا ہے، سی پیک کے تناظر میں ساحلی پٹی کی سکیورٹی مزید اہم ہوگئی ہے، ہمسایہ ملکوں سے پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں جب کہ دشمنوں کو شکست دینے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اپنی تاریخ کے نازک دورسے گزررہا ہے، روایتی خطرات غیر متوازن انداز میں بڑھتے جارہے ہیں جب کہ ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کی کوئی واضح شکل موجود نہیں۔پاسنگ آو¿ٹ پریڈ میں 70 افسران نے کمیشن حاصل کیا اورایئرچیف نے پاک بحریہ میں کمیشن حاصل کرنے والوں کو مبارک باد دی، پاس آو¿ٹ ہونے والوں میں 2 خواتین کیڈٹس سمیت یمن کا ایک کیڈٹ بھی شامل ہے۔

اقتدار کی تکون

صوفیہ بیدار……..امروز
اقتدار کی تکرار، توازن کی تکون اور تین بڑے ستون آج کل پھر طاقت کا کھیل کھیلتے نظر آ رہے ہیں، ایک قصہ تو نمٹ گیا، ایک چل رہا ہے، میاں نواز شریف گزشتہ برسوں میں جن بحرانوں سے گزرے اور سرخرو ہوئے وہ کسی عام بندے کے بس کی بات نہیں تھی یہ کرسی کرسی نہ تھی ایک ”زلزلہ“ تھی، ایک آندھی تھی جو ڈولتی رہی۔ اس اثنا میں صحت نے بھی ساتھ نہ دیا، دل دغا دیتا رہا، ہزاروں معالج اور بہترین سہولیات میں بھی دل کب مطمئن ہوتا ہے، دھڑکن اب معتدل ہوتی ہے؟ یہی کچھ نہیں کہ پانامہ بھی نکل آیا اگر صرف انسانی و اعصابی سطح پر ایک انسان کو دیکھیں تو اتنے بحرانوں سے تنہا نمٹنا کم حوصلے کی بات نہیں۔ مزید برآں ان کی جو تصویر سابق چیف آف آرمی سٹاف کے پہلو میں نظر آتی رہی اور ایک مخصوص ویڈیو جس میں دونوں بے تاثر چہرے کے ساتھ ہلکے ہلکے سرہلایا کرتے، تمام محبتوں کے پول کھولنے والی تھی۔ ایک مرتبہ ہیلری نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میاں بیوی والے ہیں تو یہ بحث شروع ہوگئی کہ بیوی کا کردار ظاہر ہے، پاکستان کا ہی ہوگا کہ امریکہ تو شوہروں کی طرح دہلاتا اور یکطرفہ سیاست کرتا ہے، مذکورہ ویڈیو میں یہ کمال تھا کہ کسی بھی رشتے میں بندھی ہوئی نظر نہ آتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے دو بے نام سیاروں کے لوگ آمنے سامنے بیٹھ گئے ہوں اور دونوں میں سے کون جائے گا اس پر شرط لگانے والے 50/50 کی ریشو والے پریشان ہوں، خیرگزری جمہوری اقدار میں کیانی صاحب کے بعد راحیل شریف بھی قانون کی بالادستی کو تسلیم کرتے رخصت ہوئے، جرنیلوں پر بھی بڑے اخلاقی اور خاندانی نجابت کے وزن دار بوجھ ہوتے ہیں اسی لئے ہمیشہ سسٹم کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیے کہ سسٹم کی سلامتی میں زیادہ تر تعمیر ہوتی ہے، تخریب بہت کم ہوتی ہے۔ پانامہ میں میاں صاحب کا زیادہ پریشان نہ ہونا ایک تو میاں صاحب کے مزاج کی وجہ سے ہے دوسرے ملکی بحرانوں کی تاریخ کی وجہ سے، تیسرے مذکورہ بالا طاقت کی تکون کے باہمی متوقع فیصلوں کی وجہ سے ویسے بھی زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا،کا فلسفہ بیگانہ غم کر دیتا ہے۔ پاکستان کے گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ بحران دیکھنے والے حکمران و سیاستدان میاں نواز شریف ہیں۔ بے تحاشا اتار چڑھاﺅ سہہ کرکامیاب نکلنے نے انہیں راسخ اور اپنے رستے پر چلنے والا مسافر بنا دیا ہے۔
کبھی کبھی پرانی یادگاروں پر پھول اور چادریں چڑھائی جائیں تو میاںصاحب پہلے والے دور کے میاں صاحب نظر آنے لگتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر قائداعظم یونیورسٹی میں نیشنل سنٹر کو پروفیسر عبدالسلام سنٹر (فار فزکس) کا نام دیا تو دل کوکئی روشن چہرے یادآ گئے کہ یہ ایک ایسی اچھی ابتدا ہے جس میں ”فنانس“ والوں کو کبھی کوئی OBJECTION نہیں ہو گا‘ لہٰذا وزیراعظم اگر چاروں صوبوں کے اکابرین کو ان کے صوبے کی بجائے دوسرے صوبے میں یادگاری تختیاں بھی لگوائیں تو دانشوروں میں نہ صرف یکجہتی پیدا ہو گی بلکہ سوچ بھی متفقہ اور مربوط لگے گی اور وفاق کی اکائی کی علامت ہو گی۔ ضمناً کبھی اچھی بات بھی ہو جاتی ہے۔ موضوع سخن نہ تھا کہ جرنیلوں کی اپنے وقت پر رخصتی سمیت اعلیٰ SENIORITY کی روایت کو پورا ہونا باقی ہے۔ بعض اوقات FITNESS FOR JOB کا مسئلہ ہوتا ہے۔ مرکزیت کے جتنا قریب رہا جائے اچھا ہے۔
مرکز سے اپنے زندگی بھٹکی ہوئی تو ہے
اک موج عرض حال میں الجھی ہوئی تو ہے
یہ درست کہ دنیا میں ”چیزیں“ تیزی سے اپنی اصلی جگہ پر بیٹھ رہی ہیں۔ مشرق کا شطرنج ویسے ہی زیادہ الجھا ہوا ہے یہاں سب کچھ بہت بعد میں ہوتا ہے۔ ہم تقلید میں بھی بہت پیچھے ہیں ان تمام عیوب و محاسن میں اس الجھی ہوئی ریاست کو ابھی تک درست (مکمل حد تک) چلانے والا تو ایک خواب ہے اور اس خواب کا بھی وہی حشر متوقع ہے جو باقی خوابوں کا ہوا تاہم میاں نوازشریف اپنی پوری ساخت میں اس وقت فرد واحد ہیں جو موجودہ بے ترتیب سیاست کی پوری باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی ان کا نعم البدل موجودہ لیڈروں میں ہے تو ضرور انہیں تبدیل کیا جائے (بذریعہ ووٹ) اگر نہیں تو سسٹم کی بحالی و روانی کیلئے کچھ وقت بغیر ٹینشن کے گزارنے دیا جائے کہ گزشتہ سارا وقت سکینڈلز کی نذر ہوا‘ یہ جانے بغیر کہ سارا وقت عوام کا تھا۔
عدالتیں اپنا PROSSES جاری رکھیں‘ رپورٹنگ درست ہو‘ ادارے اپنے دائرہ¿ کار میں اپنے امور انجام دیں‘ امور سلطنت میں سکینڈلز مداخل نہ ہوں‘ سزا اور جزا کے معیارات ہوں تو کوئی کسی پر غیرضروری انداز میں اثرانداز نہیں ہو سکتا۔٭٭

سپریم کورٹ سے توقعات

طاہر نعیم چودھری…. زاویہ نگاہ
سپریم کورٹ کے پانامہ پر از خود نوٹس لینے کے بعد ملک میں سیاسی ہیجان اور تناﺅ میں واضح کمی واقع ہوئی تھی کیونکہ قوم کو یہ تواقع تھی کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے نوٹس لینے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ عدالت نے بھی کیس کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیئے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ معزز عدات بھی معاملے کو حتمی نتیجے تک پہنچانا چاہتی ہے مگر اسے قوم کی بدقسمتی کہا جائے یا ہماری سیاسی جماعتوں کی قانون سے فہم کی کمی کہ اگر تحریک انصاف قانونی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے قوم کے ذہن میں یہ واضح کرنے پربھرپور قوت صرف کرتی رہی کہ پانامہ انکشاف کے بعد وزیراعظم مجرم ثابت ہوچکے اور اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کسی قانونی کارروائی کی ضرورت ہی نہیں اور خود سے بغیر دستاویزی شواہد کے یہ بھی طے کرلیا کہ لندن میں وزیراعظم کے خاندان کی جائیدادیں غیر قانونی پیشہ بنائی گئیں ہیں اور وزیراعظم کے عہدے پر رہنے کا قانونی جواز ہی نہیں رہا حالانکہ ایسی بھی بات نہیں کہ تحریک انصاف میں قانون کا ادراک رکھنے والے افراد کی کمی تھی مگر اب تک عدالتی کارروائی سے ہی محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے قانونی پہلوﺅں کی بجائے اخلاقی جواز کی بنا پر وزیراعظم کو عدالت کی بجائے عوام کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی اور تحریک انصاف کی دلچسپی پانامہ کے قانونی پہلوﺅں سے زیادہ سیاسی شطرنج پر رہی۔ یہ تو بھلا ہو عدالت کا کہ جس طرح معزز عدالت نے از خود نوٹس لیا اس طرح معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے بھی خود ہی حکومت اور تحریک انصاف کی رہنمائی بھی کی اور عدالت کی طرف سے بارہا فریقین کی توجہ کیس کے قانونی پہلوﺅں کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی گئی مگر تحریک انصاف اور حکومت کیس کی سماعت کے دوران بھی عدالت کی بجائے میڈیا میں یہ قانونی جنگ لڑنے میں مصروف رہے ۔
تحریک انصاف کی قانونی تیاری کا یہ عالم تھا کہ معزز عدالت کو فراہم کردہ شواہد کے بارے میں سخت ریمارکس دینا پڑے۔ حکومتی تیاری بھی کچھ بہت زیادہ مختلف نہ تھی۔ میڈیا میں تحریک انصاف کو رگیدنا حکومتی ٹیم کی ترجیح نہ ہوتی تو عدالت کو وزیراعظم کی ٹیم کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ملکیت تسلیم کرنے کے بعد بار ثبوت الزام علیہ کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کی قانونی ٹیم کی مقدمہ کی تیاری کا یہ عالم تھا کہ ماہرین قانون کو یہ بھی علم نہ تھا کہ قانون شہادت آرڈر 1984 شق 45 کے سب سیکشن5 کے تحت ملکیت تسلیم کرنے کے بعد ذرائع کو قانونی اور جائز ثابت کرنا وزیراعظم کے خاندان کے وکلاءکے ذمہ تھا کیونکہ اے آئی آر 1959 صفحہ نمبر 504 تا 511 کے مطابق بار ثبوت الزام علیہ کی ذمہ داری بنتی ہے اور جب عدالت نے وزیراعظم کے وکلاءکو یہ قانونی پہلو یاد دلوایا تو ان کو تسلیم کرنا پڑا کہ 40 سال پرانے ثبوت وہ پیش نہیں کرسکتے۔ جب فریقین کی مقدمہ کی تیاری کا یہ عالم ہو تو عدالت سے تواقع رکھنے کا جواز ہی کیا رہ جاتا ہے کہ وہ ادھورے شواہد میں کوئی فیصلہ صادر کرے۔ عدالت کے کمیشن بنانے کی تجویز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان حالات میں عدالت نے مقدمہ جنوری تک ملتوی کردیا ہے اور ایسا کرنا چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ اور سردیوں کی عدالتی تعطیلات کی وجہ سے عدالتی مجبوری تھا۔مگر اس تمام کارروائی میں عوام کی حالت تشویشناک ہی رہی۔
تین طرح کے تاثرات پاکستانی معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ قارئین محترم مجھے قوی یقین ہے کہ آپ مجھ سے اس سلسلے میں ضرور اتفاق فرمائیں گے۔ وہ تین تاثرات کیا ہیں۔
٭معاشرہ بحیثیت قوم کرپٹ ہوچکاہے یعنی ہم مجموعی طور پر کرپشن کو اپنا نصب العین بناچکے ہیں۔
٭ہمارے ہاں طاقتور قانون سے بالا تر ہیں اس کی وضاحت میں بھی یہ تاثر، سوچ معاشرے میں راسخ ہے کہ دولت مند ہو یا مقتدر ان کو کسی بھی قسم کے جرم میں گرفت میں نہیں لایا جاسکتا۔جرم بڑے سے بڑا ہو یا چھوٹے سے چھوٹا اس کے ارتکاب کرنے والے کو دیکھا جائے گااگر وہ صاحب حیثیت مال و زر رکھتا ہے یا حکومتی یا سماجی عہدہ رکھتا ہے تو ”ستے ای خیراں“ کوئی پوچھنے والا نہ ہے اور نہ ہی ایسے مجرم کی سزا کا کوئی امکان پاکستانی معاشرے میں ممکن ہے۔
٭ملک پاکستان میں یہ بات بھی ہر جگہ اور ہر سطح پر نہ صرف بیان ہوتی ہے بلکہ قوم کا فرد روز پڑھتا سنتا اور دیکھتا ہے کہ پاکستانی ادارے فیل ہوچکے ہیں۔ کوئی ادارہ نہ تو صحیح روح، مقصد اور مشن کے مطابق کام کررہا ہے۔یہ کچھ یوں بھی وزن رکھتی ہے کہ آپ وطن عزیز کے کسی بھی ادارے کے سربراہ کے صرف ایک ہفتہ کے دئیے گئے بیانات کو اٹھا کر دیکھ لیں وہ اپنے ادارہ کی زبوں حالی کے بارے میں خود گہرافشانی کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔
مذکورہ سوچیں اس وقت اس قدر پختہ ہوچکی ہیں کہ اب کوئی لیڈر چوراہے میں کھڑا ہوکر ملک پاکستان میں اصلاح کی بات کرتا ہے تو عوام الناس ڈر جاتے ہیں کہ یا اس کو مروا دیا جائے گا نہیں تو یہ پاکستانیوں کو مار دے گا۔یقین بہت دور کی بات ہے معمولی سا احساس بھی پیدا نہیں ہوتا کہ شاید یہ سچ کہہ رہا ہے۔وطن عزیز کی سب سے اعلیٰ عدالت نے کچھ معاملات اپنے ہاتھ میں لئے ہیں امید کی ایک چھوٹی سی کرن دل میں ہے۔ اخبارات بڑی توجہ سے پڑھے جارہے ہیں ٹی وی ٹاک شو بھی بڑے انہماک سے دیکھے جارہے ہیں انسانی عقل بھی اپنی چاروں سمتیں یکجا کرکے نئے نئے افکار ترتیب دے رہی ،اب دیکھئے بات کہاں جاکر ٹھہرتی ہے۔
اللہ رب العزت نے بھی اپنے بندوں کو سب کچھ دے کر آخرت کے محاسبہ کا قانون رکھا ہے یعنی آفاقی نظام بھی جوابدہی سے خالی نہیں ہے ۔قیامت کے دن کا تصور اور پھر جنت اور دوزخ یعنی جزا اور سزا کا باقاعدہ اعلان کررکھا ہے اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ایسا یقینا ہوگا۔ یہ ساری بات کہنے کا مطلب ہے کہ کیا معاشرے میں یہ تاثر تھوڑا سا کم ہوگا کہ ہم بحیثیت قوم تھوڑے سے کم کرپٹ ہوئے ہیں۔کیا معاشرے میں یہ سوچ اپنی ارتقاءکی طرف سفر شروع کرے گی کہ طاقتور قانون کے دائرے اور گرفت میں آسکتا ہے؟ یہ بھی سوال اب بڑی شدت سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے کہ کیا ہمارے ادارے فعالیت کے سفر پر گامزن ہوچکے ہیں؟ اب دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز کے عوام الناس کے تاثرات میں کمی آنا شروع ہوتی ہے یا پھر خدانخواستہ مزید ناامیدی اور مایوسی ہمارا مقدر بنتی ہے۔اس بات کا فیصلہ آئندہ برس جنوری میں عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔٭٭